سولہ سال کی عمر میں سیکس سیمبل بن جانے کی بھاری قیمت چکانا پڑی: لیسا رے  


 

فلم قصور سے شہرت پانے والی اداکارہ لیسا رے صرف ایک بالی ووڈ اداکارہ ہی نہیں، بلکہ کینسر جیسے بیماری سے کامیاب مقابلہ  کرنے کے لئے بھی جانی جاتی ہیں

فلم قصور کے ساتھ ہی اداکارہ لیسا رے کا ایک بولڈ امیج بن گیا تھا۔ بھارتی نژاد اداکارہ نے کینیڈا میں پرورش پائی۔ انہیں نصرت فتح علی خان کے گیت آفرین آفرین سے شہرت ملی تھی ۔ اس کے بعد لیسا کو قصور فلم میں لیڈ رول ملا، لیکن پہلی ہی فلم سے ان کی ایک شبیہ بن گئی۔ یا تو انہیں غیر ملکی لڑکی کا کردار ملتا تھا یا پھر ان سے فلم میں سیکس سیمبل بننے کے لئے کہا جاتا تھا۔

اداکارہ لیسا رے  نے اپنی آپ بیتی کلوز ٹو دی بونس (Close to the Bone) میں اس بات کا انکشاف کیا ہے ۔

لیسا  رے کے مطابق انہیں کسی خاص چھاپ کے ساتھ اداکاری کرنا پسند نہیں تھا لیکن وہ 16 سال کی عمر میں ہی ایک سیکس سیمبل بن چکی تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ میں اس کے لئے تیار نہیں تھی ۔

اپنی کتاب کے رسم اجرا کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے لیسا رے نے کہا کہ آپ راتوں رات ایک ملک کے لوگوں کی فینٹسی بن جاتے ہیں اور اس کے لئے آپ کو اپنی عمر سے بڑا دکھائی دینا پڑتا ہے، مجھے اس سے نفرت تھی۔

اپنی آپ بیتی لکھنے والی لیسا نے کہا کہ اس کتاب میں صرف میری کینسر سے جنگ اور اس سے باہر نکلنے کا احوال نہیں بلکہ مشہور ہونے سے پہلے کی میری زندگی کے بارے میں بھی کئی سچ لکھے ہیں۔

Facebook Comments HS