پنجابی بادشاہت، وراثتی سیاست یا قائد جمہوریت مولانا فضل الرحمن؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سنا ہے کہ اپو‌زیشن نے مولانا صاحب کو عمران خان کو وزات عظمی سے ہٹانے کے لئے قائد نامزد کیا ہے۔ سیاسی ماحول کو گرم رکھنے اور تخت کو تختہ کرنے میں مولانا صاحب کا کوئی ثانی نہیں۔ اسی لئے تو اپوزیشن نے اس امید کی بنا‎‌ پر انھیں اپنا قائد مان لیا ہے، تاکہ وہ اپنی تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کر سکیں۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے۔ کہ مولانا صاحب اپو‌زیشن کی اس تحریک کے روح و رواں بننے میں اتنی دلچسپی کیوں لے رہے ہیں۔ غالبا اسی لئے کہ اگر عمران خان مرکز میں پانچ سال پورے کر لیتے ہیں۔ تو اس کے اثرات صوبے میں تحریک انصاف کی کارکردگی کی بہتری کی صورت میں بھی نمودار ہو سکتے ہیں۔ جس سے مولانا کی اور ان کی پارٹی کی سیاسی ساکھ کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

کیا مولانا صاحب پنجابی شہنشاہیت کے محافظ قائد بننے جا رہے ہیں۔ تو اس کا جواب آپ خود موجودہ سیاسی حقائق کے تناظر میں ڈھونڈ سکتے ہیں۔ کیونکہ جناب نواز شریف کی تین مرتبہ وزارت عظمی کے بعد مریم نواز ملکہ بننے کے لئے قدم رنجہ فرما رہی تھیں۔ کہ خاندان کے اندر ہی سے شہباز شریف تین مرتبہ کی وزارت اعلی سے لطف اٹھانے کے بعد بور ہوکر شہنشاہ کی کرسی پہ نظر جمانے لگے۔ لیکن خان صاحب نے اس بار ٹھان لیا تھا۔ کہ وہ ہی وزیراعظم بنیں گے نہیں تو۔

لہذا خان صاحب کے وزیراعظم بننے کے بعد پنجابی شہنشا ہیت کے امکانات معدوم سے معدوم تر ہوتے جا رہے ہیں۔ لہذا مریم نواز اسے بچانے کے لئے سر توڑ کوششیں کر رہی ہیں۔ اور اس کے لئے مولانا صاحب سے بہترین کوئی انتخاب نہیں۔ وہ اک جہاندیدہ اور دوراندیش سیاستدان ہیں۔ وہ کرسی اور اسے الٹنے کے کھیل اور اس کے محرک مہروں او ر حالات سے خو ب آشنا ہیں۔ ان کی اک کال پہ ہزاروں بلکہ لاکھوں پشتون جمع ہو سکتے ہیں۔ اور ایک زبردست تحریک چلانے کے لئے پشتون قوم کو ایک بہترین ایندھن کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کیا آپ کو آئیڈیا پسند آیا؟ مجھے تو بڑا پسند آیا جی، کمال کا آئیڈیا ہے جناب۔ ویسے عرض کر دوں کہ اس بستی میں کبھی اس بدقسمت قوم کی قربانیوں کو بھیڑ بکریوں کی قربانیوں سے بھی تعبیر کیا گیا تھا۔

اب چلتے ہیں جنا ب بلاول بھٹو زرداری صاحب کے پاس، یقینا وہ مستقبل میں ایک شاہکار و‎زیراعظم بن سکتے ہیں۔ لیکن معاف کیجئیے یہ شاہکار وہ وراثتی سیاست کے بن سکتے ہیں۔ اور اس شاہکار کارنامے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے خان صاحب کو کرسی سے ہٹانے کے علاوہ فی الحال اور کوئی چارہ اور راستہ نہیں۔ تو پھر تحریک چلانے کے لئے سب پارٹیوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کے لئے، عمران خان کے سنگین مخالف مولانا صاحب سے بہتر کوئی اور انتخاب نہیں۔ واہ رے بلاول صاحب آپ کی کیا بات ہے۔ آپ تو واقعی شاہکار ہیں اور شاہکار انداز میں شاہکار بننے کے لئے بے تاب ہیں۔ اور آپ کی صورت میں واقعی بھٹو زندہ ہے۔

اب آتے ہیں سب سے بڑے پتے کی بات، اور وہ ہے جمہوریت اور اس کا تحفظ۔ تو جنا ب کیا ایک منتخب حکومت کا تختہ الٹنے سے یا ایک منتخب وزیراعظم کو ہٹانے سے جمہوریت کو تقویت مل سکتی ہے۔ اور کیا بلاول اور مریم نواز نے ماضی مں اپنی پارٹی کی منتخب حکومتوں کا تختہ الٹنے کی صورت میں جمہوریت دولخت ہونے سے سبق نہیں سیکھا۔ کہ وہ ایک بار پھر اسے دولخت کرنے کے لئے مہرے بن رہے ہیں۔ اب وہ یقینا یہی عذر پیش کریں گے۔ کہ کپتان تو امپائر کی انگلی اٹھنے سے اور خاکسار صاحب کی شہ پا کے میدان میں وارد ہوئے تھے۔

تو جناب آپ کی پچھلی حکومتیں کیا خاکسار صاحب کی شہ کے بغیر آئی تھیں۔ اور کیا مستقبل قریب میں ان کی شہ کے بغیر جمہوریت پنپ سکتی ہے؟ اور کیا آپ لوگ ان کی شہ کے بغیر سب ایک پیج پہ آ رہے ہیں؟ ایک پیج والی بات سے ایک حیران کن خبر یاد آ رہی ہے۔ وہ یہ کہ کسی نے غالبا بے پر کی آڑائی ہے۔ کہ خاکسار صاحب اور خان صاحب ایک پیج پہ نہیں ہیں۔ ویسے خان صاحب سے کچھ بعید بھی تو نہیں۔ ”جی سر“ کہنے میں تامل سے کام لے کر توقف کرتے ہیں۔

سنتے سب کی ہیں، کرتے اپنی ہیں۔ اور کبھی کبھی تو من مانی کرکے ”میں نہ مانوں“ والی بات بھی کر دیتے ہیں۔ اپنی شان پر حرف نہیں آنے دیتے۔ اب بھلا یہ بھی کوئی بات ہوئی، پاکستان میں جمہوریت کی ڈوبتی کشتی کو لنگرانداز کرنے کے لئے رہنمائی تھوڑی اس طرح ہوتی ہے۔ تو خاکم بدہن یہ خبر سچ بھی ہو سکتی ہے۔ اور عید کے بعد دارالخلافہ میں دھمال کی تیاری ہوتے دیکھ کر آپ کے دل میں کوئی بھی وسوسہ آسکتا ہے، اور آپ کسی قسم کی خرافات پر بھی سر دھن سکتے ہیں۔

بہرحال ہمیں جناب حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب مدظلہ سے ایک شدید قسم کی التجا ہے۔ کہ سیاسی بساط لپیٹنے کے لئے ملین مارچ کی بجائے اگر وہ پشتونوں کی بربادی کا حساب کرنے کے لئے ایک ملین مارچ کرتے تو اس سے اگر حساب نہ بھی ہوتا تو کم ازکم ان کے زخموں پہ آپ کے ہاتھوں مرہم ہی لگ جاتا۔ اور ایسے حالات میں جب کہ پشتون زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ انھیں سیاست کی غلام گردشوں کی بھینٹ چڑھانا آپ جیسے پشتونوں اور مذہبی طبقے کے عظیم رہنما کے شایان شان نہیں۔ خدارا اپوزیشن کی تحریک کی بجائے پشتونوں کے حقیقی مسائل حل کرنے میں ان کا ساتھ دیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •