فوج پی ٹی ایم کو صفحہ ہستی سے مٹا سکتی ہے، مگر۔ ۔ ۔
پی ٹی ایم کی لفظی گولہ باری اور فوج کے خلاف زبان درازی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ شروع دن سے پی ٹی ایم کے پلیٹ فارم سے فوج کے خلاف نا زیبا نعرے، ناقابل اشاعت گالیاں اور بے بنیاد الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔ منظور پشتین بذات خود انتہائی نرم لہجے میں بات کرتے ہیں لیکن علی وزیر اور گلالئی اسماعیل سمیت دیگر رہنماؤں کی ایسی متعدد تقاریر سوشل میڈیا پر موجود ہیں جو نہ صرف انتہائی اشتعال انگیز ہیں بلکہ حقائق کے منافی بھی ہیں۔
پی ٹی ایم کے پلیٹ فارم سے نہ صرف فوج مخالف نعرے لگے ہیں بلکہ ریاست کو بھی بدنام کرنے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ اس سب کے باوجودایک محب وطن پاکستانی کے طور پر میرا ذہن یہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہے کہ قومی اسمبلی کے دو منتخب نمائندے جن میں سے ایک کا آئینی ترمیمی بل حال ہی میں قومی اسمبلی سے کسی اختلاف کے بغیر پاس ہوگیا ہو، وہ پاک فوج کے چیک پوسٹ پر ہتھیار اٹھا کر حملہ کر سکتے ہیں۔
چلو میں اپنی ذہنی کشمکش کو ایک طرف رکھتا ہوں، وہی تسلیم کر لیتے ہیں جو میڈیا ہمیں دکھاتا اور بتاتا رہا۔ یہ تصور کر لیتے ہیں کہ فوجی چیک پوسٹ پر مسلح حملہ ہوا تھا اور اس حملے میں علی وزیر اور محسن داؤڑ دونوں شریک تھے۔ ہم یہ بھی تصور کر لیتے ہیں کہ پہلے حملہ آوروں کی جانب سے فائرنگ ہوئی ہوگی جس کے بعد فوجی اہلکاروں کو بھی مجبوراً گولی چلانی پڑی لیکن سوال یہ ہے کہ پی ٹی ایم کے ساتھ کھڑے چند افراد کو گولی مارنے سے کیاوہ سلگتی آگ بجھ گئی جس کو بھڑکانے کی کوشش پی ٹی ایم کئی مہینوں سے کر رہی تھی؟
کیا فوجی اہلکاروں کی جانب سے چلائی جانے والی گولیوں نے جلتی پر تیل کا کردار ادا نہیں کیا؟ کیا پی ٹی ایم کا مقصد یہ نہیں تھا کہ عالمی میڈیا پر یہ شور بلند ہو کہ پاک فوج پختونوں پر ظلم ڈھا رہی ہے اور ان کی آواز کو دبانے کے لیے بندوق کا استعمال کیا جاتا ہے۔ جس دن یہ واقعہ ہوا ٹھیک اسی دن الجزیرہ نے یہ سرخی لگا لی کہ اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والوں پر گولی چلا کرپاک فوج نے تین افراد کو قتل کر دیا۔ باقی عالمی میڈیا پر بھی خبر لگے گی تو اس سے ملتی جلتی خبر ہی لگے گی، ہماری تعریف کہیں پر نہیں ہوگی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ پاک فوج چاہے تو چند دن میں پی ٹی ایم کا نام و نشان مٹا سکتی ہے۔ یہ فوج اس سے پہلے ٹی ٹی پی جیسی دہشت گرد تنظیم کو پاکستان سے بھاگ کر افغانستان میں پناہ لینے پر مجبور کر چکی ہے۔ ٹی ٹی پی کو بندوق کے زور پر جڑھ سے اکھاڑ پھینکنا ناگزیر تھا کیونکہ اس دہشت گردی تنظیم نے نہ صرف ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھا لیا تھا بلکہ ریاست کے اندر اپنی ایک الگ ریاست تقریباً قائم کر چکی تھی۔ ٹی ٹی پی کے خلاف ہتھیار اٹھا کر اور دہشت گردوں کو شکست دے کر ہم ثابت کر چکے ہیں کہ ریاست کے خلاف جو بھی اٹھے گا اس کا قلع قمع کیا جائے گا اور پاک فوج اس کی صلاحیت بھی رکھتی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پی ٹی ایم کو طاقت کے زور پر دبانا ہمارے لیے فائدہ مندثابت ہوسکتا ہے؟
پی ٹی ایم نے فی الحال ہتھیار تو نہیں اٹھایا۔ یہ سچ ہے کہ اس تحریک سے منسلک چند عناصر اشتعال انگیزی پھیلا رہے ہیں لیکن اس کی قیادت بات چیت پر یقین رکھتی ہے اور قومی اسمبلی میں اس کے نمائندے موجود ہیں جس کا مطلب ہے کہ وہ ریاست پربھی یقین رکھنے والے لوگ ہیں۔ جب ہم صوفی محمد، بیت اللہ محسود اور حکیم اللہ محسودکو لڑائی سے پہلے بات چیت کا موقع دے سکتے ہیں تو ایک ایسی تحریک کو یہ موقع کیوں نہیں دیا جا سکتا جس نے ابھی ہتھیار اٹھانے کا فیصلہ نہیں کیا۔ کہیں ہم اپنی ہٹ دھرمی سے ان کو ہتھیار اٹھانے پر مجبور تو نہیں کر رہے؟
خدارا بات چیت کو موقع دیں اور بندوق کو آخری آپشن کے طور پر استعمال کریں۔ ہم نے اکبر بگٹی کو مذاکرات کا موقع نہیں دیا اور بندوق کا استعمال کیا۔ لڑائی تو ہم جیت گئے لیکن بلوچستان کے لوگوں کو ہار بیٹھے۔ ہم نے لال مسجد میں ہتھیار استعمال کیا جس میں دارالحکومت کے اندر شر پسند تو ختم ہوگئے لیکن پورے ملک میں شر پسندی کو جواز مل گیا۔ فوج لڑائی لڑنے کا تہیہ کر لے تو عراق جیسے شکست خوردہ ملک کی فوج بھی دنیا کی سب سے دولت مند دہشت گرد تنظیم داعش کا صرف چھ ماہ میں صفایا کر سکتی ہے۔
شام جیسے خانہ جنگی کا شکار ملک کی فوج بھی درجنوں محاذوں پر نہ صرف لڑ سکتی ہے بلکہ فتح یاب بھی ہوسکتی ہے۔ وینزویلا جیسے تباہ حال ملک کی فوج امریکا، یورپ اور برطانیہ کی تمام تر کوششوں کے باوجود اپنی حکومت کو گرنے سے بچا سکتی ہے تو پاک فوج جیسے طاقتور ادارے کے لیے پی ٹی ایم جیسی چھوٹی سی تحریک کو صفحہ ہستی سے مٹانا کون سا مشکل کام ہے۔ لیکن جس تحریک کے مطالبات کو ملک کے وزیر اعظم اور آرمی چیف نے جائز قرار دیا ہو اس تحریک کو طاقت کے زور پر دبانے سے وہ مطالبات ختم نہیں ہوں گے۔
اس تحریک کو دبانے کے لیے تحریک سے منسلک لوگوں کو ختم کرنے کے بجائے ان مطالبات کو ختم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دوبارہ کسی کو ان مطالبات کی آڑ میں تحریک چلانے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ اگر ہم نے پی ٹی ایم کو ختم کر بھی لیا، اگر ہم نے محسن داؤڑ اور علی وزیر کو غدار قراردے بھی دیا، جب تک یہ مطالبات زندہ ہیں، پی ٹی ایم جیسی تحریک کا جواز رہے گا۔


