کچھ تلخ اعتراضات کا تلخ جواب


ہونا تو یہ چاہیے تھا میں اس سوال کا جواب نہ دیتا کیونکہ ہر سوال کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا مگر چونکہ سوال تلخ ہے اس لئے جواب دینا پڑا۔

سب سے پہلی بات یہ تاثر دینا کہ پاکستان میں حکومت یا اداروں پر تنقید کرنا بہت مشکل کام ہے ورنہ انسان اٹھا لیا جاتا ہے یہ تاثر ہی غلط ہے۔ میں تو کہتا ہوں پاکستانی شکر کریں کہ پاکستان میں کتنی آزادی سے جی رہے ہیں۔ جب میں بیرونی ممالک کے دوستوں سے بات کرتا ہوں تو وہ لوگ کہتے ہیں پاکستان رہنے کے لئے بہترین ملک ہے۔ یہاں ہر قسم کی آزادی ہے یہاں قدم قدم پر گاڑی چیک نہیں کرانا پڑتی۔ یہاں بات کرتے ہوئے خوف نہیں ہوتا۔

حقیقت تو یہ ہے پاکستان میں اظہار رائے کی جتنی آزادی ہے شاید کے دنیا کے کسی دوسرے ملک میں ہو۔ آپ چاہے کسی بھی ملک چلیں جائیں آپ ریاستی اداروں پر اس طرح دھڑلے سے تنقید نہیں کرسکتے۔ آپ ریاستی اداروں کے خلاف کھل کر نہیں بول سکتے۔ پاکستان میں تو یہ نعرے تک لگتے ہیں کہ ”یہ جو دہشتگردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے“۔ پاکستان میں کوئی بھی ایرا غیرا نتھو خیرا اٹھ کر ریاستی اداروں پر بغیر سوچے سمجھے تنقید شروع کردیتا ہے۔ ہر روز سوشل میڈیا سے لے کر پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا تک اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اس سے بڑھ کر آزادی اظہار رائے کیا ہوسکتی ہے۔

جہاں تک میری بات ہے ہاں میں تنقید کرتا ہوں مگر میرا انداز ہجو والا نہیں ہے میرا مقصد اداروں کی بدنامی نہیں ہے۔ آپ میرے آرٹیکل اٹھا کر دیکھیں بہت سے آرٹیکل میں لاپتہ افراد کا ذکر کیا ہے اور اداروں کو کھل کر کہا ہے کہ اپنی ضد چھوڑ کر بلوچستان ایشو کو حل کیا جائے۔ مگر میں پھر یہی کہونگا کہ میں تنقید برائے تذلیل نہیں کرتا۔ میں اداروں کا بے حد احترام کرتا ہوں میں کسی فرد واحد کی وجہ سے پورے ادارے کو تنقید کا نشانہ ہرگز نہیں بناتا۔ میں فرد واحد کی پالیسی کی وجہ سے پورے ادارے کو ذمہ دار نہیں ٹھہراتا۔ مشرف کے متعلق شاید میری رائے مختلف ہو جبکہ راحیل شریف کے متعلق میری رائے مختلف ہے۔

دوسری بات میں مانتا ہوں بلکہ دل سے تسلیم کرتا ہوں کہ لوگوں کو لاپتہ کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔ آپ کا سوال عورتوں اور بچوں کو اٹھانا یہ تو اس سے بھی بڑا جرم ہے۔ مگر معذرت کے ساتھ انتہائی معذرت کے ساتھ قاری کا سوال تلخ ہے تو مجھے بھی تلخ جواب ہی دینا پڑ رہا ہے۔ اس لئے ایک مرتبہ پھر معذرت کے ساتھ کہ ہمارے بہت سے ایشوز میں سچائی کے ساتھ پروپیگنڈہ کتنا ہوتا ہے۔ کسی بھی بات میں 90 % تو پروپیگنڈہ ہوتا ہے صرف 10 % سچائی ہوتی ہے۔

ایسی صورتحال میں بجائے اس کے کہ بغیر سوچے سمجھے اداروں پر تنقید شروع کی جائے پہلے انسان کے پاس مصدقہ خبر تو ہو۔ پہلے مکمل سچ تو سامنے آئے پہلے اس بات کی یقین دہانی تو ہو کہ خبر میں صداقت کتنی ہے اور پروپیگنڈہ کتنا ہے۔ کسی بھی لکھاری کے لئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ وہ خبر کی مکمل تصدیق کرے۔ میری تو کوئی اوقات نہیں بڑے بڑے صحافی بھی آج تک اس بات کا علم نہیں رکھتے کہ حقیقت میں کتنے لوگ لاپتہ ہیں۔ وہ بھی صرف کسی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہیں یا عمومی طور پر لکھتے ہیں کہ جتنے بھی لاپتہ افراد ہیں انہیں بازیاب کیا جائے کیونکہ یہ آئین کے خلاف ہے۔

سچائی تو یہ ہے کہ کسی کا موبائل بھی گم ہوجائے اور دو دن تک دوستوں اور گھر والوں سے بات نہ ہوسکے تو سوشل میڈیا پر کمپین چل رہی ہوتی ہے کہ اٹھا لیا گیا لاپتہ ہوگیا۔ لکھاری کی حیثیت سے مجھے ہر اعتبار سے انتہائی احتیاط برتنا پڑتی ہے۔ میں ہوا کے رُخ پر ہرگز نہیں چلتا میں باتوں کی سچائی کا قائل ہوں۔ ڈاکٹر اللہ نذر کی بیوی اور بیٹی لاپتہ ہوئی میں نے کھل کر لکھا تھا کہ دشمن کے بیوی بچوں کو اٹھانا مناسب نہیں، ان کا کیا قصور ہے۔ کچھ دنوں کے اس وقت کے وزیراعلی بلوچستان بعد ثناء اللہ زہری نے انہیں چادر پہناتے ہوئے اپنی بہن تسلیم کیا اور اس کی رہائی کا اعلان کیا جبکہ حقیقت کا آج تک پتا نہیں چل سکا۔

برادر ادارے چلانے والے بھی قانون کے پابند ہیں اداروں کے سربراہان بھی انسان ہیں۔ اداروں کے سربراہان بھی مسئلہ کی حساسیت کو جانتے ہیں۔ مجھے صرف اتنا بتایا جائے ادارے کسی بھی معمولی شخص کو اٹھا کر کیوں خود کو تنقید کا نشانہ بنائیں گے جبکہ کسی بھی معمولی شخص کی تنقید سے اداروں کو کوئی فرق ہی نہیں پڑتا۔

سچائی تو یہ ہے میں اداروں پر تنقید کرتے ہوئے شاید چند لمحات کے لئے بھی نہ سوچوں مگر جب میں لاپتہ افراد کی آڑ میں پروپیگنڈہ کرنے والوں کے خلاف لکھنا شروع کروں ان کے پروپیگنڈہ کو بے نقاب کروں تو مجھے لکھنے سے پہلے کافی مرتبہ سوچنا پڑتا ہے کہیں ان پروپیگنڈہ کے بے نقاب کرنے کی وجہ سے جو لوگ واقعی مظلوم ہیں ان کو دکھ نہ پہنچے۔ جن کے پیارے حقیقت میں لاپتہ ہیں کہیں ان کی دل آزاری نہ ہو۔ کہیں میں نہ چاہتے ہوئے بھی ظالم کا ساتھ دینے والا نہ بن جاوں۔

سچائی کو ثبوتوں کے ساتھ پیش کرکے آئینی انداز اپناتے ہوئے میں، آپ یا کوئی بھی کھل کر لکھیں مگر پہلے سچائی کو ثبوتوں کے ساتھ پیش تو کیا جائے۔ اس کے بعد سچائی پر لکھنے کے لئے آپ کا طرز مکمل آئینی ہونا چاہیے۔ آپ آئینی طرز اپناتے ہوئے ثبوتوں کے ساتھ کھل کر لکھیں کوئی آپ کو کچھ نہیں کہے گا۔

پہلے اصل معاملات کو پروپیگنڈہ سے پاک تو کیا جائے۔ پہلے ان لوگوں کو روکا جائے جو پروپیگنڈہ کرکے اصل مسائل کو بھی دبا دیتے ہیں۔ کسی لاپتہ فرد کے ساتھ 15، 20 مصنوعی لاپتہ افراد کی لسٹ بنا کر ان کی رہائی کا مطالبہ کیا جائے تو اس ایک حقیقی لاپتہ فرد کے لئے بھی مشکلات پیدا ہوجاتی ہیں۔ آپ ہوں یا کوئی بھی ہو پہلے ان لوگوں کو روکیں جو پروپیگنڈہ کرکے آپ کے لئے بھی مشکلات پیدا کرتے ہیں ایسے لوگ صرف اداروں کے دشمن نہیں آپ کے بھی دشمن ہیں۔

سوال تلخ تھا تو جواب بھی تلخ دینا پڑ رہا ہے اس لئے مجھے امید ہے قارئین میری تلخی کو میرا عذر سمجھیں گے۔ میری تلخی سے کسی کی بھی دل آزاری ہوئی تو میں معذرت چاہتا ہوں۔ ہاں یہ سچ ہے میں انتشاری نہیں ہوں۔ میں مسائل کا حل چاہتا ہوں۔ میں مسائل بڑھانا نہیں چاہتا۔ میرا حالیہ پبلش ہونے والا کالم بعنوان ”بلوچستان کا مسئلہ حل کرنا ہے تو اختر مینگل کو سنو“ پڑھ کر دیکھیں میں نے واضح طور پر لکھا ہے کوئی بات ڈھکی چھپی نہیں چھوڑی۔

اس سے بڑھ کر اور لکھنا کیا ہوتا ہے۔ آپ آج مجھے درست ثبوت بھیجیں میں آج کالم تحریر کرونگا۔ ثبوتوں کے بغیر صرف کہیں سے خبر ملی اس خبر پر کسی نے پروپیگنڈہ شروع کردیا اور کوئی مجھے کہے کہ اس پر لکھیں تو معذرت کے ساتھ میں کسی قسم کے پروپیگنڈے کا ساتھ نہیں دے سکتا۔ میں حقیقی ایشوز پر لکھتا ہوں چاہے اس میں کتنی ہی تلخی اور کھل کر تنقید ہی کیوں نہ ہو میں لکھتا ہوں۔ مگر میں لوگوں کی باتوں پر یقین کر کے ادارے تو انتہائی قابلِ احترام ہیں کسی فردِ واحد کے خلاف بھی نہیں لکھ سکتا۔

مجھے امید ہے جامع جواب مل چکا ہے اگر پھر بھی آپ کو اطمینان نہیں تو آپ مجھ سے پوچھ سکتے ہیں۔

پتا ہے ہوتا کیا ہے ہمارا معاشرہ انتہائی جھوٹا اور انتہاء پسند ہے۔ جیسے حکومت اور اداروں پر تنقید کرنے سے چند خود ساختہ محبِ وطن ہمیں غدار کہتے ہیں بالکل اسی طرح جب پروپیگنڈہ کرنے والوں پر تنقید کی جائے ان سے سوالات پوچھے جائیں تو وہ ہمیں بوٹ چاٹنے والا، ایجنٹ اور لفافہ لکھاری کہتے ہیں۔ جو بھی لکھاری اعتدال پسند ہو اور سچائی کو مدِ نظر رکھ کر لکھتا ہو اس سے کوئی بھی خوش نہیں ہوتا ایسا لکھاری سب کی نظر میں مشکوک ہوتا ہے۔

یہ بہت آسان ہے کہ ہم لکھاری لوگ اداروں پر کھل کر تنقید کریں اور چند لوگوں کے ہیرو بن جائیں ان کے لئے کامریڈ بن جائیں یہ بہت ہی آسان ہے۔ یا پھر اداروں کے حق میں لکھیں ہر اس حقیقی مظلوم کو بھی پروپیگنڈہ کہہ دیں اور محبِ وطن کا سرٹیفکیٹ حاصل کرلیں۔ اچھے اچھے ہوٹلوں میں کھانے بھی کھائیں۔ ایوارڈ الگ ملیں واہ واہ الگ ہوتی رہے۔ سرکاری گاڑیوں میں سفر الگ کریں یہ سب بہت آسان ہے۔ مگر ہم مظلوم انسان، معاشرے اور ملک کی بھلائی چاہتے ہیں ہم بہتری کا راستہ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

ہم ہوا کے رُخ پر چلنے کے بجائے درست سمت کا تعین کرتے ہیں۔ اگرچہ وہ دونوں طرف کے لوگوں کی طبیعت پر گراں گزرتا ہوگا۔ میں صرف اتنا کہونگا کہ جا کر اداروں کے سربراہان سے پوچھ کر دیکھ لیں کہ کیا وہ ہماری تحریروں سے خوش ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے ہم سے تو سبھی ناراض ہیں خوش تو کوئی بھی نہیں ہے۔ اس کے باوجود ہم نے امن اور معاشرے کی بہتری کے لئے لکھنا نہیں چھوڑا۔ اور میں سو فیصد یقین سے کہتا ہوں اس لکھنے کا مجھے ایک روپیہ بھی نہیں ملتا۔ پھر ہمیں کیا پڑی ہے کہ ہم اپنی جان جوکھوں میں ڈالیں۔ ہم صرف خلوصِ دل کے ساتھ بہتری کے لئے لکھتے رہتے ہیں۔

مگر ہم ہوا کے رُخ پر جان بوجھ کر نہیں چلنا چاہتے۔ ہم چاہتے ہیں مظلوم کو انصاف ملے۔ ہم چاہتے ہیں مسائل کا حل نکلے۔ ہم چاہتے ہیں عوام کی زندگیوں میں خوشحالی آئے۔ ہم چاہتے ہیں غریب کی زندگی بدل جائے۔ ہم چاہتے ہیں ملک ترقی کرے۔ ہم چاہتے ہیں سب پیار و محبت کے ساتھ رہیں۔ ہم چاہتے ہیں ہر طرف امن ہو۔ اس لئے ہمیں کسی کا ساتھ یا کسی کی مخالفت نہیں کرنا پڑتی ہمیں ہوا کے رُخ پر چل کر ہیرو یا محب وطن نہیں بننا۔

Facebook Comments HS