بلاول بھٹو کی افطاری ، کچھ اندر کی باتیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے پرویز مشرف کی آمریت کے ڈسے جلا وطن سیاستدانوں نواز شریف اور شہید بے نظیر بھٹو نے ایک دوسرے سے ہاتھ ملایا تو مئی 2006میں میثاق جمہوریت کے نام سے ایسی تاریخی دستاویز کو وجود بخشا جس نے نہ صرف ملک میں آمریت کے آگے بند باندھ دیا بلکہ ملکی تاریخ میں پہلی بار جمہوری حکومتوں کی مقررہ مدت مکمل ہونے کی ضمانت بھی فراہم کر دی۔

اسی میثاق جمہوریت کی باز گشت گزشتہ دنوں اس وقت ایک بار پھر سنائی دی جب اس پہ دستخط کرنے والی شہید بے نظیر بھٹو کا بیٹا، پاکستان پیپلز پارٹی کا چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور مہر تصدیق ثبت کرنے والے نواز شریف کی بیٹی مریم نواز زرداری ہائوس میں ایک ساتھ بیٹھے اس معاہدے کی امانت کا بوجھ اپنے کندھوں پہ منتقل کر رہے تھے۔

اس نشست کا اہتمام بلاول بھٹو زرداری نے افطار ڈنر کی دعوت کی صورت میں کیا تھا جس میں اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ حکومت وقت کی اتحادی جماعت بی این پی مینگل کے رہنمائوں کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ اس نشست میں جہاں ملک کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر احتجاج کرنے پہ اتفاق کیا گیا وہیں میثاق جمہوریت کا دائرہ دیگر سیاسی جماعتوں تک وسیع کرنے اور اس میں مزید نکات شامل کرنے پہ بھی رضا مندی ظاہر کی گئی۔ اس افطار ڈنر نے حکومت کی صفوں میں ایسی کھلبلی مچا دی کہ کل

تک اپوزیشن کو احتجاج کرنے کی صورت میں کنٹینر فراہم کرنے کے دعوے کرنے والے حکمران اپوزیشن کی مخالفت میں ماہ رمضان کا احترام بھی بھول گئے۔ اس افطار ڈنر اور اس سے اگلے ہی دن مریم نواز کی بطور نائب صدر پارلیمنٹ ہائوس میں مسلم لیگ(ن) کے اہم مشاورتی اجلاس میں پہلی بار شرکت کے دوران شرکاء کے درمیان کیا کچھ چلتا رہا قارئین کے لئے پیش خدمت ہے، اِس افطار ڈنر کے میزبان بلاول بھٹو زرداری تھے جبکہ ان کے والد آصف علی زرداری محض ایک مبصر کا کردار ادا کر رہے تھے، یہی وجہ ہے کہ ضیافت کے آغاز میں بلاول نے ہی افتتاحی کلمات ادا کئے۔

افطار ڈنر کے شرکاء کی نشستوں کی ترتیب کا اہتمام بھی بلاول بھٹو کی ایما پہ کیا گیا تھا جس میں انہوں نے اپنے ساتھ نوجوان قیادت کو بٹھانے کا بندوبست تجویز کیا تھا۔ بطور میزبان تقریب کا مدعا بیان کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے انتہائی سخت الفاظ میں ملک کے موجودہ تمام مسائل کی وجہ عمران خان یا حکومت کے بجائے اس کے پس پردہ قوتوں کو قرار دیا۔ افطار ڈنر میں مریم نواز دیگر سیاسی رہنمائوں کی توجہ کا خصوصی مرکز تھیں اور سب ان کا موقف سننا چاہتے تھے تاہم مریم نواز نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) کا موقف شاہد خاقان عباسی بیان کریں گے۔

اس دوران مریم نواز نے ووٹ کو عزت دینے پہ ضرور زور دیا اور تجویز دی کہ جب سب اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف تحریک چلانے کے لئے تیار ہو جائیں۔ شاہد خاقان عباسی نے حکومت مخالف احتجاج کی حمایت کی تاہم انہوں نے احتجاج کا ایجنڈا طے کرنے کی تجویز بھی دی، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کسی بھی احتجاجی تحریک کو شروع کرنے سے پہلے ایک دوسرے کے خلاف جو تحفظات ہیں انہیں دور کرنا چاہئے۔

شاہد خاقان عباسی کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے میاں افتخار نے ذرا سخت لہجے میں کہا کہ یہاں موجود جماعتوں کو بھی ایک دوسرے پہ شک و شبہات ہیں، یہاں تک ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ احتجاجی تحریک میں کون شامل ہوگا اور کون پائوں پیچھے کھسکائے گا۔ ایمل یار ولی نے واضح کیا کہ اے این پی تو احتجاج کے لئے ہر وقت تیار ہے جبکہ نیشنل پارٹی کے رہنما میر حاصل بزنجو، قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیر پائو، پی کے میپ کے رہنما شفیق ترین نے بھی حکومت مخالف احتجاج کو جلد از جلد شروع کرنے پہ زور دیا۔

بی این پی مینگل کے ڈاکٹر جہانزیب جمال دینی نے ملکی مفاد کےہر اقدام کا ساتھ دینے کی یقین دہانی کرائی۔ تقریب میں مولانا فضل الرحمٰن نے پیپلز پارٹی اور (ن)لیگ کی قیادت کے خوب لتے لئے اور یہاں تک کہہ دیا کہ بھلے اے پی سی کے بعد کوئی احتجاج میں شامل ہو یا نہ ہو وہ حکومت کے خلاف لاک ڈائون ہر صورت میں کریں گے۔

ان کی باتوں کی مکمل تائید کرتے ہوئے جمعیت علمائے پاکستان کے شاہ اویس نورانی نے بدھ یا جمعرات کو دوبارہ افطار ڈنر پہ احتجاج کی حکمت عملی طے کرنے کی تجویز دی تو شرکاء نے اتنی جلدی شرکت سے معذوری ظاہر کی جبکہ میاں افتخار نے مولانا فضل الرحمٰن کو کنوینر بنانے کی تجویز دی جس پہ سب نے رضا مندی ظاہر کرتے ہوئے عید الفطر کے بعد اے پی سی بلانے پہ اتفاق کیا۔

اے پی سی کے لیے 12یا 13جون کی تاریخ تجویز کی گئی اور یہ بھی زیربحث آیا کہ اے پی سی دو دن تک بھی جاری رہ سکتی ہے۔ افطار ڈنر کے شرکاء کے لئے خوشگوار حیرت بلاول بھٹو کی پر تکلف میزبانی تھی جو اپنی افطاری چھوڑ کر ہر فرد کے پاس جا کر خود ان کی آئو بھگت کے لئے پیش پیش رہے۔ قارئین اس افطار ڈنر کے اگلے روز مسلم لیگ(ن) کے مشاورتی اجلاس میں جو کچھ ہوا وہ (ن)لیگ کے بہت سے رہنمائوں کے لئے کسی اچھنبے سے کم نہ تھا۔

مریم نواز نے اس اجلاس میں پارٹی رہنمائوں کو واشگاف الفاظ میں کہہ دیا کہ جو ادھر ادھر کہتے پھرتے ہیں کہ نواز شریف نے انہیں مروا دیا وہ پارٹی کو چھوڑ دیں۔ مریم نواز کی پارٹی اجلاس میں اس گفتگو اور بلاول بھٹو کے افطار ڈنر میں شرکت کے انداز سے یقیناً نواز شریف کی جانشینی کی گتھی بھی سلجھ چکی ہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •