محنت كی داستان: دوسری كہانی
اپنی مدد آپ کے تحت خود پر بھروسا کرتے ہوئے محنت کرنا اور قدم قدم ترقی کی طرف بڑھنا ایک قابلِ ستائش عمل ہے۔ عام دستور یہ ہے کہ بڑے خواب دیکھنے والوں کو کافی رکاوٹوں اور تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ٱن کی کوششوں کی تعریف اور حوصلہ افزائی کم ہی کی جاتی ہے۔ ہر خواب دیکھنے والا اس صورتِ حال کو سمجھ سکتا ہے۔ ہمارے اردگرد ایسے کردار ضرور ہوتے ہیں جو محنت کی عملی شکل ہوتے ہیں۔ نہ مشکل حالات کا رونا اور نہ ہی تنقید کی پرواہ، بس اپنی ہی دھن میں کام کیے جانا ایسے لوگوں کا خاصہ ہوتا ہے۔ قانون کی طالبِ علم ہونے کے ناتے اس شعبے کہ کچھ لوگوں سے جان پہچان ہے۔ ٱنہیں میں سے ایک اس کالم ”محنت کی داستان“ کی دوسری کہانی ہیں۔
اگر آپ گوگل کھولیں اور اس میں افراسیاب موہل ٹائپ کریں تو آپ کے سامنے اِن کا تمام پروفائل آ جائے گا۔ وکالت کے میدان میں چند برس ہی ہوئے ہیں ابھی لیکن اس میدان کی کافی جانی پہچانی شخصیت بن چکے ہیں۔ جس کی ایک وجہ اِن کا سماجی رابطے کی سائیٹس کا مثبت اور منظم استعمال بھی ہے۔ قارئین سوشل میڈیا آج کے دور کی ایک ایسی حقیقت ہے جو آپ کو پیشہ ورانہ طور پر آگے بڑھنے میں بہت مدد دے سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آپ اس کا مثبت اور تعمیری استعمال کریں۔
آپ لاء گریجویٹس کے لیے ایک اکیڈمی بنا چکے ہیں جس کے کئی مقاصد ہیں۔ اول یہ جوڈیشری کے امتحانات کی تیاری کرواتی ہے اور دوسرا یہ نئے وکلاء کے لیے ایک طرح سے تربیتی مرکز ہے۔ اِن کا کہنا ہے کہ یہ کوئی کمرشل اکیڈمی نہیں ہے۔ اس ضمن میں میری ان سے جو گفتگو ہوئی وہ سوالاَ جواباَ پیشِ نظر ہے۔
سوال: جوڈیشل اکیڈمی بنانے کا خیال کب آیا؟ کس چیز نے اس مقصد کے لیے تحریک دی؟
جواب: میں کافی عرصے سے فیس بک گروپس کے ذریعے لاء سٹوڈنٹس اور گریجویٹس کی مدد کر رہا تھا۔ بہت سے لوگ رہنمائی کے لیے کالز کیا کرتے تھے۔ دو سال پہلے مجھے خیال آیا کہ مجھے اس سب کو ایک ادارے کی شکل دے دینی چاہیے۔ تاکہ جو طلباء خود کو unguided سمجھتے ہیں اور کسی استاد کی تلاش میں ہیں وہ یہ اکیڈمی جوائن کر سکیں۔
سوال: آغاز کے بارے میں بتائیں، کیسے شروع کیا اور کتنے سٹوڈنٹس تھے شروع میں؟
جواب: اکیڈمی کا آغاز میں نے اپنے آفس سے ہی کیا۔ ابھی بھی یہ میرے آفس میں ہی ہے۔ شروع میں تین چار سٹوڈنٹس ہی تھے اور ہم سب مل کر پڑھا کرتے تھے۔ ٱن میں سے ایک سٹوڈنٹ آج کل سول جج کے طور پر کام کر رہا ہے۔
سوال: کس قسم کا فیڈ بیک ملا؟ منفی ردِعمل کا سامنا کیسے کرتے ہیں؟
جواب: آغاز میں ردِعمل ملا جلا تھا۔ منفی بھی تھا اور مثبت بھی۔ یقینناَ منفی ردِعمل آپ کا حوصلہ پست کرتا ہے لیکن میں نے اسے کبھی بھی زیادہ اہمیت نہیں دی۔
سوال: کمرشل اکیڈمیز اور آپ کی اکیڈمی میں کیا فرق ہے؟
جواب: میں اکثر کہتا ہوں کہ اکیڈمی سے زیادہ یہ ایک مشن ہے۔ ہم فیس ضرور لیتے ہیں لیکن اس کے باوجود بہت سارے طالب علم برائے نام فیس پر پڑھ رہے ہیں۔ ہمارا ایک مقصد ہے کہ ہر روز ہم سب لوگ کچھ سیکھیں۔
سوال: ایک قدرے نئے وکیل کا لاء گریجویٹس کی تربیت کے لیے کامیابی سے ایک پلیٹ فارم بنانا، کیا یہ سب آسان تھا؟
جواب: آسان نہیں تھا۔ آغاز میں لوگ آپ پر اعتماد نہیں کرتے لیکن پھر نتائج دیکھ کر اور ثابت قدم رہنے سے چیزیں آسان ہونے لگ جاتی ہیں۔
سوال: کس حد تک کامیاب رہے؟
جواب: میں سمجھتا ہوں میں 100 فی صد کامیاب رہا۔ قانون جاننا، مستقل پڑھنا اور عملی پہلوٶں کو جاننا ایک وکیل کے لیے بہت ضروری ہے۔ یہ ایسا پلیٹ فارم ہے جو اپنے سے منسلک ہر کسی کو فائدہ پہنچا رہا ہے خواہ وہ استاد ہیں یا طالب علم۔


