رویت ہلال کا مسئلہ اور سائنس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رویت ہلال کے مسئلہ پر فواد چودھری صاحب نے کالم لکھا، قمری کیلنڈر بنانے کا اعلان کیا، پھر شریعت میں موجود احکامات پر نقد فرمائی۔ پھر حسبِ ذائقہ نمک مرچ چھڑکا۔ ان کا اس معاملہ پر نقد فرمانا تھا کہ حضرت کی معیت میں کئی حضرات سینہ تان کر باہر آگئے اور طرح طرح کی عجیب دلیلیں پیش کرنے لگے۔ طنز کے تیر برسانے لگے۔ اور کچھ نہیں ہوسکا تو ایک مزاحیہ قسم کا کالم لکھ مارا۔ مگر ان تمام حضرات سے کسی طرح مفتی منیب الرحمٰن صاحب کے موقف کا علمی جواب نہیں بن پایا۔

اصل میں رویت ہلال کا مسئلہ اگر اجتہاد سے تعلق رکھتا تو اس میں کسی قسم کی جدت کی گنجائش ہوتی۔ یعنی قرآن و سنت سے چاند کی رویت کے بارے میں کسی قسم کا اشارہ نہ دیا ہوتا تو پھر یہ ایک اجتہادی مسئلہ ہوتا۔ اجتہادی مسئلہ میں شرعی اصول و ضوابط میں رہتے ہوئے ممکن حد تک اس مسئلہ کو حل کرنا ہوتا۔ اگر اس مسئلہ کو محض مجتہدین نے اپنے فہم کی بنیاد پر آج سے کئی سو سال قبل اپنی ضروریات اور حالات کو ملحوظ رکھتے ہوئے حل فرمایا ہوتا تو اس میں آج کے زمانے کے لحاظ سے جدت لائی جاسکتی تھی مگر۔ !

رویت ہلال کا مسئلہ قرآن و حدیث کی واضح نصوص سے ثابت ہے۔ لہذا جب شریعت سے کسی مسئلہ میں واضح قانون مل جائے تو پھر اس میں تبدیلی اور جدت کا اختیار صرف اللہ اور اس کے رسولؐ کے پاس ہے۔ کوئی سائنس اور ٹیکنالوجی کا منسٹر اور کوئی منہ پھکڑ اس کو تبدیل کرنے اختیار نہیں رکھتا۔ اگر وہ تبدیل کرے گا تو یہ واضح اسلام سے عملی ارتداد ہوگا۔ اسی بنیاد پر مفتی منیب صاحب نے فرمایا ہے کہ ہم سائنس کو اپنی جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں۔

اس پریہ پھبتی کسی گئی کہ جو سائنس مفتی منیب کی ناک پر عینک کی صورت دھری ہے اسے بھی جوتے کی نوک پر رکھا جائے۔ اس سے اندازہ ہوجاتا کہ فواد چودھری صاحب اور ان کی کمپنی کس قدر پست سوچ کی حامل ہے۔

فواد چودھری صاحب فرماتے ہیں کہ : ”یہ منطق سمجھ سے بالاتر ہے کہ چاند کو پرانی دوربین سے دیکھنا کیونکر جائز ہے اور اس حوالے سے نئی ٹیکنالوجی استعمال کرنے میں کیا امر مانع ہے؟

ماشاءاللہ! اسی لیے کہا جاتا ہے کہ جس چیز میں آپ طاق نہ ہوں اس میں خوامخواہ ٹانگ مت اڑایا کریں۔ جب آپ کو شریعت کی منطق نہیں سمجھ آتی تو قمری کیلنڈر کو کیوں بنانے لگ گئے ہیں؟ کم از کم رویت ہلال پر بات کرنے سے پہلے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ رویت بصری یعنی آنکھ سے چاند کو دیکھنے کا حکم مفتی منیب الرحمٰن صاحب کی اختراع ہے یا بانی اسلام حضرت محمد ﷺ کا حکم ہے؟ نئی ٹیکنالوجی کا استعمال آپ ہر شعبہ میں کریں، انسانیت کی فلاح کے لیے کریں، مگر جس بارے میں رسول اللہﷺ واضح حکم جاری کردیں اس کے رد کے لیے کھڑے ہونا آپ کا ایمان مشکوک کردیتا ہے۔

رویت ہلال کے لیے حکم ہمیں اپنی آنکھ سے دیکھنے کا ہے۔ اب اس کے لیے آپ دوربین استعمال کریں تو اسلام اس سے منع نہیں کرتا۔ اسی طرح لین دین کے وقت مکاتبت کا اصول قرآن میں آیا ہے۔ اس سے کسی نے یہ مراد نہیں لی کہ مکاتبت صرف کاغذ قلم سے ہونی چاہیے موجودہ بینک ان کی رسیدیں ان کی پرنٹر حرام ہیں۔ اسلام تو ہر چیز کو جدید سے جدید بنانے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اگر مفتی منیب الرحمن صاحب اور شریعت کو سائنس سے بغض ہوتا تو آج کل وہ فواد چودھری صاحب کے کریڈٹ کارڈ اور ڈیبٹ کارڈز کو موبائل فون پیمنٹ سے بدلنے پر فتاویٰ جاری کر رہے ہوتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سید محمد معوذ کی دیگر تحریریں