مودی کے بعد ٹرمپ اور عمران خان بھی اگلا الیکشن جیتیں گے


نریندر مودی کی فقیدالمثال کامیابی نے ثابت کردیا ہے کہ بھارت سے نظریاتی سیاست کا بستر گول ہوچکا اور پاپولزم نے اڑان بھر لی ہے۔ یہ لہر صرف بھارت ہی میں نہیں، پوری دنیا میں پھیل چکی ہے۔

ایک اوسط درجے کی سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والا شخص عوام کے سامنے یہ بیانیہ رکھتا ہے کہ سماج دو طبقوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔ ایک بے چارے عوام اور دوسرا کرپٹ رولنگ ایلیٹ۔ وہ عام آدمی کو اپنے منہ پھٹ اور نسبتاً غیر اخلاقی انداز میں نظام کو برا بھلا کہتے ہیں۔ سیاستدان ہوتے ہوئے بھی خود کو غیر سیاسی قرار دیتے ہیں اور دعوی کرتے ہیں کہ بس اب اس نظام کی سڑاند سے چھٹکارا حاصل کرنے کا وقت آچکا۔ وہ سیاسی داؤ پیچ کو آسان الفاظ میں بیان کرکے سیاسی بحث کو عوامی سطح تک لے جانے کا شعور دینے کا کریڈٹ تو لیتے ہیں لیکن اپنے منشور اور منصوبہ سازی کو مبہم رکھتے ہیں۔

انکی عوامی مقبولیت دیکھتے ہوئے سرمایہ دار طبقہ آگے بڑھ کر انہیں گود لے لیتا ہے کیونکہ روایتی سیاست کی مخصوص معاشی پالیسیز سے تنگ یہ طبقہ کچھ مراعات چاہتا ہوتا ہے۔ چنانچہ سرمایہ دار طبقہ ایسے سیاستدانوں کو سپانسر کرتا ہے اور کارپوریٹ سیاست کا عنصر شامل ہوجاتا ہے۔ وہ امریکہ میں اسلحہ ساز انڈسٹریز ہوں، بھارت کا امبانی اور ٹاٹا گروپ ہو یا پاکستان کا شوگر ملز و پراپرٹی ٹائیکون طبقہ۔

نفرت اور سطحیت پر قائم عوامی مقبولیت اور کارپوریٹ سپانسر شپ کے امتزاج سے پاپولزم جنم لیتی ہے جسے اکثریتی عوام انقلاب کا پیش خیمہ سمجھتے ہوئے دھوکے میں آجاتے ہیں۔ یہ تبدیلی صرف ہندوستان کو ہی نہیں، امریکہ، یورپ، لاطینی امریکہ سمیت پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔

عوام بھی کیا کریں۔ سرد جنگ کا خاتمہ محض دو ممالک کی چپقلش کا خاتمہ نہیں تھا بلکہ نظریاتی سیاست کا زوال بھی تھا۔ بایاں بازو اور دایاں بازو سیاست ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی۔ مایوس سوشلسٹوں نے لبرل ڈیموکریسی میں پناہ لے لی اور قدامت پسندوں نے قوم پرستوں اور مذہب پرستوں کے ساتھ ملاپ کرلیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ سیاسی جماعتوں میں نظریاتی حد فاصل ختم ہو کر رہ گئی اور سیاست بازی نظریاتی ترویج کی بجائے طاقت کا حصول کسی بھی طریقے سے کا اصول وضع ہوگیا۔

امریکہ کی مثال لیں۔ ریپبلکن سے بش سینئیر آتا ہے، جنگیں کرتا ہے۔ ڈیموکریٹ سے کلنٹن آکر اس کے کیے کی صفائی کر کے معیشت بحال کرتا ہے۔ پھر ریپبلکن سے بش جونئیر آتا ہے اور جنگیں کر کے معاشی ابتری لاتا ہے۔ اوبامہ ڈیموکریٹ سے آکر صفائی کرتا ہے اور معیشت بحالی کی طرف جاتا ہے۔ اس تماشے سے تنگ آکر امریکی قوم نے ٹرمپ کو چنا جس کا پارٹی سے تعلق واجبی سا ہے لیکن پاپولزم کے زیر اثر وہ کسی لگی لپٹی میں پڑے بغیر عام امریکی کی طرح سوچتا ہے۔

وہ امریکہ کی بین الاقوامیت کو ایک طرف پھینک کر بڑی سادگی سے یہ رویہ اپناتا ہے کہ وہ غیر ملکی افراد اور مصنوعات کو سخت ناپسند کرتا ہے۔ انسانی حقوق و امداد وغیرہ کو پیسوں کا ضیاع سمجھتے ہوئے پیسہ برائے فائدہ پر یقین رکھتا ہے۔ دوست اور دشمن ممالک کی پرکھ امریکی اشیا کی خریداری کی بنیاد پر کرتا ہے۔ سرمایہ دار طبقے کو خوش رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ یہاں تک کہ سعودی عرب کی یمن جنگ، قطر سے بائیکاٹ اور جمال خشوگی کے بہیمانہ قتل پر آنکھیں بند کر کے اسلحہ ساز فیکٹریوں کو تجارت کے بھرپور مواقع دیتا ہے۔

پاکستان بھی اس رجحان سے شدید طور متاثر ہوا۔ جب نوے کی اواخر میں نظریاتی سیاست کو بزور ڈنڈا توڑا گیا تو ایک ایسی نئی کلاس پیدا کی گئی جو ایوب خان کو بھی ہیرو مانتی ہے اور فاطمہ جناح کو بھی مادر ملت کہتی ہے۔ جو بھٹو کو بے مثل لیڈر ماننے کے ساتھ ساتھ ضیا الحق کی عظمت کے گن بھی گاتی ہے۔ اس کلاس کا سایہ ایک ایسی پارٹی پر پڑا جو اس سے قبل نظریاتی و عوامی مخمصے میں تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ پارٹی ایک طاقتور پاپولسٹ جماعت بن گئی اور اپنے آپ میں غیر متوقع طور پر کامیابی حاصل کر لی۔

لوگ کہتے ہیں کہ ان کو لایا گیا ہے، درحقیقت ان کو نہیں پاپولزم کو لایا گیا ہے۔ کیونکہ یہ وہ انداز سیاست ہے جو ہماری اسٹیبلشمنٹ کو بہت موافق آتا ہے۔ عوام کے نام پر ہر طرح کی نظریاتی و سیاسی حدود قیود کو پامال کرنا جائز ہے کیونکہ سیاست نہیں ریاست بچانی ہے۔ عوامی بہبود سے کون کافر انکار کرنے کی جرات کر سکتا ہے، اب چاہے بہبود کی آواز ایک منصف اعلی کے چیمبر سے نکلے یا کسی بیرک سے۔ بہبود کا کام ڈیم بنانے سے ہو یا معاشی تجاویز دینے سے۔ یہ نہ دیکھو کون کہہ رہا ہے، یہ دیکھو کیا کہہ رہا ہے۔ ایسے نادر موقع کی ہی تو کئی عشروں سے تلاش تھی۔ اب جب یہ موقع ایک سیاسی رجحان کے طور پر رائج ہوگیا ہے تو پھر کون سا امر مانع رہ گیا۔

پاپولزم نے یورپ کو بھی امیگریشن کے معاملے پر شدید طور پر ایسا جھنجھوڑا کہ یورپی یونین واضح طور پر بٹتی ہوئی نظر آئی۔ وہاں یہ حالات پیدا ہوچکے ہیں کہ مشرقی یورپ نے تو خود کو پاپولزم میں ڈھال لیا جبکہ جرمنی، فرانس اور اٹلی میں دوسری بڑی جماعتیں، پاپولسٹ ہی ہیں۔

حال ہی میں دو واقعات نے پاپولزم کو عالمی رجحان ساز سیاسی حکمت عملی کے طور پر مضبوط کیا۔ جب دنیا کی قدیم ترین جمہوریت اور وسیع ترین جمہوریت پاپولزم کا شکار ہو کر نظریاتی سیاست سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ پہلی، بریگزٹ کے معاملے پر ٹوری اور لیبر دونوں جماعتوں نے شدید طور پر اپنی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔ ایک غلط وقت پر کیے گئے بریگزٹ نے برطانوی عوام کو اس درجہ تھکایا اور چڑایا کہ دونوں جماعتوں کو ایک تیسری پارٹی کے ہاتھوں عبرتناک شکست ہوگئی جس کی وجہ سے دونوں بڑی جماعتوں کا مستقبل تاریک ہوتا نظر آرہا ہے۔ پاپولزم نے دو وزرائے اعظم کو روندتے ہوئے اب یہ یقین پیدا کردیا کہ اگلی حکومت پاپولسٹ جماعتوں کے اتحاد سے ہی بنے گی۔

دوسرا بڑا واقعہ نریندر مودی کی فتح ہے۔ بی جے پی کا کھلم کھلا اپنے ہندوانہ نظریات کا پرچار کرنے کے باوجود تین سو زائد سیٹس جیتنا جس میں جموں کشمیر کے پچاس فیصد سے زائد ووٹ بھی شامل ہوں، اس جانب توجہ دلواتا ہے کہ پاپولزم میں کتنی طاقت ہے۔ نریندر مودی کی انتہا پسندانہ گائے پالیسی، سرجیکل اسٹرائیک کی سبکی اور کشمیر میں ناکامی بھی پاپولزم کے آگے نہ ٹھہر سکی اور عوام نے ان کو معمولی قرار دیتے مودی کو بھرپور موقع دیے جانے کو ترجیح دی۔

اسی تناظر میں یہ رائے بآسانی قائم کی جاسکتی ہے کہ ٹرمپ اپنی تباہ کن خارجہ پالیسی اور عمران خان اپنی کمزور معاشی پالیسی کے باوجود اگلا الیکشن بھی جیت جائیں گے کیونکہ ایک عام آدمی اب یہ سوچتا ہے کہ ستر اسی سالہ نظریاتی سیاست نے ان کو کیا دیا۔ عالمی ساکھ کس بلا کا نام ہے اور سیاسی حکمت عملی کون سی منافقت ہے۔ اگر ان کے ہوتے بھی محرومیاں اپنی جگہ موجود ہیں تو کیوں نہ داؤ ایک ایسے بندے پر کھیلا جائے جو یا ادھر کردے یا ادھر۔ ان کو بھرپور موقع دیا جائے۔ ناکامی کی صورت میں کیا ہوگا۔ زیادہ سے زیادہ یہی نہ کہ محرومیوں میں اضافہ ہوجائے گا۔ کون سی نئی تبدیلی ہوگی !

Facebook Comments HS