معاف کیجیئے روزہ ہے


معاف کیجیئے روزہ ہے یہ لفظ بہت زیادہ سننے میًں آتا ہے بہت اچھا لگتا ہے۔ اور کشش بھی رکھتا ہے۔ لوگ اس کا ادب بھی کرتے ہیں۔ تبھی تو ٹریفک میں پھنسے افراد گالیاں دے کر یہ کہہ دیتے ہیں کہ روزہ ہے نئی تو بتاتا۔ کسی سے اگر لڑائی ہوجائے تو اس کو دو چار گھونسے، تین چار لاتیں مار کر یہ کہہ کر چھوڑ دیتے ہیں کہ روزہ کی وجہ سے چھوڑدیا ہے ورنہ بتاتا۔ یہ روزہ کا احترام ہی ہوتا ہے کہ ہم دوسروں کی اچھی طرح غیبت کر چکنے کے بعد یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم تو عام دنوں میں کسی کی بات نہیں کرتے یہ تو پھر رمضان ہے۔

اور خیر سے میرا روزہ بھی ہے، جانے دیں ہمیں کیا۔ ویسے تو ہم روزہ یوں رکھتے ہیں جیسے دوسروں پر احسان کر رہے ہوں۔ اور روزہ جتانے کا کام وہ لوگ بخوبی انجام دیتے ہیں جو بظاہر صوم و صلوت کے زیادہ پابند ہوتے ہیں۔ جو شرعی داڑھی رکھتے ہیں اور پتلون بھی شرعی ہی پہنتے ہیں۔ یعنی گھٹنوں سے اوپر۔ ہم جیسے کبھی کبھار کے مارے باندھے نمازی، عیبوں کے مارے تو کسی کھاتے ہی میں نہیں آتے نہ مولوی کے نہ فرشتوں کے۔ چونکہ شرعی داڑھی رکھنے کی وجہ سے ایسے لوگوں کے دماغ کو تھوڑی گرمی چڑھ جاتی ہے۔

جس کی وجہ سے شریعت کی اصل باتوں پر ان کا دھیان نہیں جانے پاتا۔ بس وہ باتیں یاد رہ جاتی ہیں جو شریعت نے شرعی لوگوں کے ذاتی مفاد میں بتائی ہیں (۔ یہ اس لئے کہا کہ یہ لوگ شریعت پر صرف اپنی اجارہ داری سمجھتے ہیں ) چونکہ داڑھی کے بالوں کی گرمی ان کے دماغ کو چڑھی ہوتی ہے۔ لہذا وہ غیر ضروری باتیں جو دوسروں کے متعلق ہوں بھول جاتے ہیں۔ ایسے شریعت کے متولی یاد رکھتے ہیں کہ رمضان آنے سے پہلے وہ چیزوں کو لازم ذخیرہ کرلیں۔ تاکہ بوقت ضرورت کام آ سکیں۔ اور لوگوں کو رمضان میں اس کے حصول کے لئے کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ ہو۔ اور چاہے مہنگی ہی سہی لیکن لوگوں کو ان کی مطلوبہ اشیاء مل جائیں۔ چاہے لوگوں کو سہولت دینے کے لئے ایسے لوگوں کو چیزوں کو ذخیرہ کرنے کے لئے گودام کا بھاری بھرکم کرایہ ہی کیوں نہ ادا کرنا پڑے۔ لیکن مسلمان ہونے کے ناطے یہ بھی کرگزرتے ہیں۔ چونکہ ان کا روزہ ہوتا ہے لہذا یہ پوری کوشش کرتے ہیں کہ اپنے گاہکوں کا خاص خیال رکھیں۔

لہذا وہ چیز جو پندرہ سو کی لے کر پینتیس سو میں بیچنا ہوتی ہے۔ اس پر خصوصی رعائیت دیتے ہوئے پانچ سو کا ”گھاٹا“ کھا کر وہ چیز تین ہزار میں بیچ دیتے ہیں۔ اور اپنا یہ نقصان وہ صرف رمضان کے احترام کی وجہ سے کرتے ہیں۔ کہ رمضان تو سخاوت کا مہینہ ہے۔ اس ماہ میں دوسروں کا خیال رکھنے کی وجہ سے بہت زیادہ اجر ملتا ہے۔ یوں تو لڑائی جھگڑا کوئی اچھی بات نہیں لیکن رمضان میں یہ اور بھی ”گندی بات“ ہے۔ لہذا اگر مالکان کے لئے ایسی کوئی صورتحال پیش آجائے تو پھر وہ اس کے لئے یہ کہہ کر ”میرا روزہ ہے“ اپنے ملازمین کو لڑنے کے لئے آگے کر دیتے ہیں۔

اور صورتحال کے پیش نظر انھیں ہر طرح کی فسادی آزادی دے دیتے ہیں۔ ایسے شریعت پسند لوگ اپنی نماز کا بھی بے حد خیال رکھتے ہیں۔ لیکن اگر نماز کے لئے ملازمین نے جانا ہو تو پھر چاہے یہ بات ان کے کاروبار کو کتنا ہی متاثر کیوں نہ کرے لیکن نماز سے منع کرنے جیسا گناہ نہیں کرتے۔ بس تنخواہ سے اس وقتی رخصت کے پیسے کاٹ لیتے ہیں۔ ایسے شریعت کے پابند لوگ اپنے ملازمین کی افطاری کا بھی بھرپور اہتمام کرتے ہیں۔ اور افطاری کے وقت خاص طور پہ برف منگوا کر ٹھنڈے یخ پانی کا انتظام کرتے ہیں۔ کہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ملازمین کا بھی روزہ ہے اور روزے دار کو روزہ افطار کروانا اجر عظیم ہے۔

کل شاپنگ کے لئے گئی تو ”ایسے ہی ایک شریعت پسند انسان کی عظمت دیکھنے کو ملی۔ اور یقین کیجیئے کہ اس کی عظمت سے متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکی۔ اس کی دکان بہت بڑی تھی۔ یقیناً اس میں کروڑوں کا مال ہوگا۔ دکاندار بھی خا صا نیک، متقی شخص لگ رہا تھا۔ یہ بڑی سی شرعی داڑھی، انگلیاں متواتر تسبیح کے دانے گرارہی تھیں۔ گھٹنوں سے اونچی شلوار۔ ظاہری حلیہ سے ہی لگتا تھا کہ بہت نیک دل، مذہب کے قریب، اللہ والے ہیًں۔ اور پھر ان کی شرعی باتیں

آنے والے گاہکوں کا استقبال بسم اللہ سے ہورہا تھا۔ اور اپنے گاہکوں کو رمضان کی اہمیت اور فضیلت بھی بتائی جارہی تھی۔ کہ اس مہینے صدقہ، خیرات، سخاوت کی کتنی فضیلت ہے۔ وہ مالک دکان بتا رہا تھا کہ اس نے رمضان کے احترام میں روزہ داروں کے لئے خصوصی ڈسکاؤنٹ آفر رکھی ہے۔ ہر سوٹ پر دو تین سو کی رعائیت دے رکھی ہے۔ تاکہ گاہکوں کی عید اچھی ہو۔ اسی دکان پر کام کرنے والا ایک لڑکا جس کی عمر مشکل سے اٹھارہ برس سے کم ہی ہوگی۔

وہ اپنے مالک سے ضد کر رہا تھا کہ اس نے آج روزہ دودھ سوڈے سے افطار کرنا ہے۔ لیکن مالک اسے بری طرح ڈانٹنے لگ گیا۔ کہ چپ روزہ جس سے روز افطار ہوتا ہے اسی سے ہوگا۔ جاؤ دو لیموں بالٹی میں نچوڑ کر سکنجین بناؤ۔ لیکن لڑکا ضد کیے جارہا تھا۔ وہ لڑکا ابھی کم سن تھا۔ کہ اگربڑا ہوتا تو اتنا ضرور جانتا ہوتا کہ ضد اور فرمائشیں تو ماں باپ پوری کرتے ہیں دوسرے لوگ تو فرمائش کرنے پر جھڑک دیتے ہیں۔ لیکن یہ بات اس بچے کو کون سمجھاتا۔

سو وہ ہر پانچ منٹ کے بعد دودھ سوڈا پینے کی فرمائش لے کر آجاتا۔ وہ لڑکا میرے سامنے کوئی دسویں بار آیا۔ اور اس نے رونے والا منہ بنا کرپھر وہی کہا کہ میں کسی صورت بھی لیموں پانی سے روزہ نہیں افطار کروں گا۔ جس پر دکاندار نے اسے گھوری ڈالی۔ اور انتہائی سخت لہجے میں بتایا کہ ادھر تیرے باپ کا مال نہیں جو دودھ سوڈے جیسی عیاشی کرواؤں تم حرام خوروں کو۔ انتہائی تکلیف دہ کلمات بہت آسانی سے ادا کر دیے گئے تھے۔

مجھ سے سن کر نہیں رہا گیا۔ تو دکان مالک سے کہا۔ بھائی دودھ سوڈا اتنی مہنگی چیز بھی نہیں اور نہ افطاری عیاشی میں شمار ہوتی ہے۔ تو مالک کہنے لگا بی بی آپ کو نہیں پتہ ان حرام خوروں کے لئے ادھر روز بالٹی بھر کے سکنجین کی بنتی ہے۔ الحمد للہ سارے لڑکے جی بھرکے پیتے ہیں ہمارا تو دل ہی بڑا نرم بنایا اللہ نے۔ ورنہ گھر تو ان کو ٹھنڈا پانی بھی نصیب نہیں ہوتا۔ ادھر نخرے اور فرمائشیں کرنا آجاتی ہیں۔ شکر نہیں ادا کرتے کہ لیموں پانی نصیب ہورہا ہے۔

یہ کہانی ہے ایک مالک دکان کی۔ جس کی دکان کروڑوں روپے کے مال سے بھر پڑی تھی اور جس کی روزانہ کی آمدن لاکھوں میں ہے۔ اور جس نے روزے کی فضیلت کی وجہ سے گاہکوں کو خاصی رعائیت دینے کا اعلان کر رکھا ہے۔ اور ایسی ہی کتنی کہانیوں سے دکانیں بھری پڑی ہیں۔ ایک صاحب نے مشورہ دیا مزاح لکھو اس پہ طبع آزمائی کرو۔ اس میں بہت سکوپ ہے۔ میدان خالی ہے۔ بھلا ایسے حالات میں جب کسی کا پیٹ خالی ہو، سینہ درد سے بھراپڑا ہو، جب پریشان لوگوں کی ویران بنجر آنکھیں راتوں کو ڈراتی ہو تو کیا مزاح اجازت دیتا ہے کہ اسے لکھا جائے۔ لیکن میں بھی کیا لوگوں کے عیب لے کر بیٹھ گئی خود کو نظر انداز کر کے دوسروں کی خامیاں گنوانے بیٹھ گئی۔ معاف کیجیئے کہ آخر میرا بھی تو روزہ ہے

Facebook Comments HS