’’کائرہ کے دُکھ اور بچھڑ جانے والے بیٹے‘‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں جب لکھتے لکھتے تھک گیا تو اپنی سٹڈی سے اُٹھ کر لائونج میں چلا گیا۔ وہاں حسب معمول ٹیلی ویژن چل رہا تھا اور میری بیگم اس کے سامنے بت بنی بیٹھی تھی۔ مجھے دیکھ کر کہنے لگی’’کائرہ کا جوان بیٹا مر گیا ہے‘‘ ’’کونسے کائرہ کا؟ مجھے یکدم سمجھ نہ آئی کہ وہ کیا کہہ رہی ہے۔ ’’اپنے پیپلزپازٹی والے کائرہ صاحب کا۔‘‘ اُس کی آنکھوں میں نمی اتر رہی تھی اور وہ ایک سناٹے میں آئی ہوئی تھی۔ ’’دیکھ لو‘‘ ٹیلی ویژن سکرین پر کائرہ صاحب کے برابر میں ایک ایسا نوجوان کھڑا تھا جو شباہت میں ان جیسا تھا کائرہ کے چہرے پر ایک اطمینان تھا جو ہر اس باپ کے چہرے پر ہوتا ہے جس کے برابر میں اس کا بیٹا کھڑا ہو۔

میرا دماغ تھم سا گیا۔ ہاتھ پائوں ٹھنڈے ہو گئے اور میرے بدن کے اندر ایک بھاری پتھر ڈوبتا گیا۔ مجھے نیوز کاسٹر کی آواز کہیں دور سے آتی سنائی دی لیکن مبہم سی ’’یہ…کیسے ہو گیا؟‘‘ ’’کار کا حادثہ ہوا ہے۔ وہ اپنے دوست کے ساتھ گھر واپس جا رہا تھا۔ اسے کار کے تباہ شدہ ڈھانچے کو کاٹ کر نکالا گیا۔‘‘ٹیلی ویژن سکرین پر لوہے کا ایک پچکا ہوا ڈھانچہ تھا اور ایک درخت تھا جس کی چھال ادھڑ چکی تھی۔

رنج کا بھاری پتھر میرے اندر بغیر کسی آواز کے بیٹھ گیا۔ یہ بھاری پتھر اٹھتا ہی نہ تھا۔ جیسے میں نے کسی قریبی عزیز کی نوجوان عزیز کی موت کی خبر سن لی ہو۔ سمجھ میں نہ آتا تھا کہ مجھ پر کائرہ کے بیٹے کی موت کا اتنا شدید اثر کیوں ہوا۔ میں تو پہلی بار اسے ٹیلی ویژن سکرین پر دیکھ رہا تھا اور وہ بھی تب جب وہ مر چکا تھا۔ کائرہ صاحب میرے دوست بھی نہ تھے۔ واقف تھے، بس سلام دعا تھی۔ جیسے میرے لیے واقف ہیں ایسے ان کے میرے جیسے ہزاروں واقف ہوں گے۔ تو پھر دُکھ کی سیاہی کیوں میری آنکھوں میں کرچیوں کی مانند چبھتی جاتی ہے۔ وہ کبھی کبھار صبح کی سیر کے لیے ماڈل ٹائون پارک آ نکلتے، ہم دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر رُک جاتے۔

مجھے معلوم ہو جاتا کہ وہ لاہور میں پیپلزپارٹی کے کسی اجلاس میں شرکت کے لیے آئے ہیں، ان کے ساتھ سیاست کے بارے میں کچھ چہلیں ہوتیں۔ وہ پوچھتے کہ آج کل کیا لکھ رہے ہیں اور میں پوچھتا کہ آج کل آپ کیا کر رہے ہیں تو وہ کہتے چاٹی کے دودھ کو ہلاتے رہتے ہیں تا کہ وہ خراب نہ ہو جائے۔ ایک روز سامنے سے چلے آ رہے تھے، جوگنگ سوٹ میں ملبوس کسی نوجوان اتھلیٹ کی مانند چست بدن تو مجھے شائبہ ہوا کہ شاید ان کا بیٹا چلا آ رہا ہے۔ مجھے دیکھ کر رکے تو میں نے کہا۔ بیٹے آپ کے ابو میرے دوست ہیں، انہیں میرا سلام کہنا تو وہ ہنسنے لگے اور یہ حقیقت ہے کہ ان کی شکل اور مسکراہٹ من موہنے والی تھی۔

سیاستدان نہیں ایک پرانے اور وفا کرنے والے دوست لگتے تھے۔ میری بیگم چونکہ عمران خان کے فلاحی اداروں کے لیے رضا کارانہ کام کرتی ہے اور اس کی مداح ہے اس لیے جب کبھی وہ کائرہ صاحب کو پیپلزپارٹی کے کچھ لیڈروں کے ساتھ کھڑا دیکھتی تو کہتی! اتنا اچھا اور مخلص شخض ہے ان کے ساتھ کھڑا اچھا تو نہیں لگتا۔ ظاہر ہے میں نے کائرہ صاحب کو اپنی بیگم کے جذبات سے کبھی آگاہ نہ کیا۔

اسلام آباد میں ادیبوں کی کوئی کانفرنس تھی اور تب کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ہم سب کو اپنی رہائش گاہ پر رات کے کھانے کے لیے مدعو کیا تھا۔ میری بیگم بھی میرے ہمراہ تھی۔ کھانے کے دوران میں دیگر ادیبوں کے ساتھ گفتگو میں مشغول تھا تو بیگم نے پاس کھڑے ایک مؤدب کارکن سے کہا کہ دیکھیں نان ٹھنڈے ہو چکے ہیں اور کیا چکن کے علاوہ آپ کے پاس اور کوئی ڈش نہیں تو وہ شخص لپکتا ہوا کچن میں گیا اور پہلے گرم نان لے کر آیا پھر کوئی اور ڈش اٹھا لایا۔

خصوصی سلاد پیش کی اور آگے بڑھ کر گلاس ٹھنڈے پانی سے بھر دیا۔ جب تک میں متوجہ ہوا بیگم اس شخص سے خوب خاطریں کروا چکی تھی۔ میں نے سرگوشی میں کہا ’’مونا یہ کیا کر رہی ہو؟ یہ کائرہ صاحب ہیں ہمارے مرکزی وزیر اطلاعات ،تم ان سے کھانے منگواتی رہی ہو‘‘ اس پر مونا شرمندہ ہو کر کہنے لگی ’’مجھے کیا پتہ تھا، اتنا بھلا مانس شخص ہے، وزیر تو نہیں لگتا‘‘ میمونہ اگر کائرہ صاحب کی دل سے توقیر کرتی ہے تو اس کی ایک وجہ ان کا یہ بے مثال حسن اخلاق بھی تھا۔

تو ہم دوست تو نہ تھے، معمولی سی سلام دعا تھی جیسی ہزاروں لوگوں سے ہوتی ہے تو پھر یہ کیا ہے کہ ان کے جوان بیٹے کی موت نے مجھے مفلوج سا کر دیا تھا، ہاتھ پائوں میں سکت نہ رہی تھی۔ رنج و الم کا وہ بھاری پتھر کیوں ایک لاش کی مانند میرے بدن کی تہہ میں بیٹھ گیا تھا۔ شاید اس لیے کہ وہاں جواں مرگی کے نوجوان بیٹوں کی موت کے کچھ اور پتھر بھی ایک مدت سے پڑے تھے۔ میرا خالہ زاد بھائی کیپٹن ساجد نذیر، صرف ماں باپ کا ہی نہیں پوری برادری کا اکلوتا بیٹا کوئٹہ میں اپنا جہاز اڑاتا ایک حادثے کا شکار ہو گیا،جل کر مر گیا۔ وہ مجھ سے اپنے باپ سے بڑھ کر محبت کرتا تھا۔

میں سوئٹزرلینڈ کے شہر برن میں تھا جب اس کی موت کی اطلاع ملی تو بڑا مسئلہ ہو گیا کہ میں اس کے لیے روئوں کہاں۔ کس سے لپٹ کر آنسو بہائوں، برسرعام نہیں کہ لوگ، اجنبی لوگ پاگل سمجھیں گے۔ میں نے ایک بڑے گھیرے والے درخت کو اپنا غم خوار بنایا اس کے تنے کو بازوئوں میں لے کر اسے ساجد جانا اور شام تک دھاڑیں مار مار کر روتا رہا۔

ٹوبہ ٹیک سنگھ سے جھنگ کے راستے میں دلم چک کے کنارے آج بھی اس کے نام کی ایک ڈسپنسری موجود ہے اور مقامی قبرستان میں اس کی قبر اب تو ویران پڑی ہو گی، اتنی دور اب کون جائے۔ دلم چک میں بھی کوئی قریبی رشتے دار نہیں جو گرمیوں میں اس کی قبر پر ٹھنڈا پانی ہی چھڑک دے، اکلوتا بیٹا تھا۔ میرے محبوب مصنف اور دوست شفیق الرحمن کا بیٹا، ایم بی بی ایس کا طالب علم، ٹرین کے نیچے آ کر ٹکڑوں میں بٹ گیا۔

میں اس کے جنازے میں شرکت کے لیے لاہور سٹیشن پہنچا۔ راولپنڈی کا ٹکٹ حاصل کر کے پلیٹ فارم پر پہنچا تو خیال آیا کہ میں شفیق صاحب سے کیا کہوں گا کہ بڑا افسوس ہوا، صبر کیجئے۔ جواب بیٹے کی موت پر ایک باپ کو آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ صبر کیجئے۔ صبر کیسے ہو سکتا ہے، ایسا صبر تو نبیوں سے نہ ہوا تو ایک عام انسان کیسے کر سکتا ہے۔ میں لاہور سٹیشن سے واپس آ گیا۔

کچھ دنوں بعد اپنے خاندان کے ہمراہ ان کے گھر گیا اور ان سے کچھ نہ کہا۔ انہوں نے دیوار پر آویزاں ایک بلیک اینڈ وہائٹ تصویر کی جانب اشارہ کیا جس میں شفیق صاحب اور ان کی اہلیہ ایک بچے کو گود میں اٹھائے کھڑے ہیں، اشارہ کیا اور صرف اتنا کہا ’’دیٹ واز دی بوائے‘‘یہ لڑکا تھا۔ فہمیدہ ریاض کا اکلوتا بیٹا امریکہ میں حادثے کا شکار ہو گیا۔ فہمیدہ کے ساتھ ایک قدیم رفاقت کا بندھن تھا۔ عبداللہ حسین نے بہت کہا کہ اسے کم از کم فون تو کر لو۔ اور میں نے یہی کہا کہ فون کر کے ایک ماں سے کیا کہوں کہ تمہارا اکلوتا بیٹا مر گیا ہے بڑا افسوس ہوا۔ صبر کرو۔

کائرہ صاحب کو بھی میں کبھی فون نہیں کروں گا کہ فون کر کے کیا کہوں گا۔ بڑا افسوس ہوا صبر کیجئے، وہ صبر جو نہیں ہو سکتا۔ ہمارے آقا رسول اللہﷺ کے بیٹے حضرت ابراہیم، ہماری ماں حضرت ماریہ قبطیہ کے بطن سے۔ ان کی شکل اپنے باپؐ سے اتنی مشابہہ تھی کہ صحابہ کرام کا کہنا تھا کہ جب حضرت ابراہیم بڑے ہوں گے، اپنے باپ کی عمر تک پہنچیں گے تو وہ لوگ جنہوں نے اپنی حیات میں رسول اللہﷺ کو دیکھا ہو گا انہیں اپنی جانب آتا دیکھ کر شبہ میں پڑ جائیں گے کہ یہ تو محمد رسول اللہﷺ چلے آ رہے ہیں۔

رسول اللہﷺ نے خود اپنے ہاتھوں سے حضرت ابراہیم کی قبر کھودی اور انہیں لحد میں اتارا اور بہت روئے لیکن خاموشی سے۔ باپ چاہے پیغمبر ہو باپ ہوتا ہے۔ میرے بدن کی سیاہ جھیل کی تہہ میں پہلے سے کچھ بھاری پتھر پڑے تھے۔ اب ان میں کائرہ صاحب کے بیٹے کی موت کا ایک اور دُکھ کا پتھر شامل ہو گیا ہے۔ تجھے کس پھول کا کفن ہم دیں تو جدا ایسے موسموں میں ہوا جب درختوں کے ہاتھ خالی تھے۔

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مستنصر حسین تارڑ

بشکریہ: روزنامہ 92 نیوز

mustansar-hussain-tarar has 155 posts and counting.See all posts by mustansar-hussain-tarar

––>