علامہ عنایت اللہ مشرقی کے مزار کا احوال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مزار علامہ عنایت اللہ مشرقی

علامہ عنایت اللہ مشرقی کی قبر خاکسار تحریک کے مرکزی دفتر، اچھرہ ذیلدار روڈ پر واقع ہے۔

علامہ عنایت اللہ مشرقی 1888 ء میں امرتسر میں پیدا ہوئے۔ علامہ کے بزرگوں میں سے لال محمد اورنگ زیب کے عہد میں مسلمان ہوئے۔ علامہ کے بزرگ مغل حکومت کے علاوہ سکھ عہد میں اہم عہدوں پر فائز رہے۔ علامہ کے والد عطا محمد نے بھی کئی کتب تحریر کیں۔ علامہ کے والد کے معروف سیاسی رہنماؤں اور ادیبوں سے گہرے تعلقات تھے اور علامہ والد کے ساتھ مختلف ادبی محفلوں میں شرکت بھی کرتے تھے۔

علامہ عنایت اللہ مشرقی نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے ہی حاصل کی۔ 1897 ء میں مشن سکول امرتسر داخل ہوئے۔ مڈل سٹینڈرڈ باجی ناتھ سکول سے پاس کیا اور وظیفہ حاصل کیا اور 1902 ء میں آپ نے گورنمنٹ ہائی سکول امرتسر سے میٹرک پاس کیا اور جوبلی سکالر شپ حاصل کی۔ 1904 ء میں آپ نے چرچ مشن کالج سے ایف اے کیا اور بی اے کے لیے آپ نے ایف سی کالج لاہور کا انتخاب کیا۔ 1906 ء میں بی اے مکمل کرنے کے بعد آپ نے 8 ماہ میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے ریاضی کی ڈگری لے کر نیا ریکارڈ بنایا۔

1907 ء میں آپ نے کیمبرج یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ آپ نے کیمبرج یونیورسٹی میں بھی کئی ریکارڈ قائم کیے۔ آپ نے سب سے پہلے ٹرائی پوس آنرز میں داخلہ لیا اور نا صرف اول آئے بلکہ تین کی بجائے دو سال میں یہ کورس مکمل کیا۔ اس کے بعد آپ نے بیک وقت دو ٹرائی پوس آنرز میں داخلہ لیا، ایک میں اول اور دوسرے میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔ 1912 ء میں آپ نے مکینیکل سائنس ٹراپس میں داخلہ لیا اور ایک سال میں ہی یہ کورس مکمل کرلیا اور دوسری پوزیشن بھی حاصل کی۔

آپ نے 5 برس میں 12 سال کے کورس کو نا صرف مکمل کیا بلکہ کئی وظائف اور خطاب مثلاً فاونڈیشن سکالر، اور بیچلر سکالر بھی حاصل کیے۔ لندن کے اخبارات نے آپ نے کو خراج تحسین پیش کیا۔ روزنامہ سٹار لندن نے آپ کی کامیابی پر لکھا ”اس وقت تک یہ بات ناممکن خیال کی جاتی تھی کی پانچ سال کی قلیل مدت میں کوئی شخص کیمبرج میں چار اعزاز حاصل کرسکے۔ لیکن یہ سہرا ہندوستان کے سر ہے کہ عنایت اللہ خان نے اس ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ “

علامہ عنایت اللہ مشرقی نے وطن واپسی سے قبل یورپ کی سیاحت بھی کی اور کئی اہم لوگوں مثلاً ہٹلر، آئن سٹائن اور وائل وغیرہ سے ملاقات بھی رہی۔

ہندوستان واپسی پر علامہ مشرقی اسلامیہ کالج پشاور کے وائس پرنسپل بن گئے اور 1915 ء میں ترقی دے کر آپ کو پرنسپل بنا دیا گیا۔ اس کے علاوہ بھی آپ نے کئی اہم سرکاری و تعلیمی عہدوں پر کام کیا۔

علامہ مشرقی مسلمانوں کو پستی سے نکالنے کے خواہشمند تھے۔ آپ نے اسی دور میں اپنی معروف کتاب ”تذکرہ“ تحریر کی۔ علامہ کے سوانح نگار عظمت اللہ بھٹی نے اپنی کتاب ”المشرقی“ میں لکھا ہے کہ علامہ کو 1925 ء ”تذکرہ“ پر نوبل انعام کی پیش کش بھی ہوئی تھی مگر اس شرط پر کہ اس کا کسی یورپی زبان میں ترجمہ کیا جائے مگر علامہ نے یہ کہہ کر یہ پیش کش ٹُھکرا دی کہ ”اگر وہ زبان جس کو دنیا کہ نو کڑوڑ لوگ بولتے ہیں، آپ کی کمیٹی کی تسلیم شدہ زبان نہیں ہے تو میں اس کتاب کو کسی یورپی زبان میں ترجمہ کرنا گوارا نہیں کرتا۔

” لیکن نوبل انعام کے لیے علامہ کی نامزدگی کا نوبل انعام کی ویب سائٹ پر کوئی ذکر نہیں ملتا اور نہ ہی علامہ کی اپنی کسی تحریر میں مجھے اس کا ذکر ملا۔ کہا جاتا ہے کہ علامہ کی“ تذکرہ ”کی شہرت کی وجہ سے ہی آپ کو موتمر خلافت کے اجلاس منعقدہ قاہرہ میں تقریر کی دعوت ملی اور آپ کی اس تقریر پر ہی آپ کو“ المشرقی ”کا خطاب ملا۔

1931 ء میں علامہ نے ”اشارات“ نامی کتاب تحریر کی اور عملی سیاست میں باقاعدہ حصہ لینا شروع کیا۔ اسی سال آپ نے خاکسار تحریک کی بنیاد رکھی۔ بقول سید قاسم محمود اس تحریک کا منشور ”نظم و ضبط، خدمت خلق اور اطاعت امیر تھا۔ “ خاکسار ایک فرقہ وارانہ تحریک نہ تھی جیسا کہ خاکسار تحریک کے 14 اصولوں میں سے پہلا اصول تحریک کی وضاحت یوں کرتا ہے ”ہم خاکسار نسل انسانی کے تمام فرقہ وارانہ جذبات اور مذہبی تعصبات کو اپنے نیک اور نفع رساں عمل سے کچل کر، لیکن مذہب کو برقرار رکھ کر ایک مساوی، غیر متعصبانہ، روادارانہ مگر غالب نظام پیدا کرنے کے درپے ہیں جس میں سب اقوام سے بجا سلوک اور ابکی بحا پرورش ہو اور جس کی بنیاد نیکی، سعی و عمل اور بے پناہ عدل ہو۔ “ اس طرح خاکسار تحریک کا 7 اصول کہتا ہے ”خاکسار سپاہی ہر قوم (مسلم، ہندو، سکھ، پارسی، عیسائی، یہودی، اچھوت وغیرہ) کے مذہبی اور معاشرتی جذبات کے احترام، اس کے مخصوص کلچر اور روایات کے قیام اور عام روادادی کے لیے کھڑا ہے۔ “

خاکسار سپاہی اپنے پاس بیلچہ رکھتے تھے اور خاکی وردی پہنتے تھے۔ خاکسار تحریک کے متعلق اے ڈی مضطر نے دستاویزات جمع کیے اور انہیں قومی ادارہ براے تحقیق تاریخ و ثقافت اسلام آباد نے چھاپا تھا۔ ان دستاویزات کے مطالعے سے خاکسار تحریک کو جاننے میں بہت مدد ملتی ہے۔ دستاویزات کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ تنظیمی لحاظ سے یہ تحریک آمرانہ تھی۔ بانی تحریک علامہ مشرقی ہی تمام اختیارات کا سرچشمہ تھے گو کہ ایک بے معنی سی مجلس شوریٰ بھی تھی لیکن تمام احکام علامہ کے ہی ہوتے تھے۔

خاکسار تحریک کے متعلق یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کے مسلم لیگ سے کبھی تعلقات اچھے نہیں رہے۔ بقول عبداللہ ملک ”مسلم لیگ کی مقبولیت امیر خاکسار کو ایک نظر نہ بھائی۔ “

مگر علامہ کبھی خاکساروں کو سیاست سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہیں اور کبھی بیان جاری کرتے ہیں کہ ہند کی آزادی کے لیے ہم مسلم لیگ کے ساتھ مل کر کام کریں گئے۔ علامہ نے جناح گاندھی مذاکرات کرانے کی بھی بہت کوشش کی۔ خاکسار تحریک کے ترجمان اخبار میں 19 جولائی 1946 ء کو علامہ نے ”پاکستان“ فوج بنانے کا اعلان بھی کیا۔ جس کے وضاحت علامہ نے یوں کی ”پاکستان کے نہ ملنے کی وجہ سے جو انتہائی مایوسی اور اضطراب اس وقت مسلمانوں میں ہے اس کو پیش نظر رکھ کر خاکسار تحریک نے ارادہ کر لیا ہے کہ پاکستان کو حاصل کرنے کی حمایت میں ایک عام عملی فضا تمام ہندوستان میں پیدا کی جائے اور جہاں تک ممکن ہو مسلمان کے پاکستان کے دعوے کو تقویت دی جائے۔ “

علامہ کے سیاسی خیالات کی طرح ان کے مذہبی خیالات بھی بے حد مختلف تھے۔ علامہ مشرقی مولوی کے بے حد خلاف تھے آپ کی مشہور کتب میں سے ایک کا نام ”مولوی کا غلط مذہب“ ہے۔ علامہ مشرقی کے مذہبی نقطہ نظر سے جہاں بہت سے لوگ متاثر ہوئے وہیں ان کو سخت تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ علامہ کی خاکسار تحریک کو 19 مارچ 1940 ء کے پولیس سے تصادم نے بے حد نقصان پہنچایا اور پھر کوشش کے باجود خاکسار تحریک مضبوط نہ ہوسکی۔ تحریک کو دوبارہ اٹھانے کے لیے الاصلاح میں جعلی و فرضی خطوط چھاپے گئے جیسا کہ 6 دسمبر 1946 ء میں ایک سبھاش چندر بوس کا ایک خط چھاپا گیا جس میں نیتا جی اپنے آٹھ لاکھ فوجیوں کو ہدایت دیتے ہیں کہ وہ ہندوستان کی آزادی کے لیے خاکسار تحریک میں شامل ہوجائیں۔

علامہ نے ہندوستان پر فوجی قبضہ کرنے کی سکیم بھی پیش کی جو کہ قابل عمل معلوم نہیں ہوتی۔ وقت کے ساتھ ساتھ تحریک میں اختلافات بھی شروع ہوگئے۔ تحریک میں شامل اکثریت مسلم لیگ سے صلح کی خواہشمند تھی مگر علامہ ماننے کو تیار نہ تھے۔ پھر الاصلاح کا پنجاب ایڈیشن جاری ہوا جس کے ایڈیٹر علامہ کے فرزند اکرام اللہ خان تھے۔ 7 مارچ 1947 ء کے پنجاب ایڈیشن میں ایڈیٹر نے لکھا ”علامہ مشرقی ذاتی طور کچھ سمجھیں یا کہیں اس سے بحث نہیں ہماری پالیسی اجتماعی طور پر لیگ کے عین حق میں ہے۔

” علامہ نے پھر جولائی 1947 ء میں تحریک کو ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ علامہ نے جب تحریک کو منتشر کا اعلان کیا تو ان کے اس خطبے کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ علامہ اب ایک تو تھک چکے تھے اور دوسرا تقریباً مایوس بھی تھے۔ پاکستان بننے کے بعد علامہ نے کشمیر کے لیے کام کی کوشش کی مگر ان کو حکومت سے اس کی اجازت نہ ملی۔ پاکستان بننے سے پہلے بھی علامہ نے کئی مرتبہ جیل کاٹی اور پاکستان بننے کے بعد بھی علامہ کو جیل میں رکھا گیا۔ علامہ پر کبھی جناح صاحب حملہ کروانے کا الزام لگا تو کبھی ڈاکٹر خان صاحب کے قتل کا۔ لیکن جیل رکاوٹ نہ بنی اور علامہ نے اپنا کام ہمیشہ جاری رکھا۔

علامہ مشرقی کے متعلق آج کل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے جس میں بہت سی عجیب و غریب باتیں بیان کی گئی ہیں۔ بہت سے دوستوں نے کہا کہ آپ علامہ مشرقی پر کچھ لکھیں تو آخر علامہ کے گھر ذیلدار روڈ اچھرہ میں خاکسار تحریک کے دفتر حاضری دی۔ اگر ہم اچھرہ کے میٹرو سٹیشن پر اتریں تو وہاں ایک مینار والی مسجد نظر آتی ہے اسی کے ساتھ گلی میں داخل ہوجائیں تو دوسرے چوک میں علامہ کا مزار ہے۔ ساتھ ہی ماما کباب فروش کی دکان ہے تو رستہ پوچھنے کے لیے اس کی دکان کا نام لیا جاسکتا ہے۔

تو خیر علامہ کے قبر پہنچے تو وہاں 19 مارچ 1940 ء کے شہدا کی یاد میں یوم شہدا منانے کی تیاری کی جارہی تھی اور ہماری قسمت کے ہمیں دفتر کُھلا مل گیا کیوں کہ تقریب کی تیاریوں کے باعث دفتر کافی روز سے بند تھا۔ وہاں پر ایک صاحب سے ملاقات ہوئی جو کہ تحریک کے مرکزی عہدے پر تھے انہوں نے علامہ مشرقی پر تقریر سنائی جو وہ شاید ہر ایک کو سُناتے ہوں گئے لیکن ان کا اخلاق بے حد اچھا تھا اور وہ علامہ کے صحیح نظریاتی پیروکار لگ رہے تھے۔

لوہے کے مرکزی دروازے سے داخل ہوں تو ایک وسیع میدان سے نظر آتا ہے جہاں ایک جانب دو کمرے اور کچن ہے ساتھ ایک شو کیس میں ایک گاڑی ہے۔ اور تھوڑی بلندی پر ایک ہال ہے جس کے اندر علامہ ان کی ایک اہلیہ اور ان کے ایک بیٹے کی قبر ہے۔ قبریں بالکل سادہ ہیں۔ کوئی دربار کا ماحول نہیں بنایا گیا۔ قبروں کے ارد گرد ہال میں مختلف تقریبات کی اور تحریک کے حوالے سے قدیم و جدید تصاویر بھی موجود ہیں۔ اب باہر نکلے تو شو کیس والی کار کو غور سے دیکھا جو کہ اب کسی بھی طرح گاڑی نہیں لگتی۔

اس گاڑی کے متعلق معروف لکھاری عبدالمجید شیخ صاحب کا دعویٰ ہے کہ یہ علامہ کو ہٹلر نے تحفے میں دی تھی۔ گاری 1942 ء رینالٹ بینز ہے۔ اور ”رینالٹ“ اب بھی گاڑی پر لکھا نظر آتا ہے۔ شیخ صاحب کے مطابق انہوں گاڑی کا چیسز نمبر کمپنی کو بھیجا تو انہوں نے بتایا ”یہ کار ہٹلر نے لاہور، انڈیا کے مسٹر عنایت اللہ خان مشرقی کو بطور تحفہ دی تھی۔ یہ دنیا بھر میں صرف ایک ہزار بنی تھی۔ “ لیکن علامہ کے پوتے اور تحریک کے موجودہ جنرل سیکٹری ضیغم مشرقی صاحب نے اپنے ایک مضمون میں وضاحت کی ہے کہ اس گاڑی کا ہٹلر سے کوئی تعلق نہیں اور یہ گاڑی علامہ نے خود خریدی تھی۔

ان کے بقول انہوں نے کمپنی کو چیسز نمبر بھیجا تھا جہاں سے معلوم ہوا کہ یہ گاڑی علامہ نے خود خریدی ہے۔ علامہ عنایت اللہ خان مشرقی نے 27 اگست 1963 ء کو وفات پائی۔ وہاں جو صاحب ملے تھے ان سے علامہ کی معروف وصیت کے متعلق پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ بالکل علامہ مرحوم کی وصیت کے مطابق یہاں کلاک ٹاور بنایا جائے گا اور اس پر لکھا جائے گا کہ جو قومیں وقت کی قدر نہیں کرتیں، وقت بھی انہیں بھلا دیتا ہے۔

علامہ عنایت اللہ خان مشرقی کی شخصیت کو سمجھنا بے حد مشکل ہے۔ بقول ڈاکٹر غلام جیلانی برق علامہ مشرقی ”ایک عظیم ادیب، مفسر، فلسفی، اور آتش مزاج انقلابی رہنماء تھے۔ “ اور شاید بڑے لوگوں کے خمیر میں تضادات پائے جاتے ہیں۔ علامہ کی سوانح کا مطالعہ کرتے ہوئے میرے ذہن میں بار بار ایک ہی چیز آتی ہے کہ اس قدر ذہین شخص نے کیا، سیاست میں آکر خود کو برباد نہیں کرلیا؟ احسان دانش علامہ کے متعلق لکھتے ہیں ”وہ علمی طور پر بہت بلند شخصیت تھے۔ ریاضی میں جو ان کی ڈگری تھی بہت کم لوگ اس تک پہنچتے ہیں۔ اس طرح عربی پر جو انہیں عبور تھا وہ بہت کم دیکھا گیا ہے۔ اگر وہ تعلیمی شعبے میں ہوتے تو وائس چانسلری ان کے لیے معمولی بات تھی لیکن انہیں نہ جانے کس طرح لیڈری کا جنون اور ماضی اسلام کا احیاء کا ذوق نے نکلا۔ “

علامہ عنایت اللہ خان مشرقی بلاشبہ اگر اپنا وقت، زیادہ علمی میدان پر صرف کرتے تو مسلمانوں کو بے حد فائدہ ہوتا ناجانے کیوں علامہ کی سوانح کا مطالعہ کہہ رہا ہے کہ کیسے کیسے گوہر نایاب سیاہ سی سیاست میں خود کو ضائع کر گئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •