اگر اجازت ہو تو میں گھبرا لوں؟


بزرگ کہتے ہیں پہلے تولو پھر بولولیکن چونکہ انتخابات سے قبل ترازو والی جماعت اسلامی نے اپنی اتحادی جماعت تحریک انصاف سے علیحدگی اختیار کرلی تھی جس کی وجہ سے شاید تحریک انصاف تولنے کی صلاحیت سے محروم ہوگئی اور کپتان جی اور ان کے کھلاڑی بس بولتے ہی چلے گئے۔ چور لٹیرے جائیں گے اچھے سچے آئیں گے، روپے کی قدر میں کمی ہو تو سمجھ لو حکمران چور ہیں، این آر او نہیں ہوگا، کوئی ملک سے باہر نہیں جائے گا، پروٹوکول نہیں لیں گے، تمام بڑی عمارتیں جامعات میں تبدیل کر دی جائیں گی، تین ماہ میں ایسی تبدیلی آئے گی کہ کیا بتاؤں کیسی تبدیلی آئی گی، ملک کا لوٹا ہوا پیسہ ملک میں واپس آئے گا، آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے، آئی ایم ایف کا پیسہ اس کے منہ پر دے ماریں گے، میں ان کو رلاؤں گا اور ایک فرمان کپتان جسے سب سے زیادہ شہرت ملی میرے پاکستانیوں آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔

پھر پاکستانیوں نے عجیب منظر دیکھے جن لوگوں نے جانا تھا اور ان کی جگہ اچھے سچوں نے آنا تھا انہیں الیکٹ ایبلز کہا گیا اور وہ پارٹی میں شامل ہوئے انہیں ٹکٹ بھی ملا انتخاب بھی لڑے جیتے بھی اور وزیر مشیر بھی بن گئے لیکن چونکہ کپتان جی نے کہا تھا میرے پاکستانیوں آپ نے گھبرانا نہیں ہے تو ہم نہیں گھبرائے۔ روپے کی قدر میں اس قدر کمی ہوئے کہ ماہ رمضان میں ڈالر کے درجات بلند ہوتے چلے گئے اور ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا لیکن ہم نہیں گھبرائے۔

ڈالر کے 151 روپے کے ہوجانے کے باعث اشیا خورونوش، ادویات اور دیگر چیزوں کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا لیکن ہم پھر بھی نہیں گھبرائے۔ جامعات کے قیام کا اعلان تو ہوا لیکن نہ کوئی داخلہ پالیسی آئی نہ ہو تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز ہوا، نئی ملازمتوں کے خواب دیکھنے والے لوگ اپنے خواب آنکھوں میں سجائے بیٹھے تھے کہ ہزاروں لوگ بیروزگار ہوگئے کچھ کو بحران کے نام پر نکالا گیا، کچھ کو اشتہارات میں کمی کے نام پر اور کچھ کو تجاوزات کے نام پر بیروزگار کیا گیا۔ جن کو خان صاحب نے جیل میں ڈالنا تھا کچھ ملک سے بھاگ گئے اور کچھ اپنی پیشیوں کو رحمت کہتے مطمئن نظر آئے لیکن ہم نہیں گھبرائے۔

حکومت معاشی بحران کی وجہ سے آئی ایم ایف کے پاس بھی چلی گئی۔ اس کے نقصانات یہ ہوں گے کہ حکومت عوام کو جو سبسڈی دیتی ہو وہ ختم ہوگی مہنگائی میں اضافہ ہو بالخصوس بجلی اور گیس پر دی جانے والی سبسڈی ختم کی جائے گیاور پیٹرول کے بعد بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگا جس کا اثر تمام صنعتوں پر پڑے گا اور عام شہری متاثر ہوگا۔ خیر کچھ بھی ہو چونکے فرمان کپتان تھا کہ گھبرانا نہیں ہے تو ہم نہیں گھبرائے۔

قوم کو نوید سنائی گئی کے سمندر میں تیل کے ذخائر موجود ہیں یہ ذخائر ایران اور سعودی ارب کے ذخیروں سے بھی بڑ ے ہوں گے لہذا تمام تر مشکلات کا خاتمہ ہوجائے گا پاکستانیوں کی قسمت پھر جائے گی یہ خواب اتنے سہانے تھے کہ ٹھیلے والا بھی اپنے پتھارے کو برانڈڈ کار سمجھنے لگا اور حوا میں اڑنے لگا قوم کو اس دن کا انتظار تھا کہ کب کپتان جی اعلان کریں گے کہ میرے عزیز ہم وطنوں سمندر میں تیل کے ذخائر مل گئے ہیں اور ان کو نکالنے کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔

ایسے میں جب وزیر اعظم پشاور میں ایک تقریب میں اعلان کررہے تھے کہ تیل کے ذخائر کے حوالے سے جلد آگاہ کردیا جائے گا میڈیا پر ایک بری خبر نشر ہونے لگی کے کراچی کے قریب سمندر سے تیل کے ذخائر نہیں ملے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر نے کراچی کے قریب گہرے سمندر میں ڈرلنگ کے دوران تیل و گیس کے ذخائر نہ ملنے کی تصدیق بھی کردی۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے قریب گہرے سمندرمیں ڈرلنگ کیدوران تیل و گیس کے خائر نہیں مل سکے۔

قوم کو بتایا گیا کہ کیکڑا ون کے مقام پر 5500 میٹر سے زیادہ گہرائی تک ڈرلنگ کی گئی تاہم ذخائر نہ ملنے کے بعد اب ڈرلنگ کا کام ترک کردیا گیا ہے۔ کیکڑا ون کے مقام پر اٹلی کی کمپنی ای این آئی کی قیادت میں جوائنٹ وینچر نے ڈرلنگ کی جس میں امریکی کمپنی ایگزون موبل کے علاوہ او جی ڈی سی اور پی پی ایل شامل تھے اور ڈرلنگ کے منصوبے پر لاگت کا تخمینہ 10 کروڑ ڈالر سے زیادہ کا رہا۔

اس تمام تر صورت حال کے بعد کپتان جی اور ان کے کھلاڑیوں سے گزارش ہے کہ قوم کو تھوڑا سا گھبرانے کی اجازت دے دیں۔ سوشل میڈیا ٹیم ہر بات کی دلیل یہ دیتی ہے کہ سابقہ حکمرانوں نے بھی تو ایسے کیا تب کیوں کوئی کچھ نہ بولا تو ان کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ شاید قوم نے عمران خان صاحب کو منتخب اسی لیا کیا تھا کیوں کہ وہ سابقہ حکمرانوں سے خوش نہ تھے۔ کپتان جی کو اپنی پالیسیوں میں تبدیلی کرنا ہوگی وگرنا سمندر سے تو تیل نہ نکلا کہیں معیشت کا تیل نہ نکل جائے۔

Facebook Comments HS