حساس اداروں کے نام: ایک درخواست

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فوج ہر ملک کا ایک قیمتی اثاثہ اور اس کی آزادی کی محافظ ہوتی ہے۔ فوج کی اہمیت سے انکار تو کوئی احمق ہی کرے گا لیکن اسے باقی معاشرے سے بلند اور تنقید سے بالا سمجھنا نو آبادیاتی سوچ ہے۔ امریکی فوج کو دنیا کی طاقتور ترین فوج خیال کیا جاتا ہے لیکن اس پر ہونے والی تنقید میں ایک بہت بڑی تعداد خود امریکی مفکرین کی ہے۔ ویتنام میں امریکی فوج کی  چیرہ دستیوں پر امریکہ ہی میں درجنوں فلمیں بن چکی ہیں۔ کبھی کسی نے یہ نہیں کہا کہ یہ فلمیں بنانے والے روس کے ایجنٹ ہیں۔ امریکی فلمساز مائیکل مور نے امریکہ کے عراق پر حملے کے خلاف ایک دستاویزی فلم بنائی جس نے خاصے ایوارڈز سمیٹے۔ اسے کسی نے ملک دشمن یا غدار نہیں کہا۔

سنجیدہ تنقید کو تو ایک طرف رکھیں، امریکی میڈیا پر فوج سے متعلق لطیفے سنائے جاتے ہیں اور فوج پر کئی مزاحیہ سیریلز بن چکی ہیں۔ میرین فورس کو امریکی افواج کی سب سے زیادہ جنگی صلاحیت رکھنے والی شاخ سمجھا جاتا ہے لیکن ان کی کند ذہنی کا مذاق بھی اڑایا جاتا ہے۔  ایک دفعہ ایک مزاحیہ شو کے میزبان نے اپنے مہمان سے پوچھا کہ اگر میں کہوں کہ میرین اور ایک سو ساٹھ آئی کیو تو تمھارے ذہن میں کیا آئے تو مہمان نے جواب دیا ایک پوری پلاٹون۔

ادھر حالات یہ ہیں کہ اگر چند درجن افراد تبادلہ خیالات کا منصوبہ بنا لیں تو حساس ادارہ غصے میں آ جاتا ہے۔ حضور آپ دنیا کی چھٹی یا ساتویں بڑی فوج ہیں۔ آپ کا رتبہ ان سب لوگوں سے بلند ہے۔  اگر وہ سب منفی پراپیگنڈہ کرنے کے لئے بھی اکٹھے ہوئے ہیں تو آپ ان کو نظر اندازی کی سزا دیں۔ کرنے دیں انہیں دروغ گوئی۔ بلکہ آپ پاکستانی میڈیا سے درخواست کریں کہ ان کی خرافات پاکستانی عوام تک پہنچائیں تاکہ عام لوگوں پر بھی ان کی بے بنیاد تنقید آشکار ہو۔

حساس ادارے پر تنقید کا از خود مطلب یہ لیے لیا جاتا ہے کہ ہو نہ ہو، ناقد کو دشمن نے پیسے لگائے ہیں ورنہ تنقید کا کوئی اور جواز ممکن نہیں ۔ اگر یہ درست بھی ہو تو آپ جیسے مستحکم، مضبوط ادارے کو صرف باتوں سے کیا خطرہ ہو سکتا ہے؟ ماشاللہ آپ کا اپنا میڈیا سیل ہے، ان کے پراپگنڈہ کا جواب دیں اور ان کے دشمن کا ایجنٹ ہونے کا ثبوت لوگوں کو دکھائیں۔ لیکن آپ تو خفا ہو کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اور آپ کی خفگی دیکھ کر آپ سے محبت کرنے والے سوشل میڈیا پر مخالفین کو سینگوں پر اٹھا لیتے ہیں۔

کچھ عرصہ قبل تک میڈیا میں حساس ادارے کو پیار سے اسٹیبلشمنٹ کہا جاتا تھا۔ جب سے یہ پختون تحفظ موومنٹ کا غلغلہ بلند ہوا ہے تب سے میڈیا نے اسٹیبلشمنٹ کی جگہ لفظ ریاست استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ اگر پی ٹی ایم کے لوگ فوج پر تنقید کریں تو کہا جاتا ہے کہ ریاست پر تنقید ہو رہی ہے، جو کہ بذات خود کوئی ناقابل اجازت چیز نہیں ہوا کرتی، یعنی اب بات حساس ادارے سے آگے جا کر حساس ریاست میں تبدیل ہو چکی ہے۔ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ پی ٹی ایم کے لوگ توہین آمیز کلمات ادا کرتے ہیں تو بھی کسی وجیہہ جرنیل کے پریس کانفرنس کر کے یہ کہنے کی کوئی وجہ نہیں کہ آپ لوگوں کا وقت ختم ہو گیا۔ اگر آپ ریاست ہیں تو دست بستہ گزارش ہے کہ ریاست مشتعل نہیں ہوا کرتی۔ اگر کسی قانون کی خلاف ورزی ہو تو ریاست قانون نافذ کرتی ہے۔ ناراض نہیں ہو جایا کرتی۔ اور اگر خدشہ یہ ہے کہ پی ٹی ایم کی قیادت آپ کے خلاف لوگوں کو اشتعال دلاتی ہے تو جناب والا آپ وہ ہیں جس سے لڑنے سے بھارت جیسا ملک ڈرتا ہے۔ آپ ایک عدد سپر پاور پاش پاش کر چکے۔ یہ لوگ مشتعل ہو بھی جائیں تو کیا فرق پڑتا ہے۔ آپ کی خفگی سے لیکن بہت فرق پڑتا ہے۔ جب آپ خفا ہوتے ہیں تو آپ کے ففتھ جنریشن جنگی مجاہدین غصے میں دیواروں کو ٹکریں مارنے لگتے ہیں۔

ویسے سیاستدانوں کا آپ سے موازنہ تو جائز نہیں لیکن تحمل اور برداشت سیاستدانوں سے سیکھی جا سکتی ہے۔ رکیک سے رکیک حملہ چپکے سے برداشت کر جاتے ہیں۔ ڈنڈا لے کر بدزبانی کرنے والے کے گھر نہیں پہنچ جاتے۔ اگر ان کا یہ شیوہ ہوتا تو محبی شیخ رشید  سر کے دائمی زخم میں مبتلا ہوتے۔

آخر ایک چھوٹی سی گزارش۔ خدارا یہ سوچ پیدا کر کے دیکھیے کہ ممکن ہے تنقید کرنے والا غیر ملکی ایجنٹ یا ملک دشمن نہ ہو بلکہ ملک سے مخلص ہو۔ آپ کو اپنا سمجھتے ہوئے آپ کے سامنے اپنا دکھڑا رکھ رہا ہو۔ شاید غلط ہی کہہ رہا ہو لیکن اخلاص سے کہہ رہا ہو۔ جس فراخ دلی سے آپ طالبان کے بھٹکے ہوئے بھائیوں کو معاف کر دیتے ہیں اسی فراخ دلی سے کبھی ان ناقدین کو بھی اپنا سمجھ کر دیکھیے جو آپ کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھاتے، صرف بات کرتے ہیں، اس ملک کی فلاح کے لئے جس کا دفاع آپ کی ذمہ داری ہے۔ یہ جو آپ نے اکیلے اپنے کندھوں پر تمام ملک کا بوجھ اٹھا رکھا ہے، اسے ہلکا کیجیے۔ وہ آپ سے لڑنا نہیں چاہتے بلکہ آپ کا ہاتھ بٹانا چاہتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •