کرکٹ کا بارہواں عالمی میلہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انگلینڈ اور ویلز کے میدانوں پر دنیا کا بارہواں کرکٹ ورلڈ کپ جمعرات، 30 جون سے شروع ہو چکا۔ ہر چار برس بعد منعقد ہونے والا یہ ورلڈ کپ، گزشتہ بار 2015 ء میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں منعقد ہوا تھا۔ 1975 ء میں برطانیہ ہی سے ورلڈ کپ کے انعقاد کا شروع ہونے والا سفر، 44 برس بعد پھر برطانیہ پہنچا ہے۔ برطانیہ اس بار پانچویں مرتبہ ورلڈ کپ کی میزبانی کر رہا ہے۔ پہلے تینوں عالمی کرکٹ کپ تواتر کے ساتھ ( 1975 ء، 1979 ء اور 1983 ء میں ) برطانیہ کی زیرِمیزبانی منعقد ہوئے، جو صرف انگلینڈ ہی کے مختلف کرکٹ میدانوں میں کھیلے گئے، جبکہ اس کے بعد 1999 ء میں جب برطانیہ نے چوتھی بار ورلڈ کپ کی میزبانی کی، تو اس کے میچز صرف انگلینڈ ہی میں نہیں، بلکہ ’ویلز‘ (جو برطانیہ ہی کی ریاست ہے ) سمیت یورپ کے دیگر تین ممالک آئرلینڈ، نیدرلینڈز اور اسکاٹ لینڈ میں بھی کھیلے گئے۔

اس مرتبہ بھی 2019 ء کے اس ورلڈ کپ کے میچز برطانیہ نے انگلینڈ کے ساتھ ساتھ ’ویلز‘ میں بھی شیڈیول کیے ہیں۔ ورلڈ کپ کا یہ معرکہ کل 11 کرکٹ گراؤنڈز پر کھیلا جا رہا ہے، جن میں سے 10 گراؤنڈز انگلینڈ کے، جبکہ صرف ایک گراؤنڈ ’ویلز‘ کا ہے، جو ویلز کے شہر ’کارڈف‘ کا ’سوفیہ گارڈنز‘ ہے۔ جبکہ انگلینڈ کے 10 گراؤنڈز، جن پر یہ دنگل سج رہے ہیں، انگلینڈ کے 9 شہروں میں واقع ہیں۔ جن میں سے اس کے دارالحکومت، لندن کے دو تاریخی گراؤنڈز، ’لارڈز‘ اور ’کیننگٹن اوول‘ ، نوٹنگھم کا ’ٹرینٹ برج‘ ، برسٹول کا ’کاؤنٹی گراؤنڈ‘ ، ساؤتھیمپٹن کا ’دی روز بائُول‘ ، ٹانٹن شہر کا ’دی کوپر ایسوسی ایٹس کاؤنٹی گراؤنڈ‘ ، مانچسٹر کا ’ایمیریٹس اولڈ ٹریفورڈ‘ ، برمنگھم کا ’ایڈگبیسٹن‘ ، لیڈس کا ’ہیڈنگلے‘ اور چیسٹرلی اسٹریٹ میں واقع ’رِوَر سائیڈ گراؤنڈ‘ شامل ہیں۔ اس عالمی کپ کا پہلا میچ ’اوول‘ میں ہوا، جبکہ آخری میچ (فائنل) ’لارڈز‘ میں کھیلا جائے گا۔ ان تمام کرکٹ گراؤنڈز پر 30 جون تا 14 جولائی 2019 ء، 47 روز کے لئے سجائے گئے اس سنسنی خیز عالمی کرکٹ میلے میں کل 48 میچز کھیلے جائیں گے۔

اس سے پہلے کھیلے جانے والے کرکٹ کے 11 عالمی کپس میں سے آسٹریلیا سب سے زیادہ یعنی 5 مرتبہ ( 1987 ء، 1999 ء، 2003 ء، 2007 ء اور 2015 ء میں ) ورلڈ کپ کی چیمپین رہا ہے۔ ویسٹ انڈیز دو مرتبہ ( 1975 ء اور 1979 ء میں ) ، بھارت دو مرتبہ ( 1983 ء اور 2011 ء میں ) ، جبکہ پاکستان اور سری لنکا ایک ایک مرتبہ ورلڈ کپ جیت چکے ہیں۔ پاکستان نے 1992 ء میں اور سری لنکا نے 1996 ء میں ورلڈ کپ جیتا۔ یعنی کرکٹ کا یہ عالمی کپ اب تک صرف تین برِاعظموں، آسٹریلیا، جنوبی امریکا اور ایشیا کے مابین ہی گردش کرتا رہا ہے۔

یہ کتنی بڑی بدقسمتی ہے کہ کرکٹ جس ملک کا قومی کھیل ہے اور جس ملک سے اس ورلڈ کپ کے انعقاد کی روایت کا آغاز ہوا، اس انگلینڈ نے آج تک ایک بار بھی ورلڈ کپ نہیں جیتا اور ان 44 برس میں کرکٹ کا عالمی چیمپئن بننے کا اس کا خواب، آج تک خواب ہی ہے۔ ظاہر ہے کہ اِس بار بھی انگلینڈ اپنی اس حسرت کی تکمیل کے لئے سر سے پاؤں تک کا زور لگا رہا ہے۔ یہاں یہ بھی سُنتے چلیں کہ کرکٹ صرف انگلینڈ ہی کا قومی کھیل نہیں ہے، بلکہ آسٹریلیا، انٹیگوئا اور برمودا، بارباڈوس، جمائکا اور گریناڈا سمیت دنیا کے تقریباً 7 ممالک کا قومی کھیل ہے۔ جبکہ پاکستان سمیت لاتعداد ممالک کا وہاں کے قومی کھیلوں سے زیادہ مقبول کھیل ہے۔

1877 ء میں دنیا کا پہلا بین الاقوامی کرکٹ میچ کھیلے جانے کے 32 برس کے طویل عرصے کے بعد، 15 جون 1909 ء کو، انگلینڈ ہی کی سرزمین پر منعقد ہونے والی ’امپیریل کرکٹ کانفرنس‘ جسے موجودہ نام ’انٹرنیشنل کرکٹ کونسل‘ (آئی سی سی) 1989 میں دیا گیا، نے اپنے وجود میں آنے کے لگ بھگ 62 برس بعد 1971 ء میں ’کرکٹ ورلڈ کپ‘ کے ہر چار سال میں ایک مرتبہ انعقاد کا فیصلہ کیا۔ جس کے دو برس بعد 1973 ء میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ کرکٹ کا پہلا ورلڈ کپ 1975 ء میں انگلینڈ ہی میں کھیلا جائے گا۔

اس ورلڈ کپ میں میزبان ٹیم انگلینڈ اور اس وقت کی 6 عدد ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والی ٹیموں (بھارت، آسٹریلیا، پاکستان، ویسٹ انڈیز اور نیوزی لینڈ) کے علاوہ دو عدد مہمان ٹیموں (سری لنکا اور مشرقی افریقہ) کو بھی کھیلنے کی دعوت دی گئی۔ مجموعی طور پر کرکٹ کا یہ پہلا عالمی دنگل 8 ممالک کے مابین ہوا۔ یہ اوّلین عالمی کپ 7 تا 21 جون 1975 ء، دو ہفتے تک جاری رہا، جس کا فائنل ’لارڈز‘ ہی کے میدان میں منعقد ہوا، جو ویسٹ انڈیز نے جیتا۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے اِس برس کے ورلڈ کپ کے (مختلف سطح کے ) فاتحین کے لئے اُتنی ہی رقم (ایک کروڑ امریکی ڈالرس) مختص کی گئی ہے، جتنی 2015 ء کے گزشتہ ورلڈ کپ میں رکھی گئی تھی، جو رقم پاکستانی روپے کی موجودہ  قدر کے حساب سے، ایک ارب، 50 کروڑ، 77 لاکھ روپوں کے برابر بنتی ہے۔ چار برس میں انعام کی رقم میں اضافہ نہ کرنے والے اس فیصلے پر ورلڈ کپ کھیلنے والے کھلاڑیوں کی اکثریت کچھ خفا بھی ہے۔ اس انعامی رقم کی تقسیم کے فیصلے کے مطابق 40 لاکھ امریکی ڈالرزفاتح کو، 20 لاکھ امریکی ڈالرز ”رنر اَپ“ (فائنل ہارنے والی ٹیم) کو، 8 لاکھ امریکی ڈالرز، سیمی فائنل ہارنے والی ٹیموں کو، 40، 40 ہزار امریکی ڈالرز، لِیگ اسٹیج کے ہر میچ کی فاتح ٹیم کو دیے جائیں گے۔ جبکہ لِیگ اسٹیج کا مرحلہ عبُور ناں کر سکنے والی 6 ٹیموں کو بھی خالی ہاتھ نہیں لوٹایا جائے گا۔ بلکہ ان میں سے بھی ہر ایک ٹیم کو ایک ایک لاکھ امریکی ڈالرز کا شرکت اور ہمّت افزائی کے انعام کے طور پر دیا جائے گا۔ اس طرح یہ ایک کروڑ امریکی ڈالرزکی یہ کُل انعامی رقم تقسیم کی جائے گی۔

اس ورلڈ کپ میں 8 ممالک سے تعلق رکھنے والے کل 16 امپائرزمختلف میچز کے فیصلوں کی اہم ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ جن میں انگلینڈ کے 5، آسٹریلیا کے 4، سری لنکا کے 2، جبکہ نیوزی لینڈ، ویسٹ انڈیز، پاکستان، بھارت اور ساؤتھ افریقہ کے ایک ایک امپائر شامل ہیں۔ پاکستان کے مایہء ناز امپائر، علیم ڈار بھی اس ورلڈ کپ میں اپنی منصفانہ ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ ان امپائرز کے علاوہ 6 عدد ’میچ ریفری‘ بھی اس ورلڈ کپ میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ جن میں آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے دو، جبکہ انگلینڈ، سری لنکا، ویسٹ انڈیزاور زمبابوے کے ایک ایک ریفری شامل ہیں۔

اِس بار اسپورٹس کے ناقدین خواہ کرکٹ کے پنڈتوں کی جانب سے میزبان ملک (انگلینڈ) کو یہ عالمی کپ جیتنے کے حوالے سے ’فیورٹ‘ قرار دیا جا رہا ہے، جس کو اب تک تین بار ورلڈ کپ کے فائنل تک پہنچنے کا موقع مل چکا ہے، مگر کرکٹ کا عالمی ٹائٹل حاصل کرنے کا موقع اُسے ابھی تک نہیں مل سکا۔ انگلینڈ کے ورلڈ کپ جیتنے کے تکنیکی بنیادوں پر امکانات اس لئے بھی روشن ہیں کہ انگینلڈ نہ صرف آئی سی سی کی حالیہ ’ون ڈے رینکنگ‘ میں اِس وقت سرِ فہرست ٹیم ہے، بلکہ جُون 2017 ء میں منعقدہ آئی سی سی چیمپینز ٹرافی کے سیمی فائنل ہارنے کے بعد، انگلینڈ کوئی بین الاقوامی سیریز نہیں ہارا۔

ساتھ ساتھ آسٹریلیا کو دو مرتبہ شکست دینے کے ساتھ ساتھ حال ہی میں ویسٹ انڈیز، نیوزی لینڈ اور سری لنکا کو بھی زبردست شکست سے دو چار کر چکا ہے۔ دوسری اہم حقیقت یہ ہے کہ انگلینڈ کی ٹیم میں ’جوءِ روٹ‘ ، ’جوس بٹلر‘ ، ’جونی بیئر اسٹو‘ اور ’ایئن مورگن‘ جیسے 20 آئی سی سی رینکنگ رکھنے والے باصلاحیت بلّے باز موجود ہیں، جو ان کے میچوں میں یقینی طور پر بھاری اسکور بنانے کی وجہ بنیں گے اور انگلینڈ کی فتح کے امکان کو یقینی بنا سکتے ہیں۔

دوسری جانب عالمی رینکنگ میں نمبر اوّل اور دوم بَلّے باز ’ورات کوہلی‘ اور ’روہت شرما‘ دو مرتبہ ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم، بھارت کی اسکواڈ کا حصّہ ہیں، جبکہ 49 او ڈی آئیز میں 85 وکٹیں لینے والے، دنیا کے اوّل نمبر کے بالر ’جسپرت بمرا‘ بھی بھارتی ٹیم کے اہم کھلاڑی ہیں۔ یہ تینوں صاحبان اور بھارت کے دیگر کھلاڑی بھی بھارت کو تیسری مرتبہ ورلڈ چیمپین بنا سکتے ہیں۔ جبکہ آسٹریلیا بھی اتنی آسانی سے یہ اعزاز کسی اور کے گھر جانے نہیں دینے والا!

جو نہ صرف کرکٹ کا موجودہ ورلڈ چیمپین ہے، بلکہ اس وقت تک سب سے زیادہ مرتبہ ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم بھی ہے۔ اُس کے پاس بھی ’اسٹیو سمتھ‘ ، ’ڈیوڈ وارنر‘ اور ’گلین میکس ویل‘ جیسے کھلاڑی موجود ہیں۔ آسٹریلیا نے حال ہی میں پاکستان اور بھارت کو ہرایا ہے، اس لئے یہ بھی خارج از امکان نہیں کہ یہ ٹیم چَھٹی مرتبہ عالمی کپ کی فاتح بن جائے۔ اس لئے یہ ورلڈ کپ جیتنے کے حوالے سے ’فیورٹس‘ کی فہرست میں مندرجہ بالیٰ ترتیب کے ساتھ اوّل، دوم اور سوئم نمبروں کے بعد جو ٹیمیں شمار کی جا رہی ہیں، اُن میں بالترتیب، ساؤتھ افریقہ، نیوزی لینڈ، ویسٹ انڈیز، پاکستان، بنگلادیش، سری لنکا اور افغانستان، نمبر چہارم تا دہم ہیں۔ بقول سارو گنگولی، ’پاکستان کو اس مقابلے کی دوڑ سے رُول آؤٹ نہیں کیا جا سکتا۔ ‘

بہرحال، جیتے کوئی بھی! کرکٹ کے شائقین کو شاندار سنسنی خیز مقابلوں سے لطف اندوز ہونا چاہیے، جہاں دنیا بھر کے بہترین کرکٹ کھلاڑی اپنا بہترین کھیل پیش کر رہے ہیں۔ اس لئے اُن کی ’گیم‘ سے لطف اندوز ہونا چاہیے اور سنسنی خیز لمحوں کا لطف اٹھانا چاہیے۔ اس بات سے قطع نظر، کہ ”کون“ کھیل رہا ہے، یہ دیکھا جائے کہ ”کیسے“ کھیل رہا ہے۔ کیونکہ اصل ’اسپورٹس مین اسپرٹ‘ غیرجانبدار تماشائی بن کر کھیل دیکھنے میں ہی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •