پاکستان میں صحافت کہاں کھڑی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر برس صحافت کا عالمی دن اس عہد کی تجدید کے ساتھ منایا جاتا ہے کہ خبر کی ترسیل سے لے کر اشاعت اور عوام کادرست معلومات تک کی رسائی کے لیے کسی جبر ی نظام کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ بلکہ اس امر کو پیشے سے زیادہ فرض سمجھ کر بخوبی سر انجام دیا جائے گا ایسا تقریبا ہر سال ہوتا ہے۔ اور اس موقع پر اس راہ میں قبانیاں دینے والوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ یہ کام ملکی و بین الاقوامی سطح پر بنی پریس فریڈم کا تحفظ کرنے والی مختلف تنظیمیں کرتی ہیں۔ تو مقامی سطح پر صحافتی ایوانوں میں تقاریب کا انعقاد کیا جاتا ہے اس دن کو بھرپور طریقے سے منانے کا مقصد آزادی صحافت کے تحفظ کو یقینی بنانے کا عہد ہے۔

دنیا بھر کے مخلتف ممالک جن میں جنگ زدہ ممالک بھی ہیں اور خوشحال ملک بھی۔ جہاں مختلف ادوار میں آزادی صحافت پر قدغن لگایا گیا تحقیقاتی رپورٹس سامنے لائے جانے پر رپورٹرز کا اغوا کیا جانا سنگین نتایج کی دھمکیا ں یا قتل جیسے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔ اور یہ سلسلہ مملکت خداد میں بھی جاری رہا ہے تحقیقاتی خبر اجاگر کرنے پر پہلے پہل تو صحافیوں کو داموں کے عوض خریدنے کی کوشش کی جاتی ہے اس کے بعد حسب ضرورت باقی مراحل سے گزارا جاتا ہے۔ لیکن اس بحران پر متعلقہ ادارہ اخبار یا ٹی وی اک آدھ مذمتی بیان کے سوا کچھ بھی نہیں کرتا۔

ادارے کے لیے دن رات اک کر نے والا صحافی جان سے چلا جاتا ہے۔ لیکن اس کے اہل و عیال کے ساتھ اظہار ہمدردی کے سوا کچھ نہیں کیا جاتا نہ کبھی وہ عوامل سامنے لانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ نہ ہی اس پر مزید پیش رفت ہوتی ہے بلکہ اسے سانحہ سمجھ کر بھلا دیا جاتا ہے۔

دور آمریت میں پاکستان میں صحافت کو بڑے چیلنجز کا سامنا رہا۔ جہاں معلومات تک عوامی رسائی آزادانہ نہ تھی اسے پاکستانی میڈیا پر سنسر شپ کے برے ادوار میں گردانا جاتا ہے۔ لیکن اُ س وقت مزاحمت کی صحافت پر یقین رکھنے والے ایڈیٹرز احتجاج کے طور پر اخبار کے خالی صفحات چھاپتے رہے۔ بعد ازاں جس کے دو رس اثرات مرتب ہوئے اور آزادی صحافت کی تحاریک مضبوط ہوئیں۔ لیکن مملکت خدادا میں میڈیا پر حالیہ سنسر شپ دور آمریت سے بھی بدترین شکل میں جاری ہے۔ کیونکہ اب سنسر شپ کی طرح بدل چکی ہے۔

میڈیا ہاوسسز سے وابستہ افراد اس امر سے بخوبی آگاہ ہیں کہ پاکستان میں الیکٹرنک میڈیا کی آمد کے بعد جیسے ہی اس شعبہ نے ایک باضابطہ انڈسٹری کا روپ اختیار کیا ہے تب سے اس کا معیار بھی کافی تبدیل ہو چکا ہے۔ اخباروں میں اشتہارات کے ریٹ مقرر ہیں تو ٹیلی وژن پر بھی کمرشلز کا حساب کتاب ہوتا ہے۔ اس اشتہاری صحافت کی دوڑ میں اخبار اور ٹی وی مالکان کے براہ راست تعلقات اور ترجیحات ان اداروں اور کمپنیز سے ہیں۔ جو انہیں اشتہارات فراہم کرتے ہیں ایسے میں ان اداروں اور کمپنیز سے متعلقہ خبروں کے حوالے سے اخبار اور ٹی وی جانبدار پالیسی اختیار کرتے ہیں۔ جو کہ آزای اظہار رائے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ثابت ہوتا ہے۔

یہ معاملہ بہرحال نجی سطح کا ہے مجموعی طور پر ریاستی اداروں سے غیر جانبدارانہ رپورٹنگ نہیں ہوتی۔ اس کے بیچ بھی تحفظات آڑے آجاتے ہیں ایسی کئی خبریں دبا دی جاتی ہیں۔ جن پر کافی عرصے تک محنت کی جاتی ہے۔ صحافی اخبار کی ایڈیتوریل پالیسی اور ٹیلی وژن کے مفادات سے وابستہ رہتا ہے اور ایسے میں خبروں کی آزادانہ روانی برقرار نہیں رہ پاتی۔

پاکستانی میڈیا موجودہ عرصے میں جس بحران سے گزر رہا ہے اس سے ہم بخوبی آگاہ ہیں۔ موجودہ حکومت کی آمد کے ساتھ ٹی وی اور اخبارات کے اشتہارات اور ان پر قایم ریٹس بڑے پیمانے پر کم کر دیے گے۔ جس نے اشتہارات کی آمدن سے وابستہ میڈیا کو اپاہج کر کے رکھ دیا۔ کئی بڑے نام جو پرائم ٹائم کے ٹی وی شوز کی میزبانی کیا کرتے تھے۔ وہ یو ٹیوب چینلز تک محدود کر دیے گے بڑے اینکرز کی تنخواہوں میں کٹوتی ہونے لگی۔ رپورٹرز کی تنخواہیں آدھے سے بھی کم ہو گیں میڈیا انڈسٹری میں مالی بحران کے باعث ڈاون سائزنگ شروع ہوئی۔ جس کے باعث کئی محنت کش صحافی بیروزگار ہو گے۔

مجموعی طور پر میڈیا انڈسٹری سے اٖفرادی قوت کو کم کیے جانے پر عمل در آمد شروع کیا گیا۔ اور کم سے کم افراد کے ذریعے اداروں نے اپنے بیورو ہاوسسز کو چلانے کی اک نئی طرح ڈال دی۔ اس ساری ہیجانی کیفیت میں میڈیا ہاوسسز کی جانب سے مالی بحران کا راگ الاپ دیا گیا۔ جبکہ مالکان نے اس ساری صورتحال سے خوب فایدہ اٹھایا اخبارات اور ٹی وی چینلز میں تنخواہوں کی بروقت ادائیگی جو کبھی بھی ممکن نہ ہوئی اسے مزید تقویت بخش دی گئی۔ اور یہ سب اس حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے جاری ہے۔

اک بحرانی کیفیت یہ بھی سامنے آئی کہ موجودہ حکومت نے میڈیا ہاوسز کے بقایا جات ادا نہیں کیے۔ جو سابقہ حکومت کے دور سے حکومت اور اس کے اداروں پر واجب الادا تھے۔ حکومت کے پاس اس صورتحال کا اک ہی جواب تھا اور ہے۔ کہ حکومت کی کفیات شعاری مہم میں یہ بات بھی شامل ہے۔ کہ میڈیا کو اشتہارات کی مد میں جو رقم ادا کی جاتی ہے اس پر بھی نظر رکھی جائے اور زیادہ سے زیادہ سرمایہ بچایا جائے۔ تاکہ ملک پر سے قرضوں کا بوجھ کم ہو سکے۔

حالانکہ یہ حکومت اس بات سے نا آشنا نہیں ہے کہ اس کے موجودہ پیدا کردہ میڈیاء کے بحران میں لاکھوں لوگ بیروزگار ہو گئے ہیں۔ جب کہ اسی حکومت نے بڑے پیمانے پر ملک سے بیروزگاری کے خاتمے اور نئی نوکریاں دینے کے دعوے بھی کر رکھے ہیں۔ یہ تو ان سے ہو نہیں سکا البتہ پہلے سے روزگار پر لگے افراد کو بیروزگار کر دیا گیا۔

میڈیا میں جاری اس بحران ہر صحافی تنظیموں نے احتجاج کا راستہ اختیار کیا۔ لیکن یہ بھی موثر نہیں رہا کچھ عرصہ تک پریس کانفرنسز کا بایکاٹ جاری رہا۔ بعد ازاں وہ بھی بحال ہو گیں صحافی کمیونٹی اس قدر بڑے بحران میں بھی متحد نہ ہو سکی۔ بدقسمتی سے پاکستان میں صحافت جرنلسٹ یونیز اور پریس کلب مافیاز کی لونڈی بنی نظر آتی ہے۔ جو انہی کی گود میں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔

پاکستانی صحافتی کمیونٹی میں یونینز کی سیاست میں اس قدر تقسیم اور لڑائیاں پائی جاتی۔ جن کے باعث صحافی کمیونٹی تقسیم ہو کر رہ گئی ہے اور اس تقسیم کا فائدہ تیسری قوتیں اٹھا کر آزادی صحافت کا باب ہی ختم کرنے پر تلی نظر آ رہی ہیں۔ مزاحمتی صحافت پر یقین رکھنے والے اکثر صحافیوں کو دیوار کے ساتھ لگائے جانے کا عمل جاری ہے۔ اگرچہ پاکستان میں میڈیا کی آزادی بحثیت مجموعی کئی عرب مملک اور دیگر ترقی پذیر ممالک سے بہتر ہے۔ گلف کی ریاستوں میں صورتحال انتہائی ابتر ہے جہاں سینکڑوں لوگ کے حادثات میں مارے جانے کی اطلاعات بھی میڈیا کی زینت نہیں بنتیں۔ وہیں سعودی عرب ایران ترکی اور دیگر ترقی پذیر ممالک میں صحافت کی آزادی نظر نہیں آتی۔ اس کی مثالیں ماضی قریب میں دیکھی گئیں ہیں۔ پاکستان میں صحافتی کمیونٹی کم از کم ان مملک سے سبق حاصل کر سکتی ہے۔ اور اس کمیونٹی کو مزید تقسیم سے بچایا جا سکتا ہے۔

اک المیہ یہ بھی یہ کہ پاکستان میں اس قدر وسیع میڈیا انڈسٹری ہونے کے باوجود اس پر کوئی موثر قانون سازی نہیں ہو سکی ہے۔ پیمرا کے نام پر اک ادارہ میڈیا کو کنٹرول ضرور کرتا ہے۔ لیکن کوئی بھی ایسی قانون سازی نہیں ہو سکی جس سے میڈیا کے اداروں کو اپنے اندر ایسے قوانین بنانے پر پابند کیا جا سکے جن سے ورکر صحافیوں کے حقوق کی فراہمی بروقت ممکن ہو سکے۔ ضروارت اس امر کی ہے کہ آزادی صحافت پر یقین رکھنے والے اس کمیونٹی کے افراد اور تنظیمیں باہمیں اتفاق کی راہ اپنائیں۔

صحافی دوسروں کے حقوق کی بات کر سکتے ہیں وہیں یہ اپنے حقوق بھی چھین کر لے سکتے ہیں۔ قومی میڈیا ستر اور اسی کی دہائیوں سے سبق حاصل کرے۔ موجودہ سنسر شپ کے خلاف یک زبان آواز بلند کی جائے۔ تاکہ صحافیوں کے حقوق سے لے کر میڈیا ریگولیٹری تک تمام مطالبات منوائے جا سکیں۔ وگرنہ یہی ہیجانی کیفیت جاری رہی تو پاکستانی صحافت عنقریب عرب ممالک کی صحافت کے ساتھ کھڑی نظر آئے گی جو آزاد نہیں کہلائے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •