زینب سے فرشتے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دو ہزار بارہ یا تیرہ کا ذمانہ تھا جب میرے دونوں بچے ننھے منے خرگوشوں جیسے تھے۔ ہنستے مسکراتے ماں کے ہاتھ کے سجے سنورے ہر وقت فوٹو بنوانے کے لئے تیار۔ ہمارا کوالٹی ٹائم اکثر بچوں کی فوٹوگرافی کی نظر ہو جاتا۔ ان کی مسکراہٹوں، خوبصورت حرکتوں کی تصویر کشی میرا مرغوب مشغلہ تھا۔ ایک ایک نشست میں سو پچاس تصاویر بناتی اور سب کی سب فیس بک میں بھر دیتی۔ جب تک کہ کچھ آرٹیکلز اور رپورٹس میری نظر سے نہ گزریں۔ یہ زینب اور قصور کے بچوں سے بہت پہلے کی بات ہے۔

وہ کالمز اور رپورٹس پیرنٹنگ کے انٹرنیشنل میگزینز میں چھپے تھے اور یہ نہ پاکستان کی کہانی تھی نہ یو اے ای کی۔ یہ امریکہ اور برطانیہ کی کہانیاں تھیں۔ ان جدید دنیا کی امریکی انگریز ماؤں کی کہانیاں جن کے چھ سات سالہ بچے سکولوں کے سامنے سے اٹھائے گئے، ان کے ریپ کیے گئے، جسموں کو بیدردی سے کاٹا گیا اور مار کر کہیں پھینک دیا گیا۔ میں نے ان ماؤں کے نوحے پڑھے ان کے آنسو اپنی آنکھوں سے بہائے۔ یہ ہزاروں واقعات نہ تھے لیکن چند ایک بار یہ واقعات ان رسائل میں مجھے دکھائی دیے۔

ان ڈارک ویب سائٹس کی بات ہوئی جن کے لئے بچے اغوا کیے جاتے ہیں، جس طرح سے سوشل میڈیا پر ان کو ٹریک کیا جاتا ہے، کیسے سکول اور گلیوں میں ان کا تعاقب کیا جاتا ہے ”ان مجرموں کی بات ہوئی جو معصوم خون کے پیاسے ہیں اور ان کے خون سے لذت حاصل کرنے کے لئے ہر قیمت ادا کرنے کو تیار رہتے ہیں۔ ان گینگز کے شکنجے سے امریکی ماؤں کے بچے تک محفوظ نہ تھے۔ ان ماؤں کی التجائیں میں نے سنیں اور یو اے ای میں بیٹھے ان پر عمل کیا۔

جب ان ماؤں نے التجا کی کہ سوشل میڈیا پر اپنے بچوں کی تصاویر، چیک ان، ان کے سکول کے نام، ایڈریسز اور لوکیشنز دکھانا بند کر دیں تو میں ان کے ساتھ کھڑی ہوئی چونکہ میں بھی اک ماں تھی گرچہ ان کے ملک اور علاقوں سے بہت دور تھی مگر بچوں کا معاملہ تھا جس میں غفلت ایک جرم جیسی تھی۔ میں نے فیس بک سے تمام تر البم لاک کیے اور بچوں کی تصاویر آپ لوڈ کرنا بند کر دیں۔ ڈیپی پر اپنے بچوں کی تصاویر لگانے کی بجائے اپنی تصویر لگانی شروع کی۔ جب چلے تو سب سے آگے ڈھال بن کر ماں چلے بچے نہیں۔ اور بچوں کی ہر طرح کی معلومات فیس بک پر دینی ختم کر دی۔ وہ امریکہ کی کہانیاں تھیں میں متحدہ عرب امارات کے محفوظ شہر ابوظہبی میں تھی مگر مجرم کہیں بھی ہو سکتے ہیں، وحشی کوئی بھی ہو سکتا ہے تو رہنمائی اور احتیاط کا سبق ہمیشہ لے لینا چاہیے۔

اس کے بعد یہ واقعات سالوں بعد دو ہزار اٹھارہ میں پاکستان میں زینب کیس میں میری نظر سے گزرے، بالکل اسی طرح کا واقعہ، چھ سالہ بچی، اغوا، ریپ، جسم پر زخم اور قتل۔ معاشرہ ایک بار کانپ کر رہ گیا، ہر ذی شعور سراپا احتجاج بن گیا۔ ایک گلی سے مجرم پکڑا گیا، اس کا نام نہاد سا ٹرائل ہوا اور پاکستانی لاعلم عوام کی تسلی و تشفی کی خاطر اسے پھانسی چڑھا دیا گیا۔ ایک نامور صحافی نے اس پر ایک پورا پروگرام کیا، اس کالے دھندے میں شریک گینگز کی نشاندھی کی، ان کی بابت وہ سب جائز معلومات عوام کو دینے کی کوشش کی مگر خود عدالتوں میں رسوا ہو کر رہ گیا۔ گلی سے پکڑا ایک مجرم پھانسی کے تختے تک تو پہنچا مگر جرم اور مجرم اپنی تماتر سچائیوں کے ساتھ اپنی جگہ محفوظ رہے۔

مجھے یہ نہیں معلوم کہ پاکستان میں یہ دھندہ کس کی نگرانی میں ہو رہا ہے، نہ یہ معلوم ہے کہ کون سی پارٹی، یا سیاستدان پاکستان کے بچوں کا خون بیچ رہا ہے۔ مجھے اب تو یہ بھی یاد نہیں کہ وہ رسالے کون سے تھے جہاں میں نے یہ واقعات پڑھے اور بہت تفصیل سے ان کالے کرتوتوں والے عالمی گروہوں کے بارے میں جانا۔ مجھے آج کوئی عدالت کے کٹہرے میں بلا لے تو میرے پاس اپنی بات کی گواہی کے لئے سوائے میری یاداشت کے کوئی ثبوت بھی نہیں۔ مگر جب میں نے مزکورہ صحافی کا پورا پروگرام دیکھا تو میرا دل جانتا تھا کہ یہ سچ ہے۔ خدا جانے سچ کو سرعام جھوٹ کیسے ثابت کر دیا جاتا ہے۔

ان جرائم پیشہ کالے دھندے میں ملوث گروہوں کو یقینا تیسری دنیا کے غریب بے سہارا عوام کے بچے کوڑیوں کے مول پڑتے ہوں گے جہاں ہر سال لاکھوں بچے بغیر ضرورت کے پیدا ہو جاتے ہیں اور خودرو جھاڑیوں کی طرح پل جاتے ہیں۔ جہاں والدیں، معاشرہ اور حکومتیں اکثر اپنی ذمہ داریاں ایک دوسرے کے سر منڈھتی رہتی ہیں۔

انٹرنیٹ کی دنیا نے سب آسان کر دیا ہے۔ قصور اور اسلام آباد چھوڑیں بہاولپور، رحیم یار خان یا فورٹ منرو سے بھی بچے اغوا کر کے ان گروہوں کے ہاتھ بیچنے کے لئے صرف ایک انٹرنیٹ ضروری ہے اور دوسرا دلال۔ اور یہ جرم کسی بھی گلی سے کوئی بھی بچہ پکڑ کر سرانجام دیا جا سکتا ہے۔ اور ایسے ملکوں سے جہاں پانچ پانچ سو پر قتل ہو جاتے ہوں تو بہت ہی حقیر رقم کے بدلے ممکن ہے۔ کسی کا ایک بچہ ہی تو پکڑ کر دوسرے ہاتھ دینا ہے پھر پیسے جو بھی ہاتھ آئیں مفت کے۔

اس میں زینب کیس کا ایک عمران نہیں ہزاروں عمران ملوث ہوں گے جو چند ہزار یا لاکھ میں اپنے آس پاس والے عزیزوں کے بچے بچیاں پکڑ کر حسب تعداد آسانی سے فروخت کر سکتے ہیں۔ اور ان کو اس کام میں ملوث کرنے والے کسی منظم گروہ کی موجودگی سو فی صد یقینی ہے۔ کسی کی سرپرستی کے بغیر فیس بک پر نعرے لگانے والی یہ قوم اکیلے یہ جرم دریافت بھی نہیں کر سکتی۔ کر پاتی تو عمران کی گرفتاری اور پھانسی کے ساتھ انصاف ہو جانے پر یقین کر کے نہ بیٹھ جاتی۔

ورنہ یہ کس طرح سے ممکن ہے کہ مختلف براعظموں میں ایک ہی نوعیت کے اور ایک ہی انداز کے جرم ہو رہے ہوں اور ان کے پیچھے کوئی طاقتور گینگ نہ ہوں۔ ممکن یہ بھی نہیں پاکستانی عوام کی اکثریت کے ساتھ بڑے اداروں میں بیٹھے بڑے لوگ بھی ان کی موجودگی سے ناواقف ہوں ہاں، اس پر کمبل ڈالے چھپائے رکھنا چاہتے ہوں تو بات اور ہے۔

قصہ مختصر یہ کہ یہ مضمون حکومت یا عدالت کے لئے نہیں ہے یہ عوام لناس کے لئے ہے۔ جب تک کہ کوئی عمر اتر کر آپ کی گلیوں کے پہرے نہ دینے لگے، جب تک کہ عمرانوں کے ساتھ قانون کے ہاتھ طاقتور مجرموں تک نہ پہنچنے لگیں، کم سے کم یہ جانیے کہ یہ کسی گلی محلے میں پلنے والا جرم نہیں۔ یہ اس کالے دھندے میں ملوث ایک منظم گروہ ہے جو مختلف پیمانے پر اپنے اپنے اتحادی پالتا ہے۔ جیسے ایمازون ساری دنیا کی مارکیٹ ہے ایسی ہی کچھ خفیہ مارکیٹس پوری دنیا میں بچوں کی زندگیوں کی خرید و فروخت اور ان کی موت بانٹنے میں ملوث ہیں۔ ایسے میں یہ بہت ضروری ہے کہ آپ کا علم، احتیاط، اور سمجھداری کا معیار بلند تر ہو۔ جب تک کوئی پاکستان میں آنے والی کوئی معجزاتی تبدیلی قانون کے ہاتھ اتنے مضبوط اور لمبے نہیں کر دیتی کہ وہ ہر مجرم کی گردن تک جا پہنچے کچھ باتیں پلو سے باندھ کر رکھیں۔

اپنے بچوں کو گھروں میں محفوظ رکھیں اور اپنی نگرانی میں رکھیں۔ گھر چھوٹا ہونے یا دو گھڑی خموشی اور سکون کی خاطر ان کو بغیر کسی بالغ نگران کے سڑک پر نہ نکالیں۔ گلی میں کوئی کزن، محلے دار، رشتے یا نام کا چاچا ماما ایسے مواقع سے فایدہ اٹھا سکتا ہے۔

اپنے گھروں میں غیر متعلقہ افراد کا داخلہ ہمیشہ ممنوع رکھیں اور متعلقہ یا قریبی رشتے داروں کے آپ کے بچے سے تعلقات کی نوعیت پر بھی ہمیشہ نظر رکھیں۔ وہ وقت گئے جب چاچا اور ماما کہہ کر بچے کو ہر کسی کی گود میں چڑھا دیا جاتا تھا۔ آج وقت ہے کہ اصل چاچے اور ماموں کو بھی محدود کیا جائے۔

اپنے بچے کو سکھائیں کہ ماں باپ اور دادا دادی، نانا نانی کے علاؤہ کسے کے گلے نہیں لگنا، کسی کی گود میں نہیں جانا۔ یہ بہت ضروری ہے کہ آپ اپنے بچوں کو قریبی عزیزوں اور غیروں میں فرق سکھائیں۔ اگر سگے چچا کو کو وہ چاچا یا انکل بلاتے ہیں تو ان ناموں سے ان کو غیر لوگوں کو بلانے کی عادت نہ ڈالیں۔ بچوں کے ذہن چیزوں کی ظاہری صورت پر چلتے ہیں اگر وہ سب کو چاچا کہے گا تو اصلی اور نقلی کی تمیز نہ کر سکے گا جو اصل نقصان کی بہت بڑی وجہ بن سکتا ہے۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •