بیوی بے چاری منہ اندھیرے سب سے پہلے بستر کی نرمیاں تیاگ کر میدان عمل میں آتی ہے۔ فجر کی روحانیت کو ساتھ لئے، کلاک کی ٹِک ٹِک سے قدم ملاتی سیدھی کچن میں جا کر کھانا جنگی کا محاذ بناتی ہے۔اور پھر بچوں کو اٹھانے کے لئے کمرہ کمرہ بھاگتی ہے۔ ایک کو اٹھاتی ہے تو دوسرا سو جاتا ہے تیسرے کے پاس جاتی ہے تو پہلا سو چکا ہوتا ہے۔ پھر باری باری سب کو سینے سے لگا کر کھڑا کرتی ہے۔ بچہ چونکہ غنودگی میں ہوتا ہے۔ اس لئے ان پر تب تک اپنی ممتا نچھاور کرتی رہتی ہے۔ جب تک بچہ مُسکرا کر ساتھ نہ چل پڑے۔ یہ منظر کئی بار میں نے کُن اکھیوں سے دیکھے ہیں۔ خیر پھر واش روم کی تھکا دینے والی مَشق۔ اور پھر یونیفارم بدلنے کی افراتفری کا دور۔ لڑکے تو خیر جلدی تیار ہو جاتے ہیں۔ لیکن لڑکیوں کے بال بنانا گویا پھر ایک نئی جَنگ چھیڑنے کے مُترادف ہوتا ہے۔ نڈھال ممتا اَک سَت کر اِدھر کنگھا چھوڑتی ہے۔ تو اُدھر ایپرن پہن لیتی ہے۔ میں نے پراٹھا کھانا ہے۔ میں نے نہیں کھانا۔ مجھے بس چائے دے دو
Read more