چاند اور روٹی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

[ سندھی افسانے کا اردو ترجمہ ] (افسانہ: علی بابا | ترجمہ: یاسر قاضی)

تب میں بہت چھوٹا تھا۔ مُجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے۔ ایک دن میری ماں بہت پریشان تھی۔ میں صبح سے بُھوکا تھا۔ ہمارے گھر کا سارا راشن ختم ہوگیا تھا۔ صبح کو ماں نے مُجھے ایک باسی روٹی کا ٹکڑا، بکری کے کھارے دُودھ کے ساتھ کھانے کو دیا تھا اور سَر پر شام آن پہنچی تھی۔ بُھوک کے مارے میرا پیٹ کَٹ رہا تھا۔ ماں نے مُجھے پڑوسن سے ادھار آٹا مانگنے کے لئے بھی بھیجا، مگر وہاں سے بھی انکار ہی پلے پڑا تھا۔ اماں پورا دن اپنی مِیٹھی اور لطیف باتوں سے میرا دل بہلاتی رہی، جن سے تھوڑی دیر کو میری بھوک کا احساس کچھ کم ضرور ہُوا۔

مگر کیا کبھی باتوں سے بھی کسی کا پیٹ بھر سکا ہے؟ چاہے اُن میں شہد جیسی مٹھاس ہو یا وہ کتنی ہی لطیف ہوں، اُن سے پیٹ نہیں بھر سکتا۔ پیٹ کے دوزخ کو بھرنے کے لئے صرف روٹی درکار ہوتی ہے۔ صرف روٹی۔ جو میری ماں کے پاس نہیں تھی۔ میری بھوک ہر تھوڑی دیر کے بعد شدّت اختیار کر رہی تھی۔ جیسے کوئی ڈھول پر اچانک سے ڈنکا مار رہا ہو۔ میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا تھا۔ بالاٰخر میں رہ نہ سکا اور ماں کی قمیص سے چمٹ کر اپنے دل کا حال کہہ ڈالا: ”ماں! مجھے بُھوک لگی ہے۔ ”اماں نے میرے بالوں پہ ہاتھ پھیرا اور بولی:“ کاش میں مر جاؤں۔ میں کیا کروں! ؟ دوکاندار نے بھی اُدھار دینے سے انکار کر دیا ہے۔ ”یہ کہتے ہوئے بھی ماں اپنی پریشانی کو چُھپاتے ہوئے مسکرانے کی کوشش کر رہی تھی۔ اچانک اُس نے کچھ سوچتے ہوئے کہا:“ آؤ بیٹا! اپنا گھر ڈھونڈھیں۔ شاید کہیں کچھ پیسے رکھ کر بُھول گئی ہوں۔ ”پھر تو بس، ماں نے اور میں نے پورا گھر اُلٹ پُلٹ کر دیا۔ کبٹ، مچانیں، صندُوقیں، ایک ایک کر کے چھان مارِیں، مگر کہیں سے ایک پُھوٹی کوڑی بھی نہیں ملی۔

ماں تھک ہار کر آکر مُوڑھے پر بیٹھ گئی اور میں بھی اُس کے سامنے رکھی چارپائی پر آکے لیٹ گیا۔ اچانک ماں کو کوئی بات یاد آئی اور کہنے لگی: ”ارے! ایک جگہ تو ہم لوگ بُھول ہی گئے! غُسلخانے کی ٹانڈ تو ہم نے دیکھی ہی نہیں۔ “ پھر تو میں نے اُٹھ کے ماں کے پیچھے دوڑ لگائی، جیسے وہاں روپیوں کی بارش ہو رہی ہو۔ ماں نے جلدی سے مچان کی طرف اپنا ہاتھ لمبا کیا۔ خوشی کے مارے اس کے مُنہ سے چِیخ نکل گئی، جیسے اُسے قارون کا خزانہ مل گیا ہو۔ ”مل گئے! “ میں نے تیزی سے ماں سے پیسے چھیننے کے لئے اپنے دونوں ہاتھ دراز کیے، مگر ماں نے مُجھے روک لیا اور بولی: ”نہیں بھئی، ایسے نہیں۔ پہلے بتاؤ! کتنے پیسے ہیں میری مُٹھی میں؟ “ وہ پیسے ابھی تک ماں نے خود بھی نہیں دیکھے تھے۔ ”ایک روپیہ! “ میں خوشی سے چیخا۔

”غلط! “

”آٹھ آنے۔ “

”نہیں! “

”بھلا، دو آنے؟ “

”ناں! “ اور جُوں جُوں ان پیسوں کو دیکھنے کے لئے میری بے چینی بڑھتی جا رہی تھی، تُوں تُوں میری بولی کم ہوتی جا رہی تھی۔

”ایک آنا! “ میں نے آخری واک لگایا۔ ماں نے ایک دم اپنی مٹھی کھول دی۔ ہم دونوں ماں بیٹے کے مُنہ سے چیخ نکل گئی: ”چار آنے۔ “

مگر اگلے ہی لمحے ہماری آواز کمرے میں ایک اُداس بازگشت چھوڑ کر ڈوب گئی۔ ہم دونوں ماں بیٹے کی آنکھیں پَھٹی کی پَھٹی رہ گئیں۔ وہ 25 پیسے کا سِکّہ جعلی تھا۔ وہ بھی زنگ آلُود۔ مگر میری آنکھوں میں فوراً چمک آگئی۔ میں بولا: ”اماں، چل جائے گا۔ آچر کی ماں اندھی ہے۔ شام کو دوکان پر وہی بیٹھتی ہے۔ اسے دے دُوں گا۔ “

”ناں۔ گندے لڑکے! “ ماں نے غُصّے سے جھڑک دیا۔ ”اسکُول جانے والے بچّے ہوتے ہُوئے یہ نیچ خیال تیرے دل میں کیسے آیا! ؟ کیا تمھیں پتہ نہیں ہے کہ کسی کو دھوکا دینا کتنا بڑا گناہ ہے؟ “ میں شرمندہ ہوا۔ ماں نے اپنے بازُو کی پُوری طاقت کے ساتھ وہ چار آنے کا سکّہ باہر پھینک دیا۔

میں پھر آکر چار پائی پر لیٹا۔ ماں کسی گہری سوچ میں غرق تھی۔ وہ کمرے میں ایک دیوار سے دُوسری دیوار تک چکر لگا رہی تھی۔ جیسے ہمارے ماسٹر جی ہمیں حساب حل کرنے کے لئے دینے کے بعد کلاس میں چکر لگاتے ہیں۔ ماں کے چہرے پر ایک عجیب تاثر تھا۔ جیسے وہ کوئی بہت بڑا مسئلہ حل کر رہی ہو۔ اُس کے قدم کبھی تیز ہو رہے تھے، تو کبھی آہستہ۔ اچانک ماں کسی کی آواز سُن کر رُک گئی اور بولی: ”جاؤ بیٹا، گلی میں جو یہ آواز لگا رہا ہے، اس کو لے آؤ! “ میں نے غور سے سُنا۔ یہ آواز کباڑیے کی تھی، جو معمولی پیسوں کے عوض ٹِین ڈبے خریدا ہے۔ میں گیا اور اس کو بُلا کر گھر کے دروازے پر کھڑا کر دیا۔

”بھائی، اس پِیتل کے پیالے کے کتنے پیسے دو گے! ؟ “ ماں نے دروازے کی اوٹ میں وہ ہاتھ باہر نکال کر پُوچھا، جس میں وہ برتن پکڑا ہوا تھا۔ کباڑیے نے کہا: ”آٹھ آنے۔ “ ماں فوراً بولی: ”بھائی، کچھ خیال تو کرو۔ بالکل نیا کورا پیالہ ہے۔ “ کباڑیے نے پِیتل کا پیالہ واپس کر کے، اپنا ٹھیلا آگے بڑھاتے ہوئے کہا: ”مائی، آج کل مہنگائی کا زمانہ ہے۔ پیتل کو کون پوچھتا ہے! “ ماں کُچھ در تو تذبذُب میں کھڑی رہی۔ پھر میری طرف غور سے دیکھ کر، پیار سے سَر پر ہاتھ پھیر کر بولی: ”بھاگو بچّے! اس کباڑیے کو یہ پیالا دے کر، آٹھ آنے لے کر، دکان سے آٹا لے آؤ، تو تمہیں روٹی پکا کر دوں۔ “

اگلے لمحے میری ہتھیلی پر 50 پیسے کا سِکّہ، ستارے کی طرح چمک رہا تھا۔ میں نے پُوری طاقت سے اپنی مٹھی کو بند کیا اور دُوکان کی جانب دوڑا۔ ابھی میں دوکان پر پہنچا ہی تھا کہ اس وقت آچر اپنی دوکان بند کر رہا تھا۔

”ایک کلو آٹا دو! “ میں نے آٹھ آنے کا سِکّہ اُس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔

”تیرے ابّا نے پیسے بھیجے ہیں کیا! ؟ “

”ہاں! “ میرے مُنہ سے نکل گیا۔ آچر نے جَھٹ سے میرے ہاتھ سے آٹھ آنے لیتے ہوئے کہا: ”جاؤ، پہلے گھر جا کر میرے پیسے لے کر آؤ، پھر آکر آٹا لینا۔ “

مُجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ میں کچھ کہنا چاہ رہا تھا، مگر میرے لبوں پر جیسے کوئی مُہَر لگ گئی تھی۔ میں مجبوراً خالی ہاتھ گھر لوٹ آیا۔

ماں نے میرا اُترا ہُوا مُنہ اور خالی ہاتھ دیکھ کر گھبرا کر پوچھا: ”کیوں بیٹا؟ آٹا کہاں ہے؟ پیسے گِر گئے کیا؟ “

”نہیں، آچر نے چھین لئے۔ “ میں روتی ہوئی شکل بنا کر بولا۔

”ارے، تو اس میں رونے کی کیا بات ہے۔ اُس کے تو کافی پیسے ابھی ہماری طرف بنتے ہیں۔ “

”اماں، مجھے بُھوک لگی ہے۔ “ میں نے آنسُو روکنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔

”بس، بات بھی اتنی؟ آؤ میں اپنے بچّے کو نُکتی دانے دوں۔ “

”نُکتی دانے! ؟ کہاں سے آئے ؟ “

ماں نے کہاں : ”بیٹا، سلیم کے گھر بھائی پیدا ہُوا ہے۔ انہوں نے بانٹے ہیں۔ “

پھر ماں نے ایک ساسر میں وہ بُوندی کے دانے اور گلاس میں بکری کا دودھ ڈال کر میرے سامنے لاکر رکھ دیا، مگر وہ تھوڑے سے نُکتی دانے اور دُودھ میرے پُورے دن کی بُھوک مٹانے کے لئے کافی نہیں تھے۔

شام کے دُھوئیں میں اَٹے، دُھندلے سائے گہرے ہو کر رات کا رُوپ دھارتے گئے۔ آسمان پر کہیں کہیں بادلوں کی سیاہ تہوں سے کوئی ایک آدھ ستارا چمک کر، اپنی ضو نچوڑ رہا تھا۔ ماں نے کہا: ”بیٹا، رات ہو رہی ہے۔ اب آؤ، میں تُمہیں نیند۔ ولایت کی کہانی سُناؤں۔ “ پھر میں اور ماں اپنی چارپائی پر آ کر لیٹے۔ ماں نے اپنا بازو تکیہ بنا کر میرے سرہانے دیا اور ”نِیند کے دیس“ کی کہانی سنانے لگی۔ ایک ایسے نگر کی کہانی، جہاں کے لوگ چھ ماہ سوتے رہتے اور چھ ماہ جاگتے رہتے تھے۔ میں ماں بات، آدھے میں کاٹتے ہوئے بولا:

”ماں، یہ لوگ چھ ماہ کیسے سو سکتے تھے؟ کیا اُن کو بُھوک نہیں لگتی تھی؟ “ ماں نے میری طرف غور سے دیکھا، اور مُسکرا کر بولی: ”ہاں! اُنہیں بھوک نہیں لگتی تھی۔ تم خاموشی سے کہانی سنو۔ “

”مُجھے بھوک لگی ہے۔ “ میں نے ضد کی۔

ماں کی نظریں تاریک آسمان کی طرف اُٹھ گئیں، جیسے اس کی نظریں کچھ تلاش کر رہی ہوں اور اُس نے انتہائی غمناک لہجے میں کہا: ”دیکھو بیٹا، آج چاند کہاں نکلا ہے؟ ہم غریب لوگ ہیں۔ ہماری روٹی کا حساب بھی چاند کی طرح ہے۔ کبھی چوتھا حصہ، کبھی آدھا، کبھی پوری، تو کبھی مُیّسر ہی نہیں۔ “
میں نے تاریک آسمان کی طرف دیکھا اور ماں کی گود میں گہری نیند سو گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •