آنکھ کے بدلے آنکھ، کان کے بدلے کان، کاش کہ تیزاب کے بدلے تیزاب ہوتا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سورۃ المائدہ۔ آیت 45
ترجمہ:۔ توراۃ میں ہم نے یہودیوں پر یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت، اور تمام زخموں کے لیے برابر کا بدلہ پھر جو قصاص کا صدقہ کر دے تو وہ اس کے لیے کفارہ ہے اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی ظالم ہیں۔

میٹرک کلاس میں پہلی بار جب میں نے قرآن پاک کو مکمل ا ردو ترجمہ کے پڑھا تو تو اس آیت نے مجھے ایک لمحے کے لئے متوجہ کیا کہ اس حکم کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ جب مختلف تفاسیر کو دیکھا تو ان میں ایک توضیح یہ بھی پیش کی گئی کہ ”جنگجو قبائل اپنے قبیلے کے کسی ایک فرد کے ساتھ ہونے والے ظٓلم کے بدلے میں مخالف قبیلے کے مجرم کو اس کے جرم کی پاداش میں زیادہ سخت اور مہلک سزا دیتے تھے۔ اور اس طرح قبائل کے مابین عداوت بڑھتی ہی چلی جاتی تھی۔ “ مجھے یہ تشریح قدرے حقیقت سے قریب تر محسوس ہوئی۔

خیر وقت گزرتا گیا۔ میں نے بچپن سے اخبارات میں بہت پڑھا کہ قاتلوں کو پھانسی پر چڑھایا گیا۔ اگرچہ قاتلوں کو پھانسی پر چڑھانے کے باوجود باہمی رنجش اور دشمنی کی بنیاد پر قتل کی وارداتیں آج بھی ہو رہی ہیں۔ لیکن مجرم کو اس کے کیے کی سزا ملنا بلاشبہ ایک معتدل معاشرے کو قائم رکھنے کے لئے ازحد ضروری ہے۔ وگرنہ محض چند شر پسندوں کے ہاتھوں کسی کی بھی جان، مال اور عزت محفوظ نہ رہے۔

میں یہ نہیں کہتی کہ اس ملک میں کسی بھی مجرم کو سزا نہیں ملتی۔ اکثر قاتل تختہِ دار تک ضرور پہنچتے ہیں لیکن میں نے یہاں آج سنگین معاشرتی جرائم کی فہرست میں سے جس بدترین جرم کی بات کرنی ہے وہ میرے نزدیک کسی کو جان سے مار دینے سے بھی زیادہ بدتر جرم ہے (معلوم نہیں شاید میں جذبات کی رو میں غلط کہہ رہی ہوں مگر میں ایسا ضرور کہوں گی) ۔ یہ جرم ہے تیزاب گردی کا۔ مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ دنیا کے مختلف ملکوں میں اس کی شرح کیا ہے اور پاکستان اس وقت دنیا میں کتنے نمبر پر ہے جہاں ایسی وارداتیں ہوتی ہیں۔

نہ ہی میں نے پاکستان میں قانون سازی کی تاریخ کھنگال کریہ تلاش کرنا ہے کہ کس کس دور میں اس سلسلے میں کیا قانون سازی ہوئی۔ لیکن صرف اتنا بیان کرنا ہے کہ جب تک ہمارے ملک میں پولیس کا نظام کرپٹ سیاسی شخصیات، جعلی پیروں اور معاشرے کے دیگر منفی لیکن با اثر کرداروں سے دوستی، یاری میں پرورش پاتا رہے گا تمام تر قانون سازیاں محض صفحات کو کالا کرنے سے زیادہ وقعت نہیں رکھیں گی۔

پچھلے چند دن سے فیس بک پر ایک وڈیو وائرل ہو رہی ہے جو کہ شاید تیزاب گردی کی سب سے بدترین رپورٹ ہے، یہ وڈیو منڈی بہاوالدین بھلیسرانوالہ، ملکوال، پنجاب میں تیزاب گردی کا شکار 22 سالہ ماریہ شاہین کی اپنے والدی کے ہمراہ یہ بیان دینے کی وڈیو ہے کہ اس پر اس علاقے کے  پیر صاحب نے جنسی تشدد کے بعد تیزاب پھینکا اور اسے ایک کمرے میں بند کر دیا۔ لڑکی کا تمام تر چہرہ اور آنکھیں مسخ جب کہ سر کے بال مکمل جل چکے تھے، اسے اسی حالت میں دو سال تک چھپائے رکھا اور اب دو سال بعد اس لڑکی کو اس کے والدین کے حوالے کیا گیا ہے۔

فیس بک پر وائرل ہونے والی اس وڈیو میں صرف دیکھنے والے کی راتوں کی نیندیں اڑ گئی ہوں گی، نہ جانے اس کے ماں باپ اور اس علاقے کے لوگ حقیقت میں اس مظلوم لڑکی کو اس حالت میں دیکھنے کے بعد کس کیفیت سے گزر رہے ہوں گے۔

مزید جو وڈیوز اس سلسلے میں دیکھنے کو ملیں ان میں لڑکی کے والدین اور بھائی نے یہ بیان دیا ہے کہ ان کی بیٹی پیر صاحب کے گھر بطور خادمہ کام کرتی تھی۔ اور وہیں رہتی تھی۔ پیر سید عزیر شاہ کا ڈیرہ چک سیداں، ملکوال تھانہ میانی کی حدود میں ہے۔ جہاں دو سال قبل اس لڑکی (ماریہ شاہین) کی عزت کے ساتھ کھیلا گیا، اس پر تیزاب پھینک دیا گیا۔ دو سال تک والدین کو ملنے نہیں دیا اور جھوٹی تسلیاں دے کر اور پیسے دے کر بہلاتے رہے۔ بقول والدین ان دو سالوں میں انہوں نے بارہا تھانے جا کر پرچہ درج کرانے کی کوشش کی لیکن تھانیدار نے بالکل ان کی بات نہیں سنی اور کوئی کارروائی نہیں کی گئی ماریہ کی گمشدگی کے سلسلے میں۔ یونہی دو سال گزر گئے۔

دو سال بعد بھی لڑکی کا سراغ اس طور ملا کہ پیر عزیز شاہ کے گھر شادی تھی اور مہمان بھی آئے ہوئے تھے۔ ایک بچہ کھیلتے کھیلتے اس کمرے تک چلا گیا جس میں وہ لڑکی (ماریہ شاہین) قید تھی اور باہر سے تالا لگا ہوا تھا۔ بچے نے پوچھا اندر کون ہے تو اسے بتایا گیا کہ اندر پیر صاحب نے ایک جن قید کیا ہوا ہے۔ تاہم لڑکے نے پھر بھی ایک کھڑکی سے اندر جھانکا تو اسے وہی بدنصیب لڑکی دکھائی دی جو کی ظاہری حالت واقعی اس وقت کسی جن یا آسمانی مخلوق سے کم خوفناک نہیں دکھائی دے رہی تھی۔ اس بچے نے باقی لوگوں کو بتایا اور بات پھیلی لہذا پولیس نے اس وقت یہ کارروائی کی کہ لڑکی کے والدین کو بلوا کر ان کی 22 سالہ بیٹی مسک شدہ سر، آنکھوں اور چہرے کے ساتھ ان کو واپس کی۔

وڈیو وائرل ہوئی۔ صرف ماں باپ کے ہی نہیں، سب اہل درد لوگون کے کلیجے پھٹے ہوں گے اس لڑکی کی یہ ہالت دیکھ کر۔ بات وزیر، اعلی پنجاب تک پہنچی، انہوں نے اپنے ترجمان ڈاکٹر شہباز گل کو بھیجا اور آج کی رپورٹ کے مطابق منڈی بہاوالدین متاثرہ لڑکی ماریہ شاہین، والد محمد رمضان اور والدہ زبیدہ خانم کے ساتھ لاہور منتقل کیا گیا ہے، ماریہ شاہین کو سرکاری اخراجات پر علاج معالجہ کروایا جائے گا۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کا چہرہ اس قدر مسخ ہو چکا ہے کہ پاکستان میں اس کا علاج ہوا بھی تو کس حد تک مکمل علاج کر پائیں گے ہمارے سرکاری ہسپتال؟ کیا اس کا چہرہ اس قابل ہو سکے گا کہ وہ پھر سے ایک نارمل زندگی بسر کر سکے اور بچے اس کا چہرہ دیکھ کر خوف نہ کھائیں؟

کیا  پیر عزیر شاہ کو اس کا جرم ثابت ہونے پر ایک ماہ کے اندر سزا سنا دی جائے گی؟ یا حسبِ معمول ناکافی شہادتوں کا بہانہ کر کے اسے باعزت بری کر دیا جائے گا؟ شاید ایک ایسے معاشرے میں اس قسم کے سوال کرنا ہی حماقت ہے کہ جہاں پیر پرستی کو جنت کا ویزہ سمجھا جاتا ہو۔ جہاں کے ان پڑھ اور توہم پرست عوام سے ووٹ پانے کے لئے سیاسی لیڈر بھی ان پسماندہ علاقوں کے پیروں کے پاس جا کر ان کی ہر قسم کی روایت اور توہم پرستی کو بھی عقیدتا قبول کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

حقوقِ نسواں کا نعرہ بھی اسی دن سے پیری مریدی کی بھینٹ چڑھ گیا تھا جب آکسفورڈ سے فارغ التحصیل مستقبل کی متوقع وزیرِ اعظم نے پنجاب کے ضلع چکوال میں ایک پیر صاحب کے آستانے پر جا کر وہاں کے ایک مجذوب سے محض اس لئے سر پر ڈنڈا کھایا کہ وہ مجذوب جس کے سر پر ڈندا مار دے اس کی دلی مراد پوری ہوتی ہے۔ لہذا متوقع وزیر اعظم کی دلی مراد پوری ہوئی اور سارے علاقے کے لوگوں نے آنکھیں بند کر کے اس اس عقیدت گذار مومنہ کی پارٹی کو ووٹ دیا اور ان کی پارٹی کو بھاری اکثریت سے کامیابی ملی۔

مجھے محض اس ایک سیاسی پارٹی کی خاتون قائد سے شکوہ نہیں۔ یہاں تو آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے۔ اس وقت ہماری قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں بیشتر اراکینِ اسمبلی کا تعلق نامورپیر، گدی نشین اور مخدوم گھرانوں سے ہے۔ پاکستان کی سیاست میں کئی دھائیوں سے خاندان اپنے اپنے علاقوں سے مختلف سیاسی جماعتوں کی چھپر چھاؤں میں محض اس پیری مریدی کے زور پر ہی ووٹ پا کر کامیاب ہوتے ہیں لیکن اس قدر بھانک اور لرزہ خیز واردات کے بعد بھی یہ اراکینِ اسمبلی کوئی ایسا بل نہیں پاس کروائیں گے کہ جس میں خانقاہوں پر لڑکیوں کو بطور خادمہ مستقل طور پر رکھنے والے پیر کو مجرم قرار دیا جائے۔ کوئی ایسا قانون جس کے تحت مزاروں کے احاطوں میں چرس اور منشیات کا کاروبار بند کروایا جائے۔ نہیں ہر گز نہیں۔ کیونکہ ایسے قوانین پاس کرنے سے خودان گدی نشینوں کی آمدنی کو زوال آجائے گا۔ پھر وہ اسمبلیوں میں پہنچنے تک کی الیکشن کی رقم کہاں سے پائیں گے؟

مزید کیا لکھوں؟ اگر اب بھی مظلوم ماریہ شاہین سے ساتھ رونما ہونے والی لرزہ خیز واردات سے بھی صاحبانِ اقتدار کی آنکھیں نہ کھلیں۔ اب بھی تیزاب گردی والے مجرم چند ماہ جیل میں رکھ کر چھوڑ دیے گئے۔ تو اس تیزاب گردی کے سلسلے نے کبھی کم نہیں ہونا۔ کاش کہ اس ریاستِ مدینہ میں تیزاب گردی کے مجرم کے لئے آنکھ کے بدلے آنکھ، کان کے بدلے کان کی پیروی میں تیزاب کے بدلے تیزاب کی سزا سنائی جائے تو شاید آئندہ اس گھناؤنے فعل کا مرتکب یہ فعل انجام دینے سے پہلے اپنی سزا کا سوچے گا۔ مگر سزا کا بھی تو تب ہی سوچے گا جب پولیس کا محکمہ مکروہ چہروں اور غلیظ روحوں سے پاک کیا جائے گا۔ وگرنہ سنتے رہیئے تیزاب گردی کی ہولناک خبریں ہر دور میں خواہ ملک میں جمہوری نطام ہو یا آمرانہ۔ نہ جہالت ختم ہو گی نہ ہی تیزاب گردی۔

۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •