اگلے پچیس سال کا قمری کیلنڈر جو استعمال ہو رہا ہے


”فقہ کونسل آف نارتھ امریکہ“ (FCNA) نے مختلف تشکیلی مراحل گزار کر 1986 ء میں موجودہ شکل اختیار کی۔ یہ کونسل ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور کینیڈا کے مسلمانوں کی فکری ،نظریاتی اور فقہی رہنمائی کرتی ہے۔ ڈاکٹر مزمل صدیقی اس کے چیئرمین ہیں، اعلیٰ ترین مذہبی تعلیم کے مالک ہونے کے علاوہ ڈاکٹر مزمل صدیقی مکہ مکرمہ کی کونسل آف علما کے ایگزیکٹو بورڈ کے رکن ہیں۔ آپ مصر کی ”سپریم اسلامی کونسل“ کے بھی ممبر ہیں اور مکہ مکرمہ میں قائم مساجد کی سپریم کونسل کے بھی رکن ہیں۔ ڈاکٹر زینب الوانی فقہ کونسل کی وائس چیئرمین ہیں۔ کونسل کے ارکان میں مساجد کے آئمہ اور دیگر اہل علم شامل ہیں۔

فقہ کونسل آف نارتھ امریکہ کا بہت بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے 2044 ء تک ہر سال کا قمری کیلنڈر بنایا ہے۔ فقہ کونسل نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے اصل میں ”یورپی کونسل آف فتویٰ اینڈ ریسرچ“ کی پیروی کی ہے۔ ”یورپی کونسل آف فتویٰ اینڈ ریسرچ“ کے سربراہ عالم اسلام کے مشہور و معروف فقیہ ڈاکٹر یوسف قرضاوی ہیں جو کسی تعارف کے محتاج نہیں! یورپی کونسل نے واضح کیا ہے کہ رویت فی نفسہِ مطلوب نہیں بلکہ رویت نئے مہینے کا آغاز جاننے کا صرف ذریعہ ہے اور اب اس کا بالکل ٹھیک حساب لگایا جا سکتا ہے۔ کونسل کے الفاظ یہ ہیں۔

The sighting was not a requirement but just the means of ascertaining the beginning for a new month, and that is now attained by exact calculation.

طریقِ کار یہ ہے کہ کرہ ارض پر کہیں بھی نیا چاند نمودار ہو (یعنی Conjunction) تو مقامی غروب آفتاب کے وقت سورج اور چاند کے درمیان زاویہ کم از کم ْ 8 ہو۔ اور چاند افق سے کم ازکم ْ 5 اوپر ہو۔ اگر یہ شرط پوری ہو جائے تو اگلے دن نیا قمری مہینہ شروع ہو جائے گا بصورت دیگر نیا مہینہ اس کے ایک دن بعد آغاز ہو گا۔

یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ امریکہ اور کینیڈا کے مسلمانوں کی بہت بھاری تعداد اس کیلنڈر کے حساب سے روزے رکھ رہی ہے اور عیدین منا رہی ہیں۔ ان میں مساجد کے آئمہ اور علماء کرام بھی شامل ہیں۔ روایت پسند علما مخالفت کر رہے ہیں مگر ان کا ساتھ دینے والوں کی تعداد سال بہ سال گھٹتی جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ حساب (calculation) کے ذریعے قمری مہینوں کی شناخت اسلامی فقہ میں کوئی نئی بات نہیں۔ پہلی صدی ہجری کے آخر میں یہ بحثیں شروع ہو گئی تھیں۔ مشہور عالم فقیہ اور محدث تقی الدین سبکی (وفات 756 ہ) جو شام میں سترہ سال تک چیف جسٹس رہے۔ حساب کے ذریعے قمری مہینوں کی شناخت کے زبردست حامی تھے ان کا فتویٰ تھا کہ اگر حساب رویت کے امکان کی نفی کرتا ہے تو قاضی پر واجب ہے کہ شہادت رد کر دے ”لأن الحساب قطعی والشہادہ والخبر ظنیان“ اس لئے کہ حساب (calculation) قطعی ہے اور گواہی اور خبر ظنّی ہیں۔

اس وقت یہ کیلنڈر کینیڈا اور امریکہ کے لاکھوں مسلمانوں کے زیر استعمال ہے۔ اس کے مطابق یکم شوال یعنی نئے قمری مہینے کا آغار چار جون 2019 ء کو پڑ رہا ہے۔ یکم ذوالحجہ دو اگست کے دن پڑ رہا ہے۔ اس طرح اس کیلنڈر کی رو سے عیدالاضحیٰ گیارہ اگست 2019 ء کے دن ہونی ہے۔ شمالی امریکہ کے دونوں ملکوں کے مسلمان اور یورپی مسلمانوں کی اکثریت ایک عرصہ سے چاند کے جھگڑوں سے آزاد ہے۔ عالم اسلام میں کسی نے فتویٰ نہیں دیا کہ ان کے روزے باطل ہیں یا ان کی عیدیں غلط ہیں۔ اس کالم نگار کی گفتگو اس ضمن میں وہاں کے ذمہ دار آئمہ مساجد سے ہوئی ہے یہ آئمہ خود اسی کیلنڈر کے حساب سے روزے اور عیدیں منا رہے ہیں اور ان کی اقتدا میں نماز پڑھنے والے بے شمار مسلمان بھی۔ اگلے برس کی تاریخیں بھی ان کے علم میں ہیں۔ اگلے برس یعنی 1441 ہ کے دوران عیدالفطر 24 مئی 2020 ء کے دن پڑ رہی ہے۔ 1441 ہ کا متعلقہ مہینوں کے آغاز ملاحظہ کیجیے۔

یکم محرم 1441 ہ۔ 31 اگست 2019 ء (سنیچر)
یکم شعبان 1441 ہ۔ 25 مارچ 2020 ء (بدھ)
یکم رمضان 1441 ہ۔ 24 اپریل 2020 ء (جمعہ)
یکم شوال عیدالفطر 1441 ہ۔ 24 مئی 2020 ئی (ایتوار)

جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے فقہ کونسل نے 2044 ء تک قمری کیلنڈر ترتیب دے دیا ہے اگلے پچیس برسوں کے یہ کیلنڈر فقہ کونسل کی ویب سائٹ پر دیکھے جا سکتے ہیں دیکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ انٹرنیٹ کھول کر

moonsighting.com

پر جائیے ،صفحہ کھلنے پر بائیں طرف فہرست موضوعات نظر آئے گی۔ اس فہرست میں اوپر سے نویں نمبر پر calender.N.A لکھا ہے۔ اس پر کلک کیجیے۔ ایک اور فہرست نمودار ہو گی۔ اس میں سب سے اوپر calender Fcna & uq لکھا نظر آئے گا۔ اس پر کلک کیجیے تو آپ اگلے پچیس برس میں قمری مہینوں کے آغاز کی تاریخیں دیکھ سکتے ہیں۔

دلچسپی کے لئے یہاں 2044۔ 45 ء کے دوران قمری مہینوں کے آغاز کی تاریخیں دی جاتی ہیں۔
یکم محرم 1467 ہ۔ 21 نومبر 2044 ء (پیر)
یکم صفر 1467 ہ۔ 21 دسمبر 2044 ء (بدھ)
یکم ربیع الاول 1467 ہ۔ 19 جنوری 2045 ء (جمعرات)
یکم ربیع الثانی 1467 ہ۔ 18 فروری 2045 ء (سنیچر)
یکم جمادی الاولیٰ 1467 ہ۔ 20 مارچ 2045 ء (پیر)
یکم جمادی الاخریٰ 1467 ہ۔ 18 اپریل 2045 ء (منگل)

یکم رجب 1467 ہ۔ 18 مئی 2045 ء (جمعرات)
یکم شعبان 1467 ہ۔ 16 جون 2045 ء (جمعہ)
یکم رمضان 1467 ہ۔ 15 جولائی 2045 ء (سنیچر)
یکم شوال (عیدالفطر) 1467 ہ۔ 14 اگست 2045 ء (پیر)
یکم ذوالقعدۃ 1467 ہ۔ 12 ستمبر 2045 ء (منگل)
یکم ذوالحجہ 1467 ہ 12 اکتوبر 2045 ء (جمعرات)
اس حوالے سے پاکستان میں کیا صورت احوال ہے اور کیا ہو رہا ہے اس پر تبصرہ آئندہ نشست میں کیا جائے گا۔

Facebook Comments HS