عمران خان امریکا کی ہارپ ٹیکنالوجی کو شکست دے گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسٹاک ایکسچینج کا اس بری طرح گرنا ڈالر کی اونچی اوڑان معیشت کی تباہی اور عوام کو اس بات کا یقین کہ اب ہار یقینی ہے اور اس یقینی ہار کو مزید یقینی بناتا ہمارا میڈیا۔ ایسے میں اکثریت ان نوجوان کی ہے، جنہوں نے خان صاحب کی جوانی نہیں دیکھی، ان بچوں نے عمران خان کے بارے میں صرف کہانیاں سنی ہیں، ان کو ایکشن میں نہیں دیکھا۔

ہماری تو وہ جوانی کے دن تھے۔ پورا ورلڈ کپ ہم نے ایک ایک لمحہ دیکھا تھا۔ حتی کہ تقریباً سارے میچ ہارنے اور ورلڈ کپ سے باہر ہو جانے کے یقین کے باوجود، کوئی میچ نہی چھوڑا۔ دوسری ٹیموں کے حتیٰ کہ انڈیا کے میچ بھی پورے کے پورے دیکھے تھے۔

یہ ورلڈ کپ اتنا اہم کیوں تھا اور ہم لوگ کیوں اس کپ کے جیتنے کے لئے مرے جا رہے تھے؟ تو میں آج کے نوجوانوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ اس وقت کے سب کے سب روحانیت والے بزرگ اس بات پر متفق تھے، کہ اس ورلڈ کپ کا جیتنا صرف ایک نشانی ہو گا کہ عمران خان ہی وہ بندہ ہے جو آگے چل کر پاکستان کی تقدیر بدل دے گا۔

مجھے یاد ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ہر ممکن کوشش کی کہ پاکستان یہ ورلڈ کپ نہ جیت سکے۔ اس کے لئے ان ممالک نے ہارپ ٹیکنالوجی جو آج سب کو پتا ہے لیکن اس وقت صرف مجھے پتا تھا کیونکہ ایک بزرگ نے مجھے بتایا تھا کہ امریکہ کے پاس ایک شیطانی ٹیکنالوجی آگئی ہے، جس کے ذریعے وہ قدرتی کاموں میں بھی عمل دخل کرنے لگ گیا ہے۔

امریکہ نے اس ورلڈکپ میں ہواؤں کے رخ کو بارشوں کو کنٹرول کر کے پاکستان کو اس ورلڈ کپ سے باہر کروانے کی بہت کوشش کی لیکن روحانیت کی طاقت سے عمران خان کو مدد ملتی رہی اور پاکستان فائنل میں پہنچ گیا۔

فائنل میچ میں بھی امریکہ نے اپنی اس ٹیکنالوجی کا بہت استعمال کیا لیکن اکیلا عمران خان امریکہ پر بھاری پڑ گیا۔ مجھے یاد ہے کہ پاکستان کی ساری ٹیم دس رنز بھی نہ بنا سکی تھی، پھر خان صاحب نے ایک ہاتھ میں الیکٹرک تسبیح اور دوسرے میں بیٹ پکڑ کے جو کھیلنا شروع کیا تو دو سو انچاس رنز اکیلے ہی بنا ڈالے۔

اسی طرح باؤلنگ کے وقت بھی جب انگلینڈ وسیم اکرم سمیت سب باؤلرز کی دھنائی کررہا تھا اور تقریباً جیت چکا تھا، خان صاحب نے تب بھی تسبیح اور بال تھامی اور اگلے دو اوورز میں انگلینڈ کی پوری ٹیم آؤٹ ہو چکی تھی۔

اس میچ کے جیتنے پر جو جشن ہم نے منایا تھا وہ بھی گواہ ہے کہ صرف خان صاحب کی تصویریں اور پوسٹرز نظر آ رہے تھے پورے مال روڈ پر۔

آج کے نوجوانوں کو یہ سب بتانے کی ضرورت اس لئے پیش آئی ہے کہ ان بچوں کا ہماری طرح روحانیت پر یقین نہیں ہے۔ یہ مسلسل ہار پر نا امید ہو کر پھر سے نواز شریف یا زرداری کی طرف راغب ہو سکتے ہیں۔ جبکہ روحانیت کی خاص بات ہی یہ ہے کہ یہ مایوسی نا امیدی ناممکنات کی انتہاؤں پر جا کر کرامات کا کھیل شروع کرتی ہے۔ آپ بس خان صاحب پر یقین رکھیں، چاہے کچھ بھی ہو آپ بس یہ کہتے رہیں کہ خان صاحب ہی واحد حل ہیں، پاکستان کی تمام مشکلات کا۔ کسی کی بات نہ سنیں اور آپ یقین کریں کہ وہ وقت دور نہیں ہے، جب امریکہ اور اسرائیل اور باقی سب دشمنوں کی سازشوں کو خان صاحب کے ساتھ موجود روحانی قوتیں آسانی سے ناکام بنا دیں گی، اور جو تیل گیس سونا چاندی امریکہ ہارپ ٹیکنالوجی سے پاکستان سے چوری کر کے لے گیا ہے، وہ خود بخود پاکستان کے سمندر اور کانیں اگل دیں گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •