فرشتہ کیس میں وزیراعظم نے کیا ایکشن لیا ہے؟
وزیراعظم کو جب فرشتہ کے قتل کی رپورٹ لیٹر نمبر 1/1/2019۔ AS کے ذریعے 22 مئی کو وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کی گئی انہوں نے پولیس کی جانب سے متاثرہ خاندان کے لئے عدم ہمدردی اور فرائض میں کوتاہی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے یہ مشاہدات درج کیے
1۔ فرشتہ کے باپ کی جانب سے واقعے کی رپورٹ 15 تاریخ کو پولیس کو دی گئی تھی کہ لڑکی گم ہو گئی ہے۔
2۔ ایف آئی آر چار روز گزرنے کے بعد 19 تاریخ کو درج کی گئی۔
3۔ لاش 20 تاریخ کو ملی۔
4۔ یہ ظاہر ہے کہ پولیس سٹیشن کے عملے کا رویہ بے حسی پر مبنی تھا اور انہوں نے فرشتہ کے خاندان کو مجبور کیا کہ وہ تھانے کی صفائی کریں۔
5۔ پوسٹ مارٹم اس وقت ہوا جب اے ڈی سی جی نے مداخلت کی۔
ان امور کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم نے مندرجہ ذیل ہدایات دیں:۔
1۔ ایس ایچ اور اور دیگر متعلقہ افسران کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے، اور محکمہ کارروائی جلد از جلد شروع اور مکمل کی جائے، جبکہ ایس ڈی پی او کو معطل کیا جائے اور ایس پی کو او ایس ڈی بنایا جائے جب تکہ کہ عدالتی تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتیں۔
2۔ یہ سسٹم کی ناکامی ہے کہ پولیس کے عملے نے متاثرہ خاندان کے بچوں سے اپنے دفاتر کی صفائی کروائی۔ ایسا کرنے والوں کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کی جائے اور جلد از جلد مکمل کی جائے۔
3۔ پولیس کا دعوی ہے کہ قصور کے واقعے کے بعد بچوں کے خلاف جرائم کے نتیجے میں طریقہ کار تشکیل دیا جا چکا ہے۔ اس کیس میں ایسا طریقہ کار نظر نہیں آیا یا اس پر عمل نہیں کیا گیا۔ آئی جی اور ڈی آئی جی وضاحت کریں کہ کیوں بچوں کے خلاف جرائم کے لئے کوئی سسٹم موجود نہیں تھا اور متاثرہ خاندان کو انصاف کی جلد فراہمی کے لئے پورے سسٹم کی ناکامی کی وضاحت کریں۔
4۔ وزیراعظم نے مزید ہدایت کی کہ انہیں ان ہدایات کے متعلق روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ دی جائے اور تحقیقات ان کی معلومات کے لئے فراہم کی جاتی رہیں۔


