ہمارے اساتذہ سوالات سے ڈرتے کیوں ہیں


کیا آپ جانتے ہیں، سوال پوچھنا کیوں ضروری ہے ۔ کیوں کے سوال وہی پوچھتا ہے جو سوچتا ہے، سائنسدانوں کے مطابق سوال پوچھنے والے بچے ذہین ہوتے ہیں ۔

کوئی بھی کرپٹ بندہ سب سے زیادہ کس چیز سے ڈرتا ہے؟ جی ہاں سوال اٹھانے سے ۔ آپ لوگوں نے اکثر مشاہدہ کیا ہو گا، کہ کیسے آج کل کے ڈبا بینڈ علماء جب کوئی دلیل نہیں پا تے، تو سوال کرنے والے پر کفر و گستاخی کا فتویٰ لگا دیتے ہیں ۔ یہ شیوہ صرف بے علم علماء کا ہی نہیں بلکہ بہت سے نام نہاد اساتذہ کا بھی ہے۔

سکول کے زمانے میں ٹیچر ٹوپک کمپلیٹ کروانے کے بعد ایک سوال کرتی تھیں، کچھ پوچھنا ہیں تو پوچھ لیں، اگر کوئی طالب علم ہاتھ کھڑا نہ کرتا تھا، تو ٹیچر کہا کرتی تھیں، لگتا ہے آج کا سبق سمجھ نہیں آیا ۔ ہماری سائنس کی ٹیچر کا یہ معمول تھا کہ کوئی بھی موضوع سمجھانے نے کے بعد طلباء سے کہیں اب خود سے کچھ مثالیں دو ۔

اسس طرح بچپن سے ہی اچھے اساتذہ کی بدولت سوچ و بچار کی عادت پر گئی ۔ کالج میں بی خوش قسمتی سے کچھ الگ سوچ رکھنے والے اساتذہ کا ساتھ رہا، جنہوں نے معاشرتی برائیوں کی نہ صرف نشان دہی کروائی بلکہ ان کے خلاف آوازبلند کرنا بی سکھایا۔ ایسے اساتذہ سے مل کر پتہ چلا علم تلوارسے زیادہ طاقتور ہوتا ہے، اور علم والا اور بے علم برابرکیوں نہیں ہوسکتے ۔ زندگی نے تو جیسے ہمارے اندرکی انقلابی روح کو سہی معنوں میں جلا بخشی اور ہم ہر غلط کام کے خلاف بولنا اپنا اخلاقی فرض سمجھنے لگیں ۔

اصل دھچکا ہمیں تب لگا جب ہم وطن عزیز کی سب سے پرانی یونیورسٹی میں انرول ہوے، جی ہاں ہم بات کر رہے ہیں جامہ پنجاب کی، یہاں آ کر ہمیں پتا چلا کے علم والے تو گستاخ ہوتے ہیں، اور بے علم اصل میں پی ایچ  ڈی کی ڈگری کے حقدار ہوتے ہیں ۔ اساتذہ کے نام پر بے علم اور بے عمل لوگوں کو دیکھ کر پتا چلا، پاکستان خاص طور پر پنجاب کے حالات اتنے خراب کیوں ہیں ۔ طلبہ کی طرف سے کسی بی قسم کا سوال پوچھنا استاد کو اپنی توہین لگتا ہے ۔ بد عنوانی کا یہ عالم ہے کہ گریڈ 14 سے لے کر 21 تک کوئی بھی سائن کسی مفاد بنا نہیں ہوتا ۔ سائنس میں پی ایچ ڈی کروائی جا رہی ہیں اور مطلوبہ آلات و کیمیکلز یا تو موجود ہی نہیں ہیں اور اگر موجود ہیں تو بھی استعمال کرنے کی اجازت ملنے میں چار سے چھ مہینے لگ جاتے ۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور دوسرے بہت سے ریسرچ فنڈز موجود ہیں، مگر کچھ خرچ کیے بنا صرف میرٹ آپ کوایک روپیہ نہیں دلوا سکتا ۔ یہاں آ کر آپ کے اندر کا اچھا سچا انسان مرنے لگتا ہے، بعد قسمتی سے اگر پھر بھی آپ میں سقراط کی روح زندہ رہ جاتی ہے اور سچ کا کیڑا آپ کو چین نہیں لینے دیتا، تو آپ کے لیے یہ معلومات بہت اہم ہیں

1 کسی بی قسم کی شکایت کرنا طلبہ کا قانونی حق ہے اور کوئی بی استاد اس حق سے طلبہ کو محروم نہیں کر سکتا، دھمکی کی صورت میں آپ ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کو ایک تحریری درخواست دے سکتے ہیں ۔

2 اگر ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کوئی ایکشن نہیں لیتا تو آپ وی سی کو اپنی درخواست دیں ۔

3 اگر آپ پھر بھی مطمئن نہیں تو ہائر ایجوکیشن کمیشن کمپلینٹ سیل، وفاقی محتسب، پی ایم کمپلینٹ سیل میں کمپلینٹ رجسٹر کروانا آپ کا حق ہے ۔

4 ‏رشوت لینا جرم ہے، سزا 3 سال تک قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں ہیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کمپلینٹ سیل، یا FIA میں کمپلینٹ رجسٹر کروا سکتے ہیں ۔

اپنا حق جان کرجیو، یقین کریں یہ بڑے مافیا تبھی وجود میں آ تے ہیں، جب ان کے خلاف آواز نہ بلند کی جائے ۔ آپ کا ایک عمل بہت سے پیچھے آنے والوں کو مشکلات سے بچا سکتا ہے ۔ تعلیم کا اصل مقصد یہی ہے،

صحیح اور غلط میں فرق جان کر جیا جائے ، حق کا ساتھ دیا جائے اور باطل کے خلاف کھڑا ہوا جائے

۔

Facebook Comments HS