صدر مملکت عارف علوی نے ماضی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے بارے میں کیا کہا تھا؟


 سپریم کورٹ کے جج قاضی فائز عیسیٰ کے بارے میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا ایک ایسا پرانا بیان سامنے آیا ہے جسے پڑھ کر صدر مملکت خود بھی شرمندہ ہو جائیں گے

تفصیلات کے مطابق صدر مملکت نے وفاقی حکومت کی ہدایت پر ہائی کورٹس کے دو اور سپریم کورٹ کے ایک جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنسز دائر کردیے ہین اور ان پر بیرون ملک جائیدادیں ظاہر نہ کرنے کے الزام لگایا گیا ہے۔ ان جج صاحبان میں سے ایک نام جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ہے جنہیں کچھ سال قبل اپوزیشن میں ہوتے ہوئے ڈاکٹر عارف علوی خود ہی ایک ایماندار شخص قرار دے چکے ہیں لیکن اب ان کے خلاف ہی ریفرنس بھجوا دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق 14 جنوری 2013 کو اپنی ٹوئیٹ میں ڈاکٹر عارف علوی (اس وقت صدر نہیں تھے) نے لکھا تھا کہ ’’بلوچستان میں ایک ایماندارانہ گورنر راج نہیں لگانا چاہیے؟ کیا میں قاضی فائز عیسیٰ کا نام بطور گورنر تجویز کرسکتا ہوں ، جو اس وقت (2013ء میں) بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ہیں‘‘۔

صرف یہی نہیں بلکہ ڈاکٹر شیریں مزاری نے اس وقت ڈاکٹر علوی کے ٹوئیٹ پر جواب میں لکھا تھا کہ ’’ ایسا ہوسکتا ہے لیکن الیکشن کے لیے ہم ایک ایماندار سینئر جج کو ہٹانے کی تجویز کیوں دیں؟ ہمیں جوڈیشری کو مضبوط بنانے کے لیے ان کی ضرورت ہے‘‘۔

صدر مملکت کی طرف سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس بھجوانے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد عارف علوی کی یہ ٹوئیٹ ایک مرتبہ پھر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے

Facebook Comments HS