کیا بچپن میں آپ کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی تھی؟
پچھلے دو سالوں میں نجانے کتنے ادبی دوست مجھے سے پوچھ چکے ہیں کہ آپ ادبی و تخلیقی زبان میں لکھنے کی بجائے نہایت سادہ زبان میں کیوں لکھتے ہیں۔ میں ان سے کہتا ہوں کہ ’ہم سب‘ پر جو میں کالم لکھتا ہوں ان میں میری پوری کوشش ہوتی ہے کہ نفسیات کے پیچیدہ اور گنجلک مسائل اور نظریات کو عام فہم زبان میں بیان کروں تا کہ نہ صرف ان کا ایک بڑے پیمانے پر ابلاغ ہو بلکہ ان سے زیادہ سے زیادہ لوگ استفادہ کر سکیں اور اپنے دکھوں کو سکھوں میں بدل سکیں۔
میرا مقصد عوام کے شعور کو بڑھانا ہے۔ جوں جوں کسی معاشرے کے عوام کا social consciousness بڑھتا ہے اور وہ اپنے نفسیاتی ’سماجی اور سیاسی مسائل پر کھل کر گفتگو کر سکتے ہیں وہ نہ صرف ایک صحتمند زندگی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ انفرادی اور اجتماعی طور پر دانشمندانہ فیصلے بھی کرتے ہیں۔ میں اس عمل کو معاشرے کے ادیبوں‘ شاعروں ’جرنلسٹوں اور دانشوروں کی سماجی ذمہ داری سمجھتا ہوں۔
کسی بھی معاشرے میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی ایک نہایت ہی تکلیف دہ اور پیچیدہ مسئلہ ہے کیونکہ اس کے اثرات نہ صرف اس شخص کی شخصیت اور مستقبل پر بلکہ اس خاندان اور معاشرے کو بھی متاثر کرتے ہیں جن میں وہ شخص زندگی گزارتا ہے۔
وہ مرد اور عورتیں جو بچپن میں جنسی استحصال کا شکار ہوتے ہیں جب وہ برسوں بعد اپنی کہانی رقم کرنا چاہتے ہیں تو انہیں انجانا خوف ہوتا ہے کہ ان کے دوستوں رشتہ داروں اور اجنبیوں کا ردِ عمل کیا ہوگا؟ اسی خوف سے نجانے کتنے لوگ وہ راز اپنے ساتھ لے کر قبر میں چلے جاتے ہیں اور بعض اپنا اصلی نام نہیں لکھ پاتے۔ مردوں کے لیے اپنے ماضی کی جنسی زیادتی رقم کرنے کے لیے انہیں اپنی انا ’خودداری اور macho image کی دیواریں بھی پھلانگنی پڑتی ہیں۔
میں بہت سے ایسے victims of abuse سے مل چکا ہوں جنہیں یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ اپنا سچ لکھنے یا بتانے کے بعد کہیں وہ دوبارہ revictimize نہ ہو جائیں۔ اس کیفیت کا عکس آپ کو خاور کے دوسرے خط میں نظر آئے گا جو انہوں نے پہلے خط کے ردِ عمل کے ردِعمل میں لکھا ہے۔ میں وہ خط آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ پہلا خط پڑھنے کے لیے آپ میرا پہلا کالم۔ کیا آپ جنسی مسائل کا شکار ہیں؟ پڑھ سکتے ہیں۔
خاور کا دوسرا خط
ڈاکٹر صاحب آپ نے میرا خط میری درخواست پر فرضی نام سے چھپوایا جسے ُہم سب ٗ جیسے مستند فورم پر دیکھ کر بے حد اچھا لگا۔ کمنٹس سیکشن پر صارفین کے حوصلہ افزا تاثرات پڑھے تو اتنی خوشی ہوئی کہ بس۔ میں یہ بتاتا چلوں کہ میں اپنے علاقے کے اک مقامی ایف ایم ریڈیو سے قریباً پانج سالوں سے منسلک ہوں۔ مجھے سینکڑوں دفعہ آن آئیر آنے کا موقع ملا۔ سننے والے فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سراہتے رہتے ہیں لیکن جو سکون اور اطمینان مجھے اپنی حقیقی کتھا بیان کرنے کے بعد ہم سب کے قارئین کی دل جوئی سے ملا (چاہے اس کے لیے میں فرضی نام خاور ارشاد استعمال کیا) اس کیفیت کا کوئی جواب نہیں کمنٹس سیکشن میں اک صارف محترم اعجاز الحق اعجاز نے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا کہ شاید یہ محترم خالد سہیل کی ذہنی اختراع لگتی ہے، خاورارشاد نام ہی فرضی نہیں بلکہ جوکچھ لکھاگیا وہ بھی بظاہر فرضی لگتا ہے۔
سچ بتاؤں تو جس درد بھرے رازوں کو میں تقریباً بیس سالوں سے سینے میں چھپائے پھر رہا ہوں اس کو دنیا کے سامنے اُگلنے کی، مجھ سے زیادہ خواہش کسی اورکی ہو نہیں سکتی۔ مجھے اب یوں لگتا ہے کہ فرضی نام کا سہارا میں نے اس لیے بھی لیا تھا کہ مجھے جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد اک لڑکے نے حقارت بھرے لہجے میں کہا تھا کہ اگر تم نے کسی کو بتایا کہ یہ سب تمہارے ساتھ ہوا ہے تو میرا کچھ نہیں بگڑے گا بلکہ ہر کوئی تمہارا مذاق اُڑائے گا۔
(ایسا میں نے ہوتے دیکھا بھی ہے، مفعول کو اپنے ساتھ ہونی والی زیادتی کو بتانے پر فاعل کا لونڈا کہہ کہ تنگ کیا جاتا ہے اور فقرے کسے جاتے ہیں اور اس کا جینا اجیرن بنا دیا جاتا ہے ) ۔ معزز صارف اعجاز صاحب نے ’حکایت‘ نامی رسالے کا بھی ذکر کیا کہ اس رسالے میں اس نوع کی کہانیاں چھپتی رہتی ہے شاید یہ خط بھی کسی ایسی کہانی سے ماخوذ کیا گیا ہوگا۔ پنجابی کے مصرعے ہیں کہ
جس تن لاگے سو تن جانے اور نہ جانیں لوگ
من کی پیڑا جانے جس کے جی کو لاگا روگ
میں چاہتا ہوں کہ میں اپنا نام ظاہر کروں اور چیخ چیخ کے آسمان سر پر اٹھا لوں اور اظہار کروں کہ میں تواتر کے ساتھ جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا رہا تھا لیکن پھر مجھے اپنے آخری عمر کو جاتے والدین کی سفید بال اورخمیدہ کمر کا خیال آتا ہے کہ کیا وہ اس عمر میں اس دکھ کو برداشت کر پائیں گے کہ ہمارے قابل اعتماد لوگ ہمارے اکلوتے بیٹے کو جنسی ہوس کا نشانہ بناتے رہے اور ہم بے خبر رہے۔ مجھے اپنی پانچ بہنوں کا خیال آتا ہے جن کے لیے میرا وجود اک تناور درخت کی طرح ہے جس کے سائے میں وہ تھوڑی دیر سستا سکتی ہیں۔
اُن پر کیا گزرے گی جب ان پر منکشف ہوگا کہ درخت کی جڑیں مضبوط نہیں اس پر تکیہ نہیں کیا جا سکتا۔ میں اس روحِ زمین پر بسنے والے ہر جاندار کو اپنی کتھا سنانا چاہتا ہوں میں پھوٹ پھوٹ کر رونا چاہتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ میں اکیلا نہیں میری طرح کی جانے کتنے ہیں، کہ ُ جنہیں مجبوریِ حالات نے رونے نہ دیا ٗ۔
لیکن ابھی میرے اندر یہ حوصلہ پیدا نہیں ہوا کہ میں اپنا غم دنیا پر ظاہر کردینے کے بعد ان ممکنہ سوالوں کا سامنا کر پاؤں۔ کہ
آپ سے زیادتی بیس سال پہلے ہوئی اب سب بتانے کا مقصد کیا ہے؟
آپ تو واجبی سی شکل کے ہیں، حیرت ہے کہ آپ سے جنسی زیادتی کون کرسکتا ہے؟
آپ کو یہ سب دنیا کو بتاتے شرم نہیں آتی کیا؟
ہمارے معاشرے میں ایسا کچھ نہیں ہوتا، کہیں آپ کا دماغ تو نہیں چل گیا؟
آپ کو جنسی زیادتی کروانے میں اچھا تو لگتا ہوگا؟
میں اپنا علاج شروع کروانے سے پہلے فیض صاحب کے مصرعے اکثر پڑھا کرتا تھا۔
؎ میرا درد نغمہ بے صدا میری ذات زرہ بے نشاں
میرے درد کو جو زباں ملے مجھے اپنا نام و نشاں ملے
اور اب علاج کو کوئی سات مہینے ہونے کو آئیں ہیں تو کیفیت، عظیم شاعر مرزا غالب کی اِن مصرعوں کی سی ہے
؎ دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں
روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں
میں نہیں جانتا کہ دوبارہ اس فورم پر لکھنے کی جسارت کب کروں گا لیکن میرے لکھے گئے خط پر آپ سب کی حوصلہ افزائی کی وجہ سے مجھے اپنا مافی الضمیر بیان کرنے کا موقع ملا۔ تمام پڑ ہنے والو ں کا شکریہ مجھے یقین ہے کہ میں آنے والے وقت میں اعصابی طور اتنا مضبوط ہوجاؤں گا کہ، جنسی زیادتی اور دیگر موضوعات پر اپنے اصل نام کے ساتھ آپ سب سے ’ہم سب‘ پر ہم کلام ہو پاؤں گا۔ اے میرے اچھے اور برے وقت کی ہم رکاب، ُصائمہ ملک ٗیونہی تم میرا دماغ ٹھکانے پر لگائے رکھنا تاکہ تمہارا دوست خاور ارشاد اک دن ضرور تمہاری طرح، خوف فسادِخلق سے ماورا ہوجائے۔
سہیل صاحب یہاں تک کا سفر آپ کی پروفیشنل معاونت بغیر ممکن ہی نہیں تھا، آپ سدا خوش رہیں اور گنجلک مسائل کے شکار لوگوں کو گھپ اندھیرے سے نکال کر روشنیوں سے ان کا تعارف کرواتے رہیں۔ آخر میں انتہائی دکھ سے کہنا پڑ رہا ہے کہ دنیا میں ہر روز نجانے کتنے نو عمر بچے بچیاں جنسی زیادتی کا نشانہ بن جاتے ہیں اور اپنا بہت کچھ دنیا کی دوڑ میں شامل ہونے سے پہلے کھو دیتے ہیں کیا ہی اچھا ہو کہ ”ہم سب“ اپنی اپنی بساط کے مطابق ایسے بچوں کو سینے سے لگائے اور انہیں ان کے دلوں کے اندر کربناک یادوں کے قبرستان بنانے سے روک لیں۔ اور انہیں یہ باور کروائیں کہ وہ اکیلے نہیں ہیں۔
Alone, all alone Nobody, but nobody Can make it out here alone. (Maya Angelou
یہ بھی پڑھیئے
https://www.humsub.com.pk/243676/khalid-sohail-211/


