دانائی کیسے سیکھی جائے؟


مجھے زندگی میں بہت سے ایسے لوگ ملے جن کے پاس علم بھی تھا ’ذہانت بھی‘ دولت بھی تھی ’شہرت بھی لیکن دانائی نہیں تھی۔ میں ایسے لوگوں سے بھی ملا ہوں جو شاعر بھی تھے‘ ادیب بھی لیکن دانشور نہیں تھے۔ میں کبھی کبھار سوچتا ہوں کہ دانائی کیا ہے اور کیسے آتی ہے؟ میرا خیال ہے کہ ذہانت تو پیدائشی ہوتی ہے ’علم سکول‘ کالج اور یونیورسٹی میں سیکھا جا سکتا ہے لیکن دانائی ڈگریوں سے حاصل نہیں ہوتی۔ دانا لوگ زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں۔

وہ صاحب الرائے ہوتے ہیں۔ وہ زندگی کے راز جانتے ہیں۔ وہ زندگی کے بارے میں نایاب بصیرتیں رکھتے ہیں۔ ان کے تجربات اور مشاہدات ان کے رہنما ہوتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ دانائی کا تنہائی سے ’اپنے ساتھ وقت گزارنے سے‘ زندگی کے بارے میں غور و فکر کرنے سے اور دولت و شہرت سے بے نیاز ہونے سے گہرا تعلق ہے۔ دانا لوگ اندر سے درویش ہوتے ہیں۔

میری نانی اماں ان پڑھ تھیں لیکن دانا تھیں۔ وہ کم گو تھیں۔ وہ مسکراتی رہتی تھیں۔ کبھی سخت لہجے میں بات نہیں کرتی تھیں۔ بچوں کا احترام کرتی تھیِں۔ وہ محبت کا سمندر تھیں۔

میں نے اپنی زندگی میں ان پڑھ دانا اور پڑھے لکھے جاہل دیکھے ہیں۔ بعض کو تھوڑے سے علم نے متکبر بنا دیا اور بعض کو تھوڑے سے فن نے نرگسیت کا شکار کر دیا۔ دانا لوگ تو پھلدار درخت کی طرح جھکے ہوتے ہیں تا کہ عوام و خواص ان کے دانائی کے پھلوں سے مستفید ہو سکیں۔ وہ عوام کو اپنے علم اور ذہانت سے مرعوب کرنے کی بجائے ان کی خدمت کرتے ہیں کیونکہ وہ انسانیت کی خدمت کو عبادت سمجھتے ہیں۔

میں جب دانائی کے بارے میں سوچتا ہے تو مجھے ایک کہانی یاد آتی ہے۔ آپ بھی سن لیں۔ ایک بادشاہ کے دربار میں بہت سے نوجوان وزیر تھے جن کے پاس کالج اور یونیورسٹی کی ڈگریاں تھیں لیکن وہ ایک ان پڑھ بزرگ وزیر سے حسد کرتے تھے کیونکہ بادشاہ اس بزرگ وزیر کی نوجوان وزیروں سے زیادہ عزت کرتا تھا۔

ایک دن بادشاہ نوجوان وزیروں کے ساتھ محل میں بیٹھا تھا کہ محل کے باہر کچھ شور سنائی دیا۔

بادشاہ نے ایک نوجوان وزیر سے کہا ’باہر جا کر پتہ کرو کس چیز کا شور ہے؟ ‘

وزیر باہر گیا اور چند ہی لمحوں میں واپس آ کر کہنے لگا ’ایک بارات جا رہی ہے‘ ۔

بادشاہ نے پوچھا ’کہاں جا رہی ہے؟ ‘

نوجوان وزیر پھر گیا اور لوٹ کر کہنے لگا ’فلاں گاؤں جا رہی ہے۔ ‘

بادشاہ نے پوچھا ’کہاں سے آ رہی ہے؟ ‘

نوجوان وزیر پھر باہر گیا اور واپس آ کر کہنے لگا ’فلان گاؤں سے آ رہی ہے۔ ‘

بادشاہ میں پوچھا ’دولہا کس کا بیٹا ہے؟ ‘

نوجوان وزیر پھر گیا اور واپس آ کر کہنے لگا ’دولہا موچی کا بیٹا ہے‘

بادشاہ نے پوچھا ’دلہن کس کی بیٹی ہے؟ ‘

نوجوان وزیر پھر گیا لوٹا تو بولا ’دلہن ترکھان کی بیٹی ہے‘

باقی نوجوان وزیر یہ سب سوال و جواب بڑی بے چینی سے دیکھ رہے تھے۔

اسی دوران بزرگ وزیر آ گیا۔ بادشاہ کو بزرگ وزیر کی دانائی کو ثابت کرنے کا سنہری موقع مل گیا۔ اس نے نوجوان وزیر کو بیٹھنے کو کہا اور بزرگ وزیر سے پہلا سوال کیا ’کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ باہر کس چیز کا شور ہے؟ ‘

بزرگ وزیر باہر گیا اور سب نوجوان وزیر بڑی بے چینی سے انتظار کرنے لگے کہ بزرگ وزیر کیا پیغام لے کر آتا ہے۔

بزرگ وزیر کافی دیر کے بعد آیا اور سب کے سامنے کہنے لگا ’بادشاہ سلامت۔ ایک بارات ہے۔ فلاں گاؤں سے آ رہی ہے اور فلاں گاؤں جا رہی ہے۔ دولہا موچی کا بیٹا ہے اور دلہن ترکھان کی بیٹی ہے۔ بارات میں ایک سو باراتی شامل ہیں۔ یہ بارات تین دن کے بعد لوٹے گی۔ وزیر کی بادشاہ سلامت سے درخواست ہے کہ جب بارات لوٹے تو وہ دلہا دلہن اور سب باراتیوں کو تحفے دیں اس طرح عوام کے دلوں میں بادشاہ سلامت کی قدر کچھ اور بڑھ جائے گی۔ ‘

بزرگ وزیر کی باتیں سن کر نوجوان وزیر بہت شرمندہ ہوئے اور بادشاہ بہت خوش ہوا کہ اسے بزرگ وزیر کی دانائی ثابت کرنے کا موقع ملا۔

دانائی ایک فن ہے جو کتابوں میں نہیں ملتا۔ یہ فن اساتذہ کی خدمت ’بزرگوں کی قربت اور دانا لوگوں کی صحبت سے ملتا ہے۔ دانا لوگ زندگی کے رازوں سے واقف ہوتے ہیں۔ ان کی نطر میں گہرائی اور گیرائی ہوتی ہے۔ ان کی بصارت بصیرت کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔ ان کی شخصیت میں ٹھہراؤ ہوتا ہے‘ تحمل ہوتا ہے ’بردباری ہوتی ہے‘ دھیرج ہوتی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ انہیں زندگی میں کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔ اسی لیے وہ زندگی میں دانائی کے فیصلے کرتے ہیں۔

اب آپ خود سوچیں کہ آپ کی اپنی زندگی میں کتنے دانا مردوں اور عورتوں سے ملاقات ہوئی ہے؟

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail