چیئرمین نیب کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں جاؤں گی: طیبہ فاروق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(شنزہ نواز ۔ صحافی)

قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین کی ویڈیو بنانے والی خاتون طیبہ فاروق نے کہا ہے کہ وہ جاوید اقبال کے خلاف کارروائی کے لیے وفاقی محتسب سے لے کر سپریم جوڈیشل کونسل تک ہر فورم سے رجوع کریں گی۔

ٹیلی فون پر ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ان کی خبر روک کر میڈیا کو خاموش کر دیا گیا ہے اور ان کی جان خطرے میں ہے۔

طیبہ فاروق کا کہنا تھا کہ لاہور میں جن لوگوں نے جمعہ کو ان کے خلاف پریس کانفرنس کی۔ وہ سارے نیب مقدمات میں ملزم ہیں۔ سردار اعظم رشید لاہور میں جعلی ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک ہیں جن کے خلاف سنہ 2018 میں نیب کو درخواست دی تھی۔“

انہوں نے کہا کہ جس مقدمے میں وہ خود مدعی ہیں، پریس کانفرنس کرنے والوں نے انہیں اسی مقدمے میں ملزم بنا کر پیش کیا۔

طیبہ فاروق نے بتایا کہ ان کی جاوید اقبال سے پہلی ملاقات جی الیون میں لاپتہ افراد کمیشن کے دفتر میں ہوئی۔ ”سنہ 2017 میں اپنے شوہر کی ضلع جھنگ سے لاپتہ ہونے والی چچی کے مقدمے کے سلسلے میں پہلی بار جاوید اقبال سے ملاقات ہوئی۔“

ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد سنہ 2018 میں جاوید اقبال سے دو ملاقاتیں ہوئیں۔ پھر انہوں نے جگہ جگہ بلانا شروع کیا۔ ”ویڈیو انہی ملاقاتوں کے دوران مختلف اوقات میں ان کے رویے سے تنگ آکر ایکسپوز کرنے کے لیے بنائیں۔“

مسز فاروق نے بتایا کہ ان کو نیب نے شوہر کے ہمراہ بغیر کسی ابتدائی انکوائری کے صرف ایک شکایتی درخواست پر 15 جنوری کو گرفتار کیا۔ ”مجھے ضمانت پر رہائی مل گئی مگر شوہر تاحال جیل میں ہے۔“

انہوں نے کہا کہ اگر چیئرمین نیب سچے ہیں تو سامنے آئیں۔ ”وہ بڑے عہدے پر ہیں۔ میڈیا پر دباؤ ڈال کر ہائی جیک کر لیا گیا ہے۔ مجھے میڈیا سے کوئی امید نہیں ہے۔ گزشتہ رات جب مجھے لائیو شو میں بٹھا کر دباؤ کے ذریعے خبر کو روکا گیا تو امید ٹوٹ گئی۔“

طیبہ فاروق نے نیب کے چیئرمین کو چیلنج کیا کہ وہ سامنے آئیں اور بات کریں۔ ”میں وفاقی محتسب اور سپریم جوڈیشل کونسل سمیت ہر فورم پر جاؤں گی مگر اللہ کے سوا کوئی آسرا نہیں۔“

انہوں نے کہا کہ ان کی جان اور خاندان کو خطرات لاحق ہیں۔ ”ویڈیو اور خبر نشر ہونے کے بعد بہت زیادہ دباؤ ہے۔ نیب کی جانب سے خطرہ لاحق ہے۔ میرے پاس کوئی سیکورٹی نہیں۔“

(بشکریہ پاکستان 24)

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •