پاکستانی کرکٹ میں سیاست

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجھے انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے۔ کہ شاید ہماری کرکٹ بھی سیاست کی نذر ہو کر پاکستان میں دوسری کھیلوں کی طرح ختم ہو جاے۔ ایک دور تھا جب نوے کی دہائی میں پاکستان کرکٹ، ہاکی، سکواش کا چیمپئن ہوا کرتا تھا۔ اور اس وقت ملکی حالات بھی قدرے بہتر ہوا کرتے تھے۔ لوڈ شیڈنگ، پینے کا صاف پانی کی کمی وغیرہ جیسے مسائل بھی کم تھے۔ خیر ہم بات کر رہے تھے کہ کس طرح سیاست کھیل کو خراب کر دیتی ہے۔

ضروری نہیں کہ کھیل میں باقاعدہ سیاستدانوں یعنی سیاسی لوگوں وزیروں یا مشیروں کا عمل دخل ہو۔ بلکہ مینجمنٹ یعنی انتظامیہ کے اندر ہی سیاست شروع ہو جاتی ہے۔ کہ کس بندے کو کھلانا ہے کس کو نہیں، کس کو کپتان بنائیں جو جی حضوری میں مہارت رکھتا ہو۔ اور چیئرمین صاحب کے احکامات کی پیروی کرتے ہوے ان کے من پسند کھلاڑیوں کو بھی کھلا لے۔ تو اس طرح میرٹ کی دھجیاں بکھیری جاتی ہیں۔

پاکستان کی ہاکی انہی چیزوں کی وجہ سے آج وینٹیلیٹر پر ہے۔ ہم اول تو ورلڈ کپ کے لیے ڈائریکٹ کوالیفائی نہیں کر پاتے۔ اس کے لیے کوالیفائرز راوئنڈ کھیلنا پڑتا ہے۔ اگر کر بھی جائیں تو جتنی ٹیمیں ہوں اس حساب سے آخری نمبر پر آتے ہیں۔ حالانکہ ہاکی ہمارا قومی کھیل ہے ہم چار بار ہاکی کے چیمپین بھی رہ چکے ہیں۔ لیکن ہاکی پر بالکل بھی کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔ اسی لیے نئے آنے والے نوجوان کرکٹ کھیلنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

بات کرتے ہیں ایک روزہ ورلڈکپ 2015 کی جب ناصر جمشید کو کھلانا اتنا ضروری پڑ گیا تھا۔ کہ حفیظ کو جو اس وقت اچھی فارم میں تھا اسے آسٹریلیا سے واپس بھیج دیا گیا۔ اور ناصر جمشید صاحب جو اس سے پہلے مسلسل فلاپ جا رہے تھے۔ اور آخری بیس، اکیس ایک روزہ میچوں میں معمولی اوسط یعنی سترہ کی اوسط سے سکور کر رہے تھے۔ خیر کسی کو کوئی اعتراض نہیں تھا۔ مصباح کو بھی نہیں اور ناصر جمشید صاحب پورے ورلڈکپ میں بری طرح فلاپ ہوئے۔ اور پاکستان ایک نہایت ہی ڈرپوک اور بزدل کپتان کی بدولت کوارٹر فائنل سے باہر ہو گیا۔ گو کہ کسی بھی ورلڈ کپ میں کھیلنے والی یہ پاکستان کی سب سے کمزور ٹیم تھی۔ جبکہ اس کے ذمہ دار بھی مصباح الحق تھے جو مسلسل چار سال سے کپتانی کر رہے تھے۔

اب بات کرتے ہیں انضمام الحق جنہوں نے اقربا پروری کو بھرپور فروغ دیا۔ اور 2017 میں انگلستان میں ہونے والی چیمپین ٹرافی میں بہترین پرفارمنس دینے والے اظہر علی کو ایک روزہ ٹیم سے نکال دیا۔ اور اپنے بھانجے امام الحق کو منتخب کر لیا۔ گو کہ اس نے پرفارمنس بھی دی اور اپنی جگہ بھی پکی کی ٹیم میں مگر طریقہ کار انتہائی غلط ہے۔ کہ جس طرح وہ ٹیم میں آیا سب کو پتہ ہے۔ کہ ڈومیسٹک میں اس سے اچھی پرفارمنس کرنے والے موجود تھے۔ جیسا کے عابد علی، اور خرم منظور وغیرہ، خیر امام کی سلیکشن تو صحیح ثابت ہو ئی۔ لیکن پھر وہی کہ اظہر کو کیوں نکالا؟ اس کے بعد انضمام الحق صاحب کی ناقص ترین سلیکشن کی وجہ سے ہم ایشیاء کپ ہارے۔

اور اس کے بعد متحدہ امارات میں آسٹریلیا کے خلاف ہونے والی ایک روزہ سیریز میں کافی بری طرح ہارے۔ جن نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دیا وہ کسی صورت بھی ورلڈکپ کا حصہ نہیں ہو سکتے تھے۔ جیسا کے یاسر شاہ اور عباس، اور رضوان بھی جس کو دو سینچریوں کے باوجود ورلڈکپ کے لیے منتخب نہیں کیا۔ مطلب اسے کھلایا ہی غلط تھا۔

ہماری حکومت کو چاہیے کہ کھیلوں کی طرف توجہ دی جاے۔ ہاکی، سکواش اور کرکٹ میں تو بہت ٹیلنٹ ہے ہمارے ملک میں۔ لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹیلنٹ کو اوپر لانے کے لیے ایک اچھا نظام بنایا جاے۔ اور اس پر پیسہ لگایا جاے۔ کہتے ہیں جس ملک کے گراونڈز آباد ہوں۔ وہاں کے ہسپتال ویران ہوتے ہیں۔ امید ہے ماضی کی طرح ایک بار پھر ہم مختلف کھیلوں میں چیمپین ہوں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •