” مزے“

میں نے ایک ساوتھ انڈین مووی دیکھی جو ہندی ڈبنگ میں تھی اس میں ایک گورکن اپنے خاندان سمیت قبرستان میں رہتا ہے۔ ان کا ایک آٹھ سالہ بچہ جب بھی کوئی جنازہ آتا ہے بھاگ کر اس میں شامل ہو جاتا ہے دفنانے تک وہ ساتھ ہی رہتا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ وہ…

Read more

تقاضائے عشق

ایک بادشاہ کے محل میں ایک خاتون صفائی ستھرائی کا کام کرتی تھی۔ ایک دفعہ وہ بیمار ہو گئی تو صفای کے لئے اپنے بیٹے کو بھیج دیا کہ کچھ دن تم صفائی کرو جب تک میں ٹھیک نہیں ہو جاتی۔ بیٹے نے معمول کے مطابق کام کرنا شروع کر دیا۔ ایک دن اس کی نظر…

Read more

دوسری شادی کا لڈو

” ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ منہ میں ﻟﮕﺎ ہوﺍ ﺩﺍﻧﺖ بظاہر ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺳﺎ ﻣﺤﺴﻮﺱ ہوﺗﺎ ہے ﻣﮕﺮ ﺟﺐ ﻭﮦ ﮔِﺮﺗﺎ ہے ﺗﻮ ﺩﻭ ﺩﺍﻧﺘﻮﮞ ﺟﯿﺴﺎ ﺑﮍﺍ ﺧﻼ ﭼﮭﻮﮌ ﺟﺎﺗﺎ ہے ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻭہاﮞ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﺭﮐﮫ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺗﺼﺪﯾﻖ ﮐﺮﺗﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ“ ہیں ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺍﯾﮏ ﺩﺍﻧﺖ ﮔِﺮﺍ ہے؟

Read more

پھر بھی گلہ ہم سے

بیوی بے چاری منہ اندھیرے سب سے پہلے بستر کی نرمیاں تیاگ کر میدان عمل میں آتی ہے۔ فجر کی روحانیت کو ساتھ لئے، کلاک کی ٹِک ٹِک سے قدم ملاتی سیدھی کچن میں جا کر کھانا جنگی کا محاذ بناتی ہے۔اور پھر بچوں کو اٹھانے کے لئے کمرہ کمرہ بھاگتی ہے۔ ایک کو اٹھاتی ہے تو دوسرا سو جاتا ہے تیسرے کے پاس جاتی ہے تو پہلا سو چکا ہوتا ہے۔ پھر باری باری سب کو سینے سے لگا کر کھڑا کرتی ہے۔ بچہ چونکہ غنودگی میں ہوتا ہے۔ اس لئے ان پر تب تک اپنی ممتا نچھاور کرتی رہتی ہے۔ جب تک بچہ مُسکرا کر ساتھ نہ چل پڑے۔ یہ منظر کئی بار میں نے کُن اکھیوں سے دیکھے ہیں۔ خیر پھر واش روم کی تھکا دینے والی مَشق۔ اور پھر یونیفارم بدلنے کی افراتفری کا دور۔ لڑکے تو خیر جلدی تیار ہو جاتے ہیں۔ لیکن لڑکیوں کے بال بنانا گویا پھر ایک نئی جَنگ چھیڑنے کے مُترادف ہوتا ہے۔ نڈھال ممتا اَک سَت کر اِدھر کنگھا چھوڑتی ہے۔ تو اُدھر ایپرن پہن لیتی ہے۔ میں نے پراٹھا کھانا ہے۔ میں نے نہیں کھانا۔ مجھے بس چائے دے دو

Read more

بے بی کٹ

 وہ شروع ہی سے نٹ کھٹ اور شریر تھی جھوٹ بولنا تو جیسے اس کی ادا تھی بڑے سپنے دیکھنا اور بڑی بڑی باتیں کرنا اس کے محبوب مشاغل میں سے تھا۔ ایک دفعہ وہ ہمارے گھر ایک چھوٹی سی دعوت پر مدعو تھی ہمارے گھر کے صحن میں وہ اپنی زلفوں سے کھیلتی ہوئی میری ماں کے پاس آکر بیٹھ گئی جو آٹا گوندھ رہی تھی۔ وہ اپنی بڑی انگلی کنالی کے کناروں پر پھیرتے ہوئی بولی۔ آنٹی مجھے تو ایسے آٹا گوندھنا نہیں آتا۔

Read more

عشقِ مجازی سے عشقِ حقیقی کا سفر ایک افسانوی تجزیہ

کہتے ہیں کہ انسان اپنا پہلا اچھا عمل ”ریا“ سے شروع کرتا ہے۔ یعنی دکھاوے سے۔ دکھاوا پھر عادتوں میں ڈھلتا ہے اور پھر یہی ”عادتیں“ پختہ ہو کر عبادات کے صوفیانہ چولے پہن لیتی ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے عشق حقیقی، عشق مجازی کی شاخ سے پھوٹ کر پورے جسم میں خوشبو کی طرح اتر جاتا ہے۔ با الفاظ دیگر یوں کہہ لیجیے کہ عشقِ مجازی وضو ہے تو عشقِ حقیقی نماز۔ اور وضو کے بغیر نماز کیسے ممکن ہے۔آج اس موضوع کو منتخب کرنے کا میرا مقصد بھی یہی تھا۔ اور یہ مقصد مجھے ملا ایک ”مجازی ملاقات“ سے اس ملاقات کے جو کرشمات تھے انہوں نے میرا دل کو مجازی سے حقیقی کی طرف کیسے راغب کیا۔ یہی روداد آج کی نذرِ نظر کرنی ہے اچھا اب ایسا بھی نہیں ہے کہ میں کوئی ولی بن گیا ہوں۔ لیکن ولایت کیا ہے، اللہ نے قران میں کیوں کہا۔ کہ ”میں اولیا کے ہاتھ، پاوں اور انکھ بن جاتا ہوں۔“ یہ آفاقی باتیں سچ میں مجھے چھو کر گزری ہیں اس فنا میں بقا کیوں ہے یہ راز مجھ پر افشا ہوئے ہیں۔ خیر۔

Read more

چھوٹی بات کا بڑا تماشا

 دیوداس فلم میں شاہ رخ خان کی بھابھی مطلوبہ کنگن نہ ملنے پر اس سے ناراض ہو جاتی ہے اور شاہ رخ خان اپنی بھابھی کو مزاح کے سے انداز میں کہتا ہے کہ ”بھابھی آپ تو چھوٹی بات کر بڑا تماشا بنا رہی ہیں“ دوستو! ہمارے گھروں میں بھی اکثر چھوٹی چھوٹی باتوں پر بڑے بڑے تماشے ہو جاتے ہیں ان میں 80 % تماشے بچوں کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ مسئلہ پھر وہی ”جوائینٹ فیملی سسٹم“ خواتین و حضرات! میری پہلی بات تو آپ اپنے پلے سے باندھ لیں کہ جتنا پیار ماں باپ ”بقلم خود“ اپنی اولاد سے کرتے ہیں دوسرا کوئی کر ہی نہیں سکتا یہ فطری اور بشری تقاضا ہی نہیں ہے۔

Read more