تردیدِ انصاف


 فرشتہ! فرشتوں کا یہاں کیا ذکر؟ ان معصوم فرشتوں کا وہاں کیا کام کہ جہاں انسانیت نام کو بھی نہ باقی رہے۔ یہاں تو ان عذاب دینے والے فرشتوں کا کام ہے کہ جو ہمارے سروں پر گرز مار مار کے ہمیں زمین میں دھنسا دیں کیونکہ ہماری نام نہاد اور ہر فضول بات پر زندہ ہوجانے والی شرم و غیرت میں اتنا زور کہاں کہ ہمیں زمین میں دھنسا سکے۔ کسی نے کہا کہ ریاست شہریوں کے جان و مال اور آبرو کے تحفظ میں ناکام ہوگئی۔

میں سوچنے لگا کہ آخری بار ریاست کب اس میں کامیاب ہوئی تھی؟ دور بلکہ بہت دور تک کوئی ایسی مثال نظر نہ آئی کہ جس کی بنیاد پر یہ کہہ سکوں کہ ہاں! اس بار ریاست ناکام ہوگئی۔ یہاں تو ناکامیوں کی ایک ایسی بہتر سالہ نسل در نسل طویل قطار ہے کہ جس کے ختم ہونے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ اب تو حیرت بھی نہیں ہوتی کہ وہ بھی آخر کب تک ہو۔ شاید اب مقامِ حیرت وہ ہو جہاں کسی کامیابی کا نشان ملے۔ ایک موہوم سی امید تھی کہ شاید پہلے کے مقابلے میں کچھ بہتری نظر آئے، کچھ الگ ہوتا نظر آئے لیکن وائے افسوس وہی معطلی ہے جو کچھ عرصے بعد خاموشی سے بحالی سے مشروط ہوتی ہے۔

وہی بیان بازیاں ہیں، وہی غم و غصے کا اظہار ہے۔ کچھ واقعات یا سانحات صرف واقعات یا سانحات نہیں ہوتے، وہ اصل میں ”ٹیسٹ کیس“ یا ”لٹمس ٹیسٹ“ ہوتے ہیں کہ ان کے نتیجے میں عوام اور ریاست کے ساتھ ساتھ دیگر اداروں اور ذمہ داران کا اصل رنگ و روپ سامنے آجاتا ہے۔ ساہیوال کا واقعہ ہو یا گیارہ سالہ فرشتہ والا سانحہ۔ یہ اصل میں وہ چند چاول ہیں کہ جن کو دیکھ کر یا چکھ کر پوری دیگ کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

ایسا نہیں کہ پہلے یہاں دودھ شہد کی نہریں بہہ رہی تھیں اور شیر و بکری ایک ہی گھاٹ پر پانی پیتے تھے۔ ایسے حالات و واقعات تو پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں لیکن بات یہ ہے کہ اگر ”تبدیلی“ کے بعد بھی اس طرح کے واقعات پر وہی روایتی ردعمل ہی سامنے آنا ہے تو پہلے والے کیا برے تھے۔ لوگ سمجھے کہ تحریک انصاف کی حکومت ہے لیکن اندازہ ہورہا ہے کہ اصل حکومت تو ”تردیدِ انصاف“ کی ہے۔

Facebook Comments HS