سانحہ جلیانوالہ باغ کی دستاویزات کی نمائش


بارہ سو سے زائد لوگ زخمی ہوئے۔ لوگ بھٹی کے دانوں کی طرح بھن گئے۔ کانگرس کے رپوٹ کے مطابق سفاکی کے اس کھیل میں تقریباً 1000 سے زائد لوگ جان کی بازی ہار گئے 1500 سے زائد لوگ زخمی ہوئے۔ ڈائر نے ہنٹر کمیٹی کو جو بیان دیا اس میں وہ کہتا ہے کہ ”وہ ان کو سبق سکھانا چاہتا تھا۔ سزا دینا چاہتا تھا۔ وسیع اثرات پیدا کرنا چاہتا تھا۔ پنجاب بھر میں دہشت پھیلانا چاہتا تھا۔ باغیوں کا مورال گھٹانا چاہتا تھا۔ “ بہت سے لوگ ڈائر کے جانے کے بعد مرے یعنی جو زخمی تھے ڈائر نے ان کی طبی امداد کے لیے کوئی انتظام نہیں کیا اور لوگ دہشت کی وجہ سے مدد کو نہ آئے۔

ڈائر کا کہنا تھا کہ زخمی خود ہسپتال جا کر طبی امداد لے سکتے تھے وہ اسے ضروری نہیں سمجھتا تھا۔ پورے شہر پر موت کا پہرہ تھا، ہر طرف بے رحم خاموشی میں زخمیوں کی چیخیں تھیں۔ ڈائر کے بقول اس نے لوگوں کو اس لیے نہیں منتشر کیا کہ شاید وہ دوبارہ اکٹھے ہوجاتے اور وہ بیوقوف بن جاتا۔ اس سانحے میں ایک شخص نے ہمت دکھائی برطانوی فوجی افسر البرٹ میسی نے، جس نے نہتے انسانوں پر گولی چلانے سے انکار کردیا۔ اس حکم عدولی کی بنیاد پر فوج سے معزول کر دیا گیا۔ البرٹ میسی بعد میں لاہور آئے اور وہاں ان کی ملاقات نواب صادق محمد خان عباسی سے ہوئی اور یہ ریاست بہاول پور کی فوج میں شامل ہوگئے۔ البرٹ رمزے میسی بعد میں مسلمان ہوگئے اور عبدالرحمن موسی نام پایا۔

اس سانحے کے بعد ڈائر دلجمعی کے ساتھ اسی کام میں لگا رہا جو اس کی دانست میں اس کا فرض بنتا تھا۔ امرتسرکو پانی اور بجلی کی فراہمی منقطع کر دی گئی اور چھ افراد کو جنھوں نے کرفیو کی خلاف ورزی کی تھی سر عام کوڑے مارے گئے۔ تحقیقاتی کمیٹی بنائی گئی جس نے ڈائیر کو اس کی ذمہ داریوں سے علیحدہ کر دیا اور وہ ہندوستان چھوڑ کر انگلستان چلا گیا۔ برطانیہ میں چرچل نے اس کے کام کی مذمت کی جبکہ قدامت پسند حلقوں نے اس کی بہت پذیرائی کی اور فنڈ قائم کیا جس میں چھبیس ہزار پونڈز جمع ہوئے ان میں معروف ادیب کپلنگ بھی شامل تھے۔ اس کے بعد ڈائیر آٹھ سال تک زندہ رہا اور 1927 ء میں باسٹھ برس کی عمر میں فوت ہوا۔

جلیانوالہ باغ کے سانحے کے بعد مزاحمت رُکی نہیں بلکہ تیز ہوگئی اس واقع کے بعد برطانوی راج ہل گیا۔ رابندر ناتھ ٹیگور کو جب اس قتلِ عام کی اطلاع ملی تو انہوں نے بطور احتجاج ’سر‘ کا خطاب واپس کر دیا۔ 30 مئی 1919 ء کو وائسرائے لارڈ چیلمس فورڈ کو لکھے ہوئے خط میں ٹیگور نے لکھا ”میری خواہش ہے کہ میں تمام تر اعزازات کو چھوڑ کر اپنے ہم قوموں کے ساتھ کھڑا ہوں جو اپنی نام نہاد ناقدری کی وجہ سے تکلیفیں سہتے اور انسان کہلانے سے محروم ہیں۔ “

اس واقعے نے بھگت سنگھ کو جنم دیا۔ جس نے جلیانوالہ باغ میں لوگوں کے قتل بعد جا کر اس مٹی کو چومتے ہوئے قسم کھائی تھی کہ وہ اس کا بدلہ ضرور لے گا وہ مٹی جس میں ہندو مسلم سکھ سب کا خون تھا۔ منٹو نے بھی ادبی زندگی کا آغاز جلیانوالہ باغ کے موضوع پر افسانہ لکھ کر کیا۔ اس سانحے کا ردعمل اودھم سنگھ کی صورت میں نظر آیا جس نے سر مائیکل او ڈوائیر کو موت کے گھاٹ اتارا۔ مائیکل او ڈوائیر بھی سانحہ جلیانوالہ باغ کے اہم کرداروں میں سے ایک ہے۔

عام طور پر ڈائیر اور اوڈوائیر کو باہم خلط ملط کر دیا جاتا ہے۔ بعض لوگ انھیں ایک ہی شخصیت سمجھتے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہے۔ اوڈوائیر مئی 1913 ء سے مئی 1919 ء تک پنجاب کا گورنر تھا۔ ڈائیر کو گورنر او ڈوائیر کی حمایت حاصل تھی۔ گورنر او ڈوائیر نے پنجاب میں دیہاتی اور شہری تقسیم کا نظریہ بھی متعارف کرایا تھا۔ اودھم سنگھ نے جلیانوالہ باغ کا بدلہ لینے کی قسم لی اور لمبے انتظار کے بعد 13 مارچ 1940 ء کو اودھم سنگھ نے سر مائیکل او ڈائر پر 5 سے 6 فائر کیے اور سر مائیکل او ڈائر کی جان لے لی۔ اودھم سنگھ نے بھاگنے کی بجائے گرفتاری دی اور کہا جاتا ہے کہ ٹرائل کے دوران جج نے جب اودھم سنگھ سے نام پوچھا تو وہ بولا کہ اس کا نام رام محمد سنگھ ہے۔ جب مذہب ہوچھا گیا تو اس نے کہا ہندوستان اور جب کہا گیا کہ پھر حلف کس پر اٹھائے گا؟ تو اس نے کہا ہیر وارث شاہ پر۔

سانحہ جلیانوالہ باغ کے حوالے سے پنجاب آرکائیوز نے ٹولنٹن مارکیٹ لاہور میں ایک نمائش منعقد کی۔ جس میں پہلی مرتبہ دستاویزات کو پبلک کیا گیا۔ تقریب تاخیر سے شروع ہوئی مگر دستاویزات کو اچھے طریقے سے لگایا گیا تھا اور زبردست بات یہ تھی کہ ہر کسی کو شرکت کی اجازت تھی عمر کی بھی کوئی قید نہیں تھی۔ نمائش کے افتاح سے قبل ایک سیمینار تھا جس میں مختلف لوگوں نے اظہار خیال کیا مگر میں ہال میں بیٹھا کچھ اور سوچ رہا تھا کہ قوموں کی حیات میں سانحہ ہوتا تو وہ اس سے کچھ سیکھتے ہیں مگر ہم نے کیا سیکھا۔

سانحے سے قبل ہندو مسلم اتحاد تھا مگر ہم تو اس کے بعد الگ ہوگئے۔ جلیانوالہ باغ کے سانحے کے بعد ڈائیر کی خدمت میں پنجاب کے پیروں اور گدی نشینوں نے سپاسنامہ پیش کیا جس میں اس کی خدمات کو سراہا گیا تھا، اسی طرح سکھوں نے اسے دربار صاحب امرتسر میں بلایا اور سکھ مت قبول کرنے کی دعوت دی اور ”سروپ“ کا خطاب دینے کا کہا گیا۔ جلیانوالہ باغ سے لے کر سانحہ ساہیوال تک بدلا کیا ہے۔ جلیانوالہ باغ میں انگریزی حکومت نے کئی بے گناہوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کے بعد، لواحقین کو پیسے دے کر خاموش کروا دیا۔

لوگوں کو آمدن کے حساب سے پیسے دیے گئے، یہ پیسے چند روپے سے لے کر لاکھ روپے تک تھے۔ مرنے والوں میں امرتسر کے ایک بڑے بزنس مین کے خاندان کو سب سے زیادہ دو لاکھ روپے دیے گئے۔ تاجِ برطانیہ سے مملکت خداداد پاکستان تک ہمیشہ حکومت کی جانب سے مارے جانے والے افراد کے لواحقین کو انصاف کی بجائے رقم دے کر چُپ کروا دیا گیا۔ بلکہ اب تو فقط تسلی ہی دی جاتی ہے۔

آج ہم جوش میں برطانیہ سے جلیانوالہ باغ پر معافی کا مطالبہ تو کرتے ہیں لیکن ہم کیسے بے ضمیر ہیں، کیا ہم نے کبھی سانحہ بابڑہ یا کبھی جھوٹے منھ سے ہی سہی بنگالیوں کے قتل عام اور عورتوں کی عصمت دری کی معافی مانگی۔ کبھی ہم بلوچوں سندھیوں اور پختونوں سے بھی اپنی غلطیوں کی معافی مانگ لیں۔ مگر نہیں ہم انا میں ڈوبے ہیں۔ ہم آگے بڑھنا ہی نہیں چاہتے، جب تک ہم متحد نہ ہوں گے تب تک ہم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔

مگر ماضی سے سیکھنا تو ہمارے دستور میں ہے ہی نہیں۔ تقریب میں بھی بہت سی چیزوں کا ذکر ہوا جناح صاحب کے استعفی کو بھی ہر مقرر نے بیان کیا لیکن مجال ہے کسی نے اس وقت کے ہمارے اتحاد کو یا ڈاکٹر سیف الدین یا ڈاکٹر ستیہ پال یا اودھم سنگھ کا نام لیا ہو۔ کاش کہ ہمیں تحریک خلافت پر باب پڑھانے والے سانحہ جلیانوالہ باغ کو بھی چند سطروں میں نپٹانے کی بجائے اس کو بھی تفصیل سے پڑھائیں۔ مگر ناجانے اس زندگی میں، نصاب میں گنگارام یا اودھم سنگھ کا تذکرہ دیکھنا نصیب ہوگا بھی یا نہیں۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2