سو دن چور کے اور ۔۔۔ پھر چیئرمین نیب پکڑے گئے


شعبہ صحافت میں سیاستدان اور اہم عہدیدارہمیشہ رسمی اور غیر رسمی گفتگو کا سہارا لے کر اپنا پیغام عوام تک پہنچاتے ہیں۔ حالانکہ اس رسمی اور غیر رسمی گفتگو میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہوتا۔ دونوں طرز کا کلام اہم سیاستدان اچانک ہی کرتے ہیں، مثال کے طور پر پارلیمنٹ سے نکلتے ہی کوئی اہم سیاستدان یا کوئی وزیر، مشیر صحافیوں کے ہتھے چڑھ جائے تو یہ گفتگو رسمی بھی قرار دے دی جاتی ہے اور اسے غیر رسمی بھی کہہ دیا جاتا ہے۔ یہ گفتگو خالصتاً صحافیوں کی مرضی سے ہوتی ہے اس لئے اس بات کا انحصار بھی صحافیوں پر ہی ہوتا ہے کہ وہ اسے رسمی گفتگو قرار دیں یا غیررسمی کے کھاتے میں ڈال دیں۔

شعبہ صحافت سے متعلق کتابوں میں انٹرویوز کے حوالے سے مواد تو موجود دکھائی دیتا ہے لیکن غیر رسمی انٹرویوز کا ذکر کہیں نہیں ملتا۔ گزشتہ دنوں چیئرمین نیب نے جو ”کالمانہ“ انٹرویو دیا تھا ابھی تک اس کی ”شناخت“ کا تعین نہیں ہو سکا کیونکہ کچھ سینئر لوگوں کا خیال ہے کہ یہ انٹرویو نہیں بلکہ غیر رسمی گپ شپ تھی جبکہ کچھ اعلیٰ پائے کے صحافیوں کی رائے ہے کہ یہ رسمی گپ شپ اور دیدہ دانستہ انکشاف سے بھرپور انٹرویو تھا۔

اس کے بعد چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے صحافیوں کو بلا کر ایک پریس کانفرنس بھی کی، اس پریس کانفرنس کے حوالے سے بھی کئی سوالات اٹھائے گئے ہیں، مثال کے طورپر اتوار کو چھٹی کے باوجود کی گئی پریس کانفرنس یقینی طور پر نہ صرف غیر رسمی تھی بلکہ غیر روایتی بھی تھی، اس پریس کانفرنس میں چیئرمین نیب نے اپنی ساری بات کی لیکن صحافیوں کے سوالوں کے جواب دینے کی بجائے اٹھ کر چلے گئے جو کہ صحافیوں کے لئے غیر متوقع حرکت تھی۔

اس کے چند روز بعد چیئرمین نیب سے متعلق ایک غیر اخلاقی ویڈیو سکینڈل سامنے آیا اور نیب کی طرف سے اس کی غیر رسمی تردید جاری کی گئی، ٹی وی چینل اور سوشل میڈیا پر جو چیئرمین نیب اور ایک مبینہ بلیک میلر خاتون کی غیر اخلاقی گفتگو سنائی گئی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ چیئرمین نیب رومانی گفتگو پر مکمل عبور رکھتے ہیں۔ اس قابل اعتراض ویڈیو نے چیئرمین نیب کی عاشقانہ صلاحیتوں کو کھول کر رکھ دیا ہے۔ اس ویڈیو پر اب ٹی وی چینلز پر ”عالمانہ“ تبصرے بھی ہورہے ہیں اور ”کالمانہ“ تجزیے بھی کیے جارہے ہیں۔

اپوزیشن چیئرمین نیب کے معاملے پر تقسیم نظر آتی ہے۔ اپوزیشن میں موجود ایسے لوگ جو چیئرمین نیب سے ملتا جلتا ”درد دل“ رکھتے ہیں ان کا موقف ہے کہ یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے اور اس کو اچھالا نہ جائے بلکہ نظرانداز کرکے سفر آگے بڑھایا جائے جبکہ اپوزیشن کی صفوں میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جنہیں موجودہ چیئرمین نیب نے بہت ”درد“ دیا ہے اور نیب کی کارروائیوں کا درد محسوس کرنیوالے حضرات کی خواہش ہے کہ چیئرمین نیب سے استعفیٰ لے لیا جائے۔ متنازعہ ویڈیو نے نیب کے ستائے ہوئے لوگوں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کردیا ہے اور وہ یک زبان ہو کر چیئرمین کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کررہے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے چیئرمین نیب کو اپنی زلفوں کے جال میں پھنسانے والی خاتون نے یہ جان کی بازی اس لئے لگائی تھی کہ وہ چیئرمین کو بلیک میل کرکے اپنا الوسیدھا کرسکے لیکن خاتون کا الوتو سیدھا نہیں ہو سکا البتہ نیب اور پولیس نے خاتون اور اس کے خاوند کو ”غیر رسمی“ تفتیش کے ذریعے ”الو“ بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

خاتون کی چیئرمین نیب کے ساتھ بنائی گئی ویڈیو کا اسے کوئی فائدہ نہیں ہوا البتہ اپوزیشن کے ہاتھ گیڈر سینگی لگ گئی ہے خاتون تو صرف اپنے خاوند اور خود کو بچانے کی خواہش مند تھی لیکن اس ویڈیو کی آڑ میں اپوزیشن پورے ”ٹبر“ سمیت ساتھیوں کو بھی محفوظ بنانے کی تگ ودو کررہی ہے۔

چیئرمین نیب کے سکینڈل بارے شہر اقتدار میں ایک سوال یہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اتنے اہم عہدے پر بیٹھ کر انہیں ایسی حرکت نہیں کرنی چاہیے تھی۔ مگر حقیقت تو یہ بھی ہے کہ اگر وہ اہم عہدے پر نہ ہوتے تو کیا کوئی خوبصورت عورت ان کے دفتر کا چکر لگانا گوارا کرتی؟ چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال اس سے پہلے ایبٹ آباد کمیشن کے سربراہ کے طورپر تلخ تجربات سے گزر چکے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس کمیشن کی سربراہی کے دوران وہ نسوانی آواز بھی نہیں سن پاتے تھے۔

البتہ بڑے بڑے ہیبت ناک لوگوں کے انہوں نے بیانات ریکارڈ کروائے تھے اس طرح لاپتہ افراد کے لئے بنائے گئے کمیشن کی سربراہی کرتے ہوئے بھی وہ دکھی دلوں کی آوازیں سن سن کر تنگ آگئے تھے۔ پھر اللہ نے کرم کیا اور وہ چیئرمین نیب بھی ہو گئے اور نیب ایسا تالاب ہے جس میں بڑے بڑے خوفناک مگر مچھ اور خوبصورت مچھلیاں بھی ہیں۔ چیئرمین نیب کے ہاتھ لگنے والی مچھلی خوبصورت ضرور ہے مگر اس نے سارا نیب ہی گندہ کردیا ہے۔

کئی ریٹائرڈ جج صاحبان جسٹس جاوید اقبال پر رشک کرتے تھے کیونکہ سپریم کورٹ کے سینئر جج کے طورپر ریٹائر ہونے کے بعد بھی عہدے ان کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے دکھائی دیے اور ساری چکاچوند تو عہدوں کی ہی ہوتی ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت کئی دبنگ جج گمنام زندگی گزار رہے ہیں۔ ویڈیو منظرعام پر نہ آتی تو نیب کے تالاب میں ابھی اور بھی کئی خوبصورت مچھلیاں ہاتھ لگ سکتی تھیں مگر اس مچھلی نے چیئرمین نیب کو توڑ کر رکھ دیا ہے۔ چیئرمین نیب ایک ایسا عہدہ ہے جس پر بیٹھا شخص چاہے تو آئے روز نیا عشق کرسکتا ہے بشرطیکہ پکڑا نہ جائے۔ ایک روایت مشہور تھی کہ سو دن چور کا اور ایک دن سادھ کا۔ چیئرمین نیب کے معاملے میں یہ بھی الٹی ہوگئی ہے اور اب یہ اس طرح سے ہوگی سو چور پکڑے گئے اور پھر ایک دن سادھ بھی پکڑا گیا۔

Facebook Comments HS

شمشاد مانگٹ

شمشاد مانگٹ گذشہ 25برس سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ منسلک ہیں۔اس وقت بطور گروپ ایڈیٹر روزنامہ جناح اور آن لائن نیوز ایجنسی کے ساتھ کام کر رہے ہیں

shamshad-mangat has 105 posts and counting.See all posts by shamshad-mangat