کیا ہم ایک نسل پرست قوم ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”ابے کالے! تیری ماں آج کہاں بیٹھی ہوئی ہے، کیا پڑھوا کے آیا ہے آج“

یہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کے وہ جملے تھے جن کے باعث انہیں کچھ عرصہ قبل 4 میچز میں پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ جملے، بطور قوم ہمارے دانستہ یا نا دانستہ نسل پرستانہ رویے کی غمازی کرتے ہیں۔ یقین مانیے، پاکستانی بحیثیت قوم دنیا کی نسل پرست ترین قوم ہونے کا دعوی کر سکتی ہے۔ ہم میں سے اکثر یہ تلخ حقیقت ہضم نہیں کر سکیں گے، لیکن ذرا اپنے گریبانوں میں جھانکیے اور اپنے اطراف روزمرہ زندگی پر نظر دوڑائیے، آپ کو ہر جگہ نسل پرستانہ رویہ دکھے گا۔ در حقیقت پاکستانی معاشرہ مذہب، فرقہ، ذات، رنگ، نسل اور زبان کی بنیاد پر تقسیم ہے جس سے نسل پرستانہ تصورات کو شہ ملتی ہے۔

اس خطے میں نسل پرستی کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہی جتنی یہ زمین۔ ذات اور برادری کی بنیاد پر تفریق اور تعصب، ہمارے معاشرے کی بنیادوں میں ہے۔ آج بھی پنجاب اور سندھ کے دیہات میں ”کمیوں“ اور ”ہاریوں“ کے ساتھ امتیازی سلوک وہاں کے رہن سہن اور بود و باش کا معمول ہے۔ پنجاب میں خصوصا، اپنی ذات اور برادری پر تفاخر اور دوسری ذاتوں پر برتری کی بحث عام دکھائی دیتی ہے۔ یہاں کسی بھلے مانس سے آپ کی یاد اللہ ہوجائے، فورا ہی آپ کی ذات یا برادری کے بارے میں استفسار کیا جائے گا۔ اس معاملے میں اہالیان پنجاب تنہا نہیں، الحمدللہ ارض پاک کے ہر علاقے میں برادری ازم اپنے جوبن پر ہے۔ ملک کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں، ذات برادری اور قبیلے کے بنیاد پر ایک طبقاتی تفریق ہر جگہ نظر آئے گی۔

اب آتے ہیں لسانی تقسیم پر۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں لسانی بنیادوں پر بدترین نسل پرستی کی ترویج کی جاتی رہی ہے۔ قیام پاکستان سے سقوط ڈھاکہ تک، بحیثیت قوم ہم بنگالیوں سے نسلی تعصب اور نفرت کی ریاستی پالیسی پر عمل پیرا رہے۔ اسی وجہ سے بنگالی قوم میں احساس محرومی نے جنم لیا جو بعد میں ایک مکمل تحریک کی شکل اختیار کرگئی جس کے نتیجے میں ملک دولخت ہوا۔

مملکت خداداد میں لسانی نسل پرستی کا سب سے زیادہ شکار پشتون ہوتے ہیں۔ کوئی پشتون ہمارے بیچ آ جائے، گفتگو کا آغاز ہی ان کے اردو لب و لہجہ کا مذاق اڑا کر کیا جاتا ہے۔ اسی سے اندازہ لگائیے، کہ معاشرے میں رائج لطائف میں سے پشتونوں کے بارے میں لطیفے نکال لیے جائیں تو پیچھے کچھ نہیں بچتا۔ دور کیوں جاتے ہیں، پاکستانی میڈیا اور فلم انڈسٹری میں پشتونوں کی تصویر کشی پر غور کیجیے گا۔ پشتونوں کو ہمیشہ متشدد، با ریش، اسلحہ بردار، بیوقوف اور نسوار چباتے ہوئے دکھایا جائے گا۔ اس لسانی پرستی کے حمام میں سب ننگے ہیں۔ حقیر نے اپنے گنہگار کانوں سے بہترین سلجھے ہوئے اور اعلی تعلیم یافتہ لوگوں سے پشتونوں سے متعلق نسل پرستانہ گفتگو سنی ہے۔ بصد افسوس ہم نے سانحہ مشرقی پاکستان سے کچھ نہیں سیکھا، اور آج بھی اسی ڈگر پر گامزن ہیں جس کی انتہا صرف تباہی ہے۔

یہی حال پاکستان میں بسنے والے دیگر اقوام کا ہے۔ بلوچ، سندھی، مہاجر، سرائیکی، براہوی، کشمیری، گلگتی، بلتی سب ہی ان نسل پرستانہ رویوں سے نالاں نظر آتے ہیں۔ مگر تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں تو یہ نسل پرستی دو طرفہ ہے، ان تمام علاقوں میں پنجاب سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ ویسا ہی امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔

پاکستان میں نسل پرستی کی سب سے خطرناک رائج شکل مذہبی نسل پرستی ہے۔ اس نسل پرستی کا آغاز ہمارے نصاب تعلیم سے شروع ہوتا ہے۔ مرد مومن، جنرل ضیا الحق کے دور میں نصاب تعلیم کو ایک مکمل نسل پرستانہ جہت دی گئی۔ ان مومنانہ اصلاحات کے نتیجہ میں بھارت دشمنی ہندو دشمنی میں تبدیل کی گئی۔ ابتدائی جماعت کے معاشرتی علوم اور مطالعہ پاکستان کی کتابیں اٹھا کر پڑھیے۔ ہمارے ننھے معماران وطن کو عہد طفولیت سے ہی ہندوؤں سے نفرت کا سبق پڑھایا جاتا ہے۔ تضحیک آمیز الفاظ میں ہندوؤں کا ذکر کر کے ہم اپنے بچوں کے اذہان میں شروع سے ہی نسل پرستی کے بیج بوتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں فیاض الحسن چوہان جیسے لوگوں کو اہم عہدوں پر دیکھ کر ہمیں کوئی حیرت نہیں ہونی چاہیے۔

مسیحیوں سے روا رکھے جانے والا سلوک اس سے بھی بدتر ہے۔ انہیں سرعام ”چوڑا“ کہا جاتا ہے۔ قومی اخبارات میں شائع ہونے والے سرکاری اشتہارات اس مسئلے کی واضح عکاسی کرتے ہیں۔ ان اشتہارات میں خاکروب اور بھنگی کی اسامیاں اس مظلوم طبقہ کے لئے ہی مختص ہیں۔ ہمارے معاشرے میں غیر مسلموں کو ایک طرح سے اچھوت سمجھا جاتا ہے، ان کے برتن ہمیشہ الگ رکھے جاتے ہیں۔ مبادا کہیں ان کا ہاتھ لگ جائے، ہمارا دھرم بھرشٹ ہو جاتا ہے۔

غیر مسلم تو چھوڑیے، یہاں اکثریتی مسلمان فرقے کہ علاوہ اسلام کے کسی اور فرقے سے آپ کا تعلق ہو، آپ کو جا بجا امتیازی رویے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ملک کے کئی حصوں میں ایک خاص فرقے کے پیروکاروں کو ”کھٹمل“ اور دیگر شنیع القابات سے پکارا جاتا ہے اور ان سے عجیب و غریب کہانیاں منسوب کی جاتی ہیں۔

مختصر یہ کہ پاکستانی معاشرہ ہر سطح پر نسل پرستی کی لعنت میں جکڑا ہوا ہے۔ آپ لاکھ انکار کریں، بحیثیت قوم نسل پرستی ہماری گھٹی میں ہے۔ اس لیے مغربی ملکوں کی نسل پرستی پر انگلی اٹھانے سے قبل، اپنے چاک گریباں کو تھامیے اور اپنے معاشرے میں موجود تہ در تہ نسل پرستی کا قلع قمع کیجیے۔ تب ہی آپ دوسروں پر نکتہ چینی کا حق پا سکیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •