بدلتی دنیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مذہب کسی حد تک آج بھی قوموں کو اکائی بنا کر جوڑے رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ فی زمانہ مغربی سرمایہ دارانہ یا کارپوریٹ ایمپائرز کے اتحاد کا پسندیدہ مذہب عیسائیت ہے جو آج بھی دنیا کا طاقتور ترین مذہب ہے۔

تاہم بدلتے زمانے کے تقاضوں کے باعث اس اتحاد کا ماڈرنزم، لبرزم اور سیکولرزم سے بھی اس وقت تک پیچ اپ رہتا ہے جب تک کہ یہ تحاریک مغربی سرمایہ داروں کی کارپوریٹ ایمپائرز کے دھندوں میں حد سے زیادہ ٹانگ نہ اڑائیں۔

قومیت، نسل، مزاہب اور دشمنی آج بھی دنیا کی بہت سے گروہوں کے لیے ایک بائنڈنگ فورس کا کام دیتے ہیں۔

ماضی کی حاکم لیکن آج کی کمزور اور منتشر اقلیتوں کو باپ بن کر تھلے لگانا یا انہیں مذہبی اور سماجی طور پر زیر کرنا ان گروہوں کو بہت مزہ دیتا ہے جو کبھی محکوم رہے ہوں۔

جنہوں نے انتشار، جی حضوری اور شرمندہ سی قومیت کے ان گِنت سالوں کے بعد چند دہائیوں میں ہی معاشی اور علمی و سماجی قوت حاصل کر کے دنیا کی رولنگ کارپوریٹ ایمپائر کے ساتھ پارٹنر شپس بنا لی ہوں۔

ایسے میں ان طاقت پکڑتے گروہوں کا رام مندر بنا کر جے شری رام کرنے کا بہت دل کرتا ہے اور رام رحیم والی سیکولر باتیں بے کار لگتی ہیں۔ کل کی طرح آج بھی دنیا بھر میں کھرا کھوٹے کا فرق، گلوبلائزیشن اور سماج سیوا سب ثانوی معاملات ہیں۔

قومی اور بین الاقوامی معاملاتیں میں منظرنامے پر بیشک پولیٹیشینز اور ٹیکنوکریٹس نظر آتے ہیں لیکن ریاستی سمت طے کرنے میں اور انٹرنیشنل ریلیشنز میں آج کی دنیا میں بھی موڈریٹ موریلیٹی پر کھڑے نظریات اور سیکولر دستوروں کے بھاشن نہیں دیکھے جاتے بلکہ زیادہ تر سرمایہ دارانہ اور جمہوری نظام پر قائم مغربی ریاستوں کے گروہی مفاد دیکھے جاتے ہیں۔

پراکسی مجاہدین ہوں، آر ایس ایس ہو یا پراکسی نیتن یاہو۔ یہ سب مسلح بدمعاش گروہ سٹریٹیجک ڈیپتھ کے لیے ریاستی اور اتحادی چھتریوں تلے ناپ تول کر بنائے اور استعمال کیے جاتے ہیں۔

مغربی اتحاد کو ہندو نیشنلزم اور ہندو قومیت کی ابھرتی ہوئی معاشی طاقت اور نئے نئے احساسِ تفاحر سے تب تک کوئی مسئلہ نہیں ہے جب تک کہ حد سے باہر نکلتے چین کو کاؤنٹر نہیں کر لیا جاتا اور بھارتی کارپوریٹ ایمپائر ہندو دھرم کی چھایہ تلے پلتے پلتے مغربی کارپوریٹ ایمپائر کی باپ بن کر اسے سبجیکشن کے لیے چیلنج نہیں کرتی۔

ایسا ہونے پر ہندو سپر پاور بننے کے عزائم رکھتی بھارتی کارپوریٹ ایمپائر کو ٹف ٹائم ضرور ملے گے مگر فی الحال گاڑھی چھن رہی ہے۔

رہی عرب مونارک ایمپائرز ان سے منسلک ممالک اور ان کا مذہب اسلام، تو ان کا فی الحال، جمود کم نظری اور کنفلکٹس کے باعث برا وقت چل رہا ہے اور آگے بھی کوئی فوری روشن مستقبل نظر نہیں آرہا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •