تمہارا گھر میرا ہوا: پاکستان کے غریبوں کے لئے امیروں کا فرمان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں ان دنوں جائیدادوں کی خرید و فروخت کا کاروبار عروج پر ہے۔ اس دھندے کی صورت کچھ یہ ہے کہ ڈویلپرز زمین کا ایک بڑا سا ٹکڑا خریدتے ہیں، چرا لیتے ہیں یا پھر زبردستی ہتھیا لیتے ہیں۔ میگا ڈوپلپمنٹ پراجیکٹ کی ایڈورٹائزنگ کی جاتی ہے اور پھر ریگولیٹرز کو فروخت کر کے زمین کی قیمت بڑھائی جاتی ہے۔ یہاں پر نسل در نسل زندگی گزارنے والے غریب لوگوں کو اچانک گھر خالی کرنے کا نوٹس ملتا ہے اور پھر راتوں رات ان کے گھروں پر بلڈوزر پھیر دیا جاتا ہے۔

کراچی میں میرے گھر کی ایک طرف مارکیٹ ہے۔ یہ ایک پاکستانی مارکیٹ ہے جس میں کار مکینکس، نائی، دودھ اور ڈبل روٹی بیچنے والے اور پارچہ جات فروخت کرنے والے اپنا رزق کماتے ہیں۔ پچھلے چند سال میں ان میں سے بہت سی دکانیں رئیل اسٹیٹ ایجنسی میں بدل چکی ہیں۔ ایک دن میں نے گننا شروع کیا تو 153 پر پہنچ کر میری ہمت جواب دے گئی۔ جو پراپرٹی ایجنٹس آفس افورڈ نہیں کر سکتے وہ راستے پر ہی کرسی لگا کر دھندا شروع کر دیتے ہیں۔

میرے گھر کی دوسری طرف تقریبا 600 گز کے فاصلے پر بحیرہ عرب موجود ہے۔ پچھلے ایک دو سال میں ملٹری قیادت کے تحت قائم ہونے والی ایک ہاوسنگ سوسائٹی کے لیے سمندر کا کچھ علاقہ واپس حاصل کر لیا گیا ہے۔ جہاں کبھی سمندر کی موجیں تھیں وہاں اب آپ سوپر ہاٹ 300 مربع گز کا پلاٹ بیس کروڑ روپے میں خرید سکتے ہیں۔ یہ ڈیفنس ہاوسنگ سکیم فیز 8 ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کی توسیع ہے۔ اگرچہ فیز 8 کا بڑا حصہ ابھی بے آباد ہے لیکن پھر بھی منصوبے کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔ ان پلاٹوں کو خریدنے والے لوگ یہاں مکان بنانے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ وہ تب تک ان پلاٹس کو اپنے پاس رکھتے ہیں جب تک وہ انہیں بیچ کر کہیں اور دو پلاٹ خریدنے کا موقع نہ مل جائے۔ میں فیز 5 میں رہتا ہوں۔ اس میں بھی بہت سے پلاٹس ابھی خالی ہیں۔

جو پاکستانی اپنے سر پر چھت قائم رکھنے کے خواب دیکھتے ہیں ان کے ساتھ عدالتوں کا رویہ مخاصمانہ ہے۔ گزشتہ اکتوبر میں پاکستان کوارٹرز میں موجود لوگوں کو اپنے گھر چھوڑنے کے لیے صرف 10 دن کا وقت دیا گیا۔ یہ کراچی کی 70 سالہ پرانی ایک رہائشی ڈویلپمنٹ سوسائٹی ہے۔ مظاہرین کے پولیس کے ساتھ جھڑپ کے واقعہ کے بعد ڈیڈ لائن میں توسیع دے دی تھی۔ اب یہ معاملہ ابھی تک عدالت میں ہے۔ تجاوزات کے خلاف ایک مہم کے دوران رواں ہفتے بلڈوزرز نے غریب آباد کا رخ کیا اور 50 کے قریب گھر زمین بوس کر دیے۔ گزشتہ برس نومبر میں ایمپریس مارکیٹ کو جو شہر کی سب سے پرانی مارکیٹ تھی، راتوں رات گرا دیا گیا۔ کراچی میں بہت سے کمرشل ایریا، جہاں غریب لوگ تجارت کر کے رزق کماتے ہیں، غیر قانونی قرار پا چکے ہیں۔

پچھلے سال رئیل اسٹیٹ ڈیلرز، بلڈرز اور دوسرے لوگوں نے سڑکوں پر آ کر سپریم کورٹ کے فیصلوں کے خلاف احتجاج کیا جہاں ایک میگا ہاوسنگ پراجیکٹ کو معطل کر دیا گیا تھا۔ اس کی وجہ زمین مالکان پر الزام تھا کہ انہوں نے غلط طریقے سے یہ زمینیں حاصل کی تھیں۔ اپریل میں عدالت نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا لیکن اس کے لیے بلڈرز کو ایک بڑی رقم دینے کا کہا گیا جس میں پہلے تو 200 ارب، پھر 435 ارب روپے اور آخر میں 460 روپے کی ادائیگی پر اتفاق ہو گیا۔ جواب میں کرپشن کے الزامات اور ہر قسم کی قانونی کارروائی روک لی جائے گی۔ البتہ عدالت نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ وہ اس رقم کے ساتھ کیا کرے گی۔ دوسری طرف صوبائی حکومتوں نے اس رقم پر دعوی کر دیا ہے۔

پاکستانی عدالتیں غیر قانونی طور پر بنگلے اور لگژری اپارٹمنٹس بنانے والوں کے ساتھ بہت مہربان ہیں۔ ابھی پچھلےماہ اسلام آباد میں کئی ہزار لوگوں کو ای 12 سے بے دخل کر دیا گیا جو کہ پوش عمارتوں کے سائے میں اپنی مدد آپ کے تحت قائم کی گئی کچی بستی تھی جہاں بہت سے لوگ کئی دہائیوں سے رہ رہے تھے۔ اس سے بھی چند ماہ قبل ملک کی سب سے بڑی عدالت نے ون کنسٹیٹیوشن ایوینیو اسلام آباد میں قائم گرینڈ حیات ہوٹل کو ریگولرائز کر دیا۔ یہ ایک ایسا پراجیکٹ ہے جس کی قانونی حیثیت کو شہر کی اپنی ڈویلپمنٹ اتھارٹی ایجنسی نے چیلنج کر رکھا ہے۔ پرائم منسٹر عمران خان نے اس بلڈنگ میں ایک اپارٹمنٹ خرید رکھا ہے۔ پراپرٹی میں جھرلو اور فراڈ بالائی طبقوں سے شروع ہو تا ہے لیکن کوئی انہیں فراڈ نہیں کہتا کیونکہ یہ معاملات تمام سیاسی پارٹیوں، افسر شاہی اور ملٹری حکام کے بیچ تقسیم ہوتے ہیں۔

سابقہ وزیر اعظم کو مے فئیر لندن میں اپنے چار فلیٹس کی منی ٹریل نہ دے سکنے پر کرپشن کے الزام میں عدالت کی طرف سے مجرم قرار دیا گیا۔ سابق صدر آصف زرداری اور ان کے ساتھیوں نے فرانس، برطانیہ، امریکہ اور دبئی میں غیر قانونی بینک اکاونٹس سے پراپرٹی خریدی۔ موجودہ وزیراعظم کے قریب ترین ساتھی اور سینئر وزیر علیم خان کو ملٹی بلین ہاوسنگ ڈویلپمنٹ میں کرپشن کے الزامات پر تفتیش کے عمل سے گزرنا پڑ رہا ہے۔

پاکستان میں پراپرٹی کے شعبہ میں پاکستانی فوج سب سے آگے ہے جس نے اب تک تمام بڑے شہروں میں بڑی بڑی ہاوسنگ سوسائٹیاں بنا رکھی ہیں۔ اگرچہ  یہ ریٹائرڈ افسران اور ان کے رشتہ داروں (نہ کہ صرف فوجیوں) کے لیے قائم کی گئی تھیں لیکن پلاٹس سب سے زیادہ بولی لگانے والوں کو دے دیے جاتے ہیں۔ یہ بہت اچھا کاروبار ہے۔ لوگوں کو معلوم ہے کہ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں لیکن آرمی یہیں رہے گی اس لیے اس کی ہاوسنگ سوسائیٹیاں بھی قائم و دائم رہیں گی۔

لیکن یہ بھی کوئی محفوظ انویسٹمنٹ نہیں رہتی۔ فوج کے زیر سرپرستی معذور یا شہید فوجیوں کے ورثا کے لیے لاہور میں ایک سوسائٹی قائم کی گئی تھی۔ لوگوں نے اس اسکیم میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی لیکن معلوم ہوا کہ اس رقم میں سے 13 ارب روپے خرد برد کر لیے گئے۔ ملزموں میں سے ایک سابق آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی کا بھائی بھی شامل ہے۔ حال ہی میں ایک مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے ایک جج نے آرمی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ایسا لگتا ہے تم لوگ بیوائیوں اور یتیموں کو ڈھال بنا کر اپنا کاروبار چلاتے ہو اور ان کے نام سے رائلٹی لے کر اپنی جیبوں میں ڈال لیتے ہو۔

سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف ریٹائر ہوئے تو انہیں 88 ایکڑ زمین دی گئی جو قوم کا ان کی خدمات کے لیے تحفہ تھا۔ یہ اصلاً زرعی زمین تھی لیکن راحیل شریف سعودی عرب میں ایک ایسی خفیہ فوج کی کمان سنبھالے ہوئے ہیں جس کا مقصد دنیا کو دہشت گردی سے آزاد کروانا ہے۔ ملک سے باہر ہونے کی بنا پر راحیل شریف اس زمین پر کھیتی باڑی نہیں کر سکتے۔

پاکستان میں زمین ہتھیانے کا عمل پاکستان بنتے وقت سے ہی چل رہا ہے۔ بہت سے لوگوں نے تقسیم ہند کے وقت دوسرے لوگوں کی زمینیں ہتھیا کر یا اپنی جائیداد چھوڑ کر بھارت چلے جانے والے لوگوں کی جائیدادوں پر دعویٰ کر کے بہت دولت کمائی۔ آپ آج بھی پورے کے پورے گاوں ان بیوروکریٹس کے نام سے منسوب دیکھ سکتے ہیں جنہوں نے یہ زمینیں خود ہی اپنے آپ کو الاٹ کر دی تھیں۔ اس زمین کا زیادہ تر حصہ ایگریکلچرل ڈویلپمنٹ کے نام سے ہتھیایا گیا۔ اب یہ زمینیں بند دروازوں والے رہائشی علاقوں یا گولف کورس میں تبدیل کر دی گئی ہیں۔

وزیر اعظم منتخب ہونے سے قبل عمران خان نے عوام کے لیے 50 لاکھ گھر بنانے کا وعدہ کیا تھا۔ اس وعدے پر عمل کے لیے ایک افتتاحی تقریب اسی ماہ منعقد ہوئی ہے۔

عمران خان نے اسلام آباد کی ایک پہاڑی پر 40 ایکڑ زمین خرید رکھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے لندن میں اپنی جائیداد بیچ کر یہ زمین خریدی ہے۔ ان کے بقول انہوں نے کرکٹ کھیل کر حاصل ہونے والی آمدنی سے لندن میں جائیداد بنائی تھی۔ بنی گالا میں 40 ایکڑ زمین پر گھر بنانے کے لیے انہیں متعدد قوانین کی خلاف ورزی کرنا پڑی۔ گزشتہ برس عمران کان کے وزیر اعظم بننے کے بعد ایک سپیشل فیڈرل کمیشن قائم کیا گیا جس کا واحد مقصد عمران کی اس جائیداد کو ریگولرائز کرنا تھا۔

واضح رہے کہ ای 12 کی بستی غریب آباد کے رہائشیوں کے لئے ابھی تک کوئی کمیشن قائم نہیں کیا جا سکا۔ غریب آباد کے یہ رہائشی عنقریب بے گھر ہو جائیں گے۔

بشکریہ: دی نیویارک ٹائمز

https://www.nytimes.com/2019/05/28/opinion/pakistan-property-land-boom.html

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •