علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے جائیں
گزشتہ روز وزیرستان کے علاقہ خارکمر میں پیش آنے والے واقعے کے نتیجے میں شہریوں کی اموات اور زخمی ہونے کے ساتھ ساتھ پشتون تحفظ مومنٹ کے سربراہ اور حلقہ این اے 50 سے منتخب قومی اسمبلی رکن علی وزیر کی سپیکر سے بنا اجازت لئے گرفتاری پر اربابِ وطن کو انتہائی تشویش لاحق ہے۔ اسی ضمن میں گزشتہ روز پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے بھی ایوان میں اس مسئلے کو اٹھاتے ہوئے 2007 رولز آف بیزنس کا رول نمبر 103 پڑھا جس کا مطلب کسی بھی رکن قومی اسمبلی کی گرفتاری سے قبل سپیکر کو آگاہ کرنا یا اجازت لینا لازمی ہے جبکہ ساتھ ساتھ رول نمبر 105 کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس رول کے مطابق پھر سپیکر صاحب اس معاملے کے متعلق دیگر اراکین کو آگاہ کریں گے۔
نوید قمر نے کہا کہ اراکین قومی اسمبلی کو اس گرفتاری کا علم بجائے طے شدہ طریقہ کار، میڈیا کے ذریعے ہوا۔ گزشتہ روز پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیرستان واقعے پر اپنائے ہوئے بیانیے کو آگے بڑھاتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی سے ان کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے اور 31 مئی بروز جمعہ کو ہونے والے قومی اسمبلی سیشن مین اپنا موقف رکھنے کا مطالبہ کیا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے اس مطالبے کو 28 مئی کو ہونے والے قومی اسمبلی اجلاس کے دوران وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کے تقریر کے بعد کافی پزیرائی و اہمیت ملی۔
اس بنیاد پر، کہ اپنے تقریر میں انہوں نے پشتون تحفظ مومنٹ پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی۔ جس کے بعد سوشل میڈیا پر لوگوں کی ردعمل سے واضح ہوا کہ علی وزیر کے اسمبلی آنے کے لئے سپیکر قومی اسمبلی کو پروڈکشن آرڈر جاری کرنی چاہیے تاکہ وہ لگے الزامات کے اوپر اپنا موقف رکھ سکے۔ شہریار آفریدی نے اپنے تقریر میں نقیب اللہ دھرنے کی یاد دلاتے ہوئے کہا کہ کہ جب میں اور مراد سعید ان سے اظہارِ یک جہتی اسلام آباد پریس کلب گئے تو میں نے بیان دینے کے آخر میں کہا کہ یہ پاکستان کا مسئلہ ہے اور ہم نے پاکستان کے لئے ایک ہونا ہے، بقول شہریار آفریدی کہ اسی اثناء پشتون تحفظ مومنٹ والوں نے مجھے روکا کہ پاکستان کی بات نہ کریں۔
پھر انہوں نے طاہر داوڑ لاش وصولی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ این ڈی ایس والوں نے مجھے کہا کہ ہم طاہر داوڑ کی لاش منظور پشتین کے حوالے کریں گے اور وہاں محسن سے بات چیت کی گئی، بعد از پاکستان کے جھنڈے پاؤں کے نیچے رکھے گئے۔ جس پر میں نے مفاد وطن کی خاطر خاموشی اختیار کی اور ایک بڑا الزام شہریار آفریدی نے یہ لگایا کہ آئین پاکستان میں ریاستی اداروں کو چیلنج کرنا جرم ہے۔ جو یہ کرتے چلے آرہے ہیں۔ اصل میں شہریار آفریدی کا یہ بیان حکومت کے اتحادی رکن اختر مینگل کے بیان پر ایک قسم کا ردعمل تھا اور قوم کو پیغام دینا تھا کہ پشتون تحفظ مومنٹ ایک مجرموں کی تحریک ہے۔ حکومت کی نظر میں پشتون تحفظ مومنٹ ملک دشمن عناصر کی مددگار اور شرپسند جماعت ہے جس کا اقرار آج 29 مئی بروز بدھ پر ایک پریس کانفرنس کے دوران وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے یوتھ افیئرز عثمان ڈار نے کیا۔ انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کے پروڈکشن آرڈر والے مطالبے کو رد کر دیا اور کہا کہ بلاول بھٹو اب کھلم کھلا ریاستی مخالف عناصر کی حمایت کرنے اترے ہیں۔
انہوں نے بلاول بھٹو کے مطالبے کو شرمناک کہا اور کہا کہ بلاول بھٹو اپنے باپ کے پروڈکشن آرڈر جاری ہونے کی فکر کرے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلاول بھٹو کے غیر سنجیدہ مطالبات سے ریاست مخالف عناصر کو حوصلہ افزائی مل رہی ہے۔ یہ الگ الگ پیمانہ موقف ہے دونوں حکومتی رہنماؤں کا اور اپوزیشن کے رہنماؤں کا۔ عجیب العجیب امر یہ کہ پشتون تحفظ مومنٹ کے پر کی گئی فائرنگ کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ صرف اپوزیشن کی طرف سے ہے جب کہ حکومت محض بنا پوچھے اور موقف رکھنے، ان کو کٹہرے میں کھڑا کرنا اور سزا دینا چاہتی ہیں۔
اور چھبیس مئی کو یہی ہوا بھی کہ علی وزیر کو انسداد دہشت گردی عدالت نے 10 ریمانڈ پر روزہ سی ٹی ڈی کے حوالے کردیا۔ اور یہ وہی سی ٹی ڈی ڈیپارٹمنٹ ہے جس نے جنوری 2018 میں ساہیوال میں خلیل خاندان کی ماورائے قانون جان لی ہے جس پر پنجاب حکومت نے انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ چلانے کا حکم دیا تھا۔ جو تاحال وہیں کا وہیں ہے۔ مقدمہ چلا نہ خلیل خاندان کو انصاف ملا۔ لیکن بنا کسی ثبوت پر منتخب رکن قومی اسمبلی پر دہشتگردی کی دفعات چڑھاکر ریمانڈ کے حوالے کرنا، سیاسی تاریخ کے اوراق کے لئے انتہائی حیران کن ہے۔
اس لئے اس پورے معاملے کو مد نظر رکھتے ہوئے قبائلی عوام کا مطالبہ ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر صاحب اپنا استحقاق استعمال کرتے ہوئے علی وزیر کے لئے پروڈکشن آرڈر جاری کریں تاکہ قوم جانچ سکے کہ اصل ماجرا کیا ہے کیونکہ یک طرفہ موقف سیاسی، فکری اور قومی ظلم ہے۔


