اندھی محبت کی نفرت بھری آنکھیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ٹھہرئیے! ذرا سوچئے! آپ جو کمنٹ کر رہے ہیں، اُس کے الفاظ کتنے مناسب ہیں۔ اُس میں کتنی منطق ہے؟ کتنی دلیل ہے؟ کہیں آپ جذبات اور غصے کی رو میں بہہ کر کچھ ایسا تو نہیں لکھ رہے، جو آپ کو نہیں لکھنا چائے۔ آپ جس پوسٹ یا ٹوئٹ پہ کمنٹ کر رہے ہیں، جس تصویر یا ویڈیو کو بنا دیکھے، بنا جانچے آگے شیئر کر رہے ہیں، اُس کی حقیقت کیا ہے؟ کیا آپ کو یہ معلوم ہے کہ بنا تصدیق کسی بات کو آگے بڑھانا بھی جھوٹ میں شمار ہوتا ہے۔ اور جھوٹوں پہ خدا کی لعنت ہے۔ کیا آپ خدا کو مانتے ہیں؟ یا اُدھر بھی آپ لائک پر کلک کر کے ایمان لائے ہیں۔

دیکھئے میرے بھائی ! سوشل میڈیا ایک ایسا آئینہ ہے، جس میں انسان کو اپنا ہی چہرہ دکھائی نہیں دیتا۔ اور جہاں انسان کو اپنا چہرہ دکھائی نہ دے، وہاں جتنی روشنی کیوں نہ ہو، انسان اندھا ہی کہلاتا ہے۔ کیونکہ اُسے آخر تک پتہ ہی نہیں چلتا کہ اُس کی اپنی شکل و صورت کیسی ہے؟ وہ دوسروں پہ آوازیں کستا ہے، خامیاں نکالتا ہے،غلطیوں کی نشاندہی کرتا ہے، جگتیں مارتا ہے۔ لیکن اپنی ذات میں جھانک کر دیکھنے کی کوئی سہولت اُسے نہیں ہوتی۔ وہاں تو صرف سیلفیاں ہیں۔ اور سیلفیوں میں انسان کو چہرہ نہیں، صرف شکل دکھائی دیتی ہے۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ لوگ آپ کی اندھی تقلید کو بیچ کر اپنی جیبیں بھر رہے ہیں۔ کیا آپ کو علم ہے کہ آپ کی عقیدت کتنے داموں فروخت ہورہی ہے۔

اتنی جلدی بھی کیا ہے میرے بھائی! کوئی ٹرین چھوٹنے والی تھوڑی ہے کہ آپ نے ہر حال میں اُس سے لٹک جانا ہے۔ یا آپ کسی ٹائم چیک کے اضطراب میں مبتلا ہیں کہ بزر بجنے سے پہلے ہر حال میں کچھ نہ کچھ ضرور بولنا ہے۔ تھوڑا سا صبر کیجئے۔ ایک بار اپنے کاندھے کی جانب نگاہ ڈالئے۔ اُس پر کسی اور کی بندوق تو نہیں رکھی ہوئی ہے؟ آپ نادانستگی میں کسی کے خلاف استعمال تو نہیں ہو رہے ہیں؟ آپ کی سادہ لوحی اور آپ کا جذباتی پن کسی کا آلہ کار تو نہیں بن رہا؟ معاف کیجئے گا، لگتا تو ایسا ہے! کیونکہ آپ کی سوچ آپ کے جذبات سے میل نہیں کھاتی۔ آپ مخصوص بیانیوں کے زیر اثر بس نعروں کا جواب دے رہے ہیں۔ آپ کے لئے بحث کرنا یا کوئی سوال اٹھانا غداری یا کفر کے زمرے میں آتا ہے۔ آپ اپنی زبان سے تلوار کا کام لیتے ہیں۔ آپ کے منہ میں ہر وقت گالیوں بھرا جھاگ ہوتا ہے۔ آپ کے الفاظ جیسے گھونسے اور مُکے ہوتے ہیں۔ اسکرین پہ اسکرول کرتے ہوئے ایسا دکھائی دیتا ہے، جیسے کسی فساد زدہ علاقے کی مختلف گلیاں ہوں، جہاں کہیں کسی کو زمین پہ لٹا کے گھونسے مارے جا رہے ہوں۔ کسی کو پتھر مار کے شہر سے نکالا جا رہا ہو۔ کسی کو سڑک کنارے درخت کی شاخوں پہ لٹکا کے پھانسی دی جا رہی ہو۔ کسی کو گھسیٹ کر اُس کے گھر سے باہر نکالا جارہا ہو۔ دھینگا مشتی، پکڑ دھکڑ اور گالیوں کا شور۔ ایسا لگتا ہے کہ گورے نے جو لفظ ”فالو“ لکھ دیا۔ آپ نے اُس کا مطلب لے لیا ہے ”اندھی تقلید“۔

پیارے بھائی! ملک کی محبت اور مذہب کی عقیدت میں آپ جو گالیاں دے رہے ہیں، اُس سے آپ کے ملک کی تہذیبی اور مذہب کی اخلاقی قدروں کی کیا تصویر بن رہی ہے؟ اُسے ذرا دور سے کھڑے ہوکر دیکھئے نا! آپ کتنے بدہئیت اور بدنما نظر آ رہے ہیں۔ آپ کے منہ سے نکلتا جھاگ اور نفرت سے ابلتی آنکھیں آپ کی مذہبی اور تہذیبی تربیت پر کتنا بڑا سوالیہ نشان لگا رہی ہیں؟

آپ یقین کیجئے، سر پر خاک ڈالنے کو دل کرتا ہے، جب سیاسی اختلافات کی بنا پر آپ ایک جوان بیٹے کی قبر پہ کھڑے ہو کر ایک غمزدہ باپ کو کیسے کیسے سنگدلانہ طعنے دیتے ہیں۔ اخلاق، تہذیب، اقدار اور روایات کی دھجیاں بکھیرتے وقت آپ اپنی وہ تربیت کہاں چھوڑ آتے ہیں، جو آپ نے ماں کی گود سے لی ہوتی ہے۔

دل دہل اٹھتا ہے جب بنا تصدیق کے ایک نوجوان کی تصویر کو صرف نام کی یکسانیت کی وجہ سے دہشت گرد قرار دے کر آپ دھڑادھڑ شیئر کر رہے ہوتے ہیں۔ حمل بلوچ نامی وہ نوجوان، جو برسوں کی محنت کے بعد مقابلے کا امتحان پاس کرکے اب چند دنوں بعد ملک و قوم کی خدمت کرنے جا رہا ہے، منہ چھپا کے گھر میں بیٹھ جاتا ہے۔ آپ کی یہ حب الوطنی کتنی نفرت، بے چینی اور بیگانگیاں پھیلا رہی ہے۔ اس کا اندازہ ہی نہیں ہے آپ کو۔

خدا کی قسم، روح کانپ اٹھتی ہے، جب فرشتہ جیسی بچیوں کی ہوس زدہ پیروں تلے روندھی ہوئی لاشوں پر کھڑے ہوکر آپ اُسے انصاف دلانے کی بجائے اس کی شہریت اور قومیت کا تعین کرنے میں لگے ہوتے ہیں۔ ذرا انسانیت کے آئینے میں اپنا چہرہ تو دیکھیں اور پھر بتائیں کہ آپ کی یہ تکرار آپ کی اپنی شہریت پر کتنا بڑا سوالیہ نشان لگا رہی ہے۔

کوئی بھی اٹھ کر کسی پر کسی بھی طرح کا الزام لگا دے، تو آپ فوراً فریق بن جاتے ہیں۔ عدالت لگاتے ہیں، وکالت کرنے لگتے ہیں۔ گواہیاں دیتے ہیں۔ جج بن جاتے ہیں۔ فیصلے کرنے لگتے ہیں۔ حقائق نہیں، تہمتوں اور بہتانوں کی بنیاد پہ۔ آپ کو کیوں یاد نہیں رہتا کہ تہمت، جھوٹ اور بہتان وہ گناہ ہیں، جن کی سزا خدا خود دیتا ہے۔ اپنی لعنت اور پھٹکار کی صورت میں۔ اور خدا کی پھٹکار کیا ہوتی ہے؟ آپ کو کچھ اندازہ ہے اس کا!

مذہب کے معاملے میں آپ جانیں، آپ کا خدا جانے۔ مگر مملکت اور ریاست کے معاملے میں آپ کو خدا کا واسطہ ہے کہ آپ ذرا سوچ کر ٹوئٹ، پوسٹ، شیئر اور کمنٹ کیا کریں۔ آپ جذبات اور نادانی کی رو میں بہہ کر غداری اور وفاداری کی فہرستیں بنانا چھوڑدیں۔ کیونکہ اندھی محبت کا مسئلہ یہ ہوتا ہے، کہ اُسے محبوب کی خامی بھی خوبی نظر آتی ہے۔ اور دوسروں کی خوبیاں بھی خامیاں دکھائی دیتی ہیں۔ یہاں چونکہ محبت ایک رشتے تک محدود نہیں، معاملہ ملک و قوم کا ہے، اس لئے پلیز آپ آنکھیں کھول کر اپنے ملک و قوم سے محبت کیا کریں۔ کسی بہکاوے، پروپیگنڈے اور عقیدت سے بالاتر ہو کر بات کیا کریں۔ جذبات کی رو میں بہنے کی بجائے حقائق تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ ہوسکتا ہے، آپ کی حب الوطنی، آپ کے اپنے ہی وطن اور قوم کے خلاف استعمال ہورہی ہو۔ اور آپ کی اندھی محبت آپ کے اپنے ہی لوگوں میں نفرتیں بانٹ رہی ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •