زندہ دل دوستوں کی برینڈڈ شاپنگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عید کے قریب آتے ہی خریداری کی گونج کانوں میں رس ضرور گھولتی ہے۔ کئی منچلے چوڑیوں کا اسٹال محض حسین کلائیوں کی تعریف کے لیے ہی لگالیا کرتے ہیں، کہتے ہیں جانی یہ کلائی ہی تو ہے جس میں آکر چوڑیاں سانس لینے لگتی ہیں۔ دوپٹے پیکو ہوتے ہیں، مہندی رچا کرتی ہے۔ بازاروں میں رونق ہوتی ہے۔

رمضان اختتام کے قریب ہے مگر زندہ دل دوستوں سے بازاروں کے قصے سننے کو ملے نہ بازار میں اتری پریوں کی تعریف۔ خریداری کا بھی خاص تذکرہ نہ تھا۔ معاملہ شلوار قمیض تک ہی محدود رہا۔ میرے لیے یہ باعث حیرت تھا کہ نوجوانوں کی توجہ جینز پر زیادہ ہوتی ہے۔ عید پر آئندہ چھ ماہ کی خریداری کر لی جاتی ہے۔

ذرا سا کریدا تو میں چونک گیا۔ مقامی برینڈز سے خریداری پر فخر کرنے والے اکثر نوجوان بین الاقوامی برینڈز کا نام لے رہے تھے۔ میں نے فلاں کی شرٹ اور فلاں کی پینٹ لی ہے۔ اس طرح کی چند باتیں سنیں تو تجسس بڑھ گیا۔ آمدن سے زائد اثاثوں کی بو آنے لگی۔ کہ کچھ بے روزگار ہیں، کچھ کا روزگار کبھی بھی ختم ہوسکتا ہے۔ اکثر کی تنخواہوں سے کٹوتی بھی ہوئی ہے۔ مجموعی طور پر ملک کی معیشت بھی زوال پزیر ہے۔ ہر چیز کی قیمت میں اضافے نے جینا مشکل کررکھا ہے۔ ایسے میں بین الاقوامی برینڈز کی ملبوسات بھلا کیسے خریدی جارہی ہیں؟

خاصی مشقت کے بعد گھر کا ایک بھیدی ڈھونڈا، پہلے اس کے سامنے غربت اور مہنگائی کے رونے روئے۔ پھر بتایا بھائی عید سر پر ہے ابھی تک خریداری نہیں کی۔ آپ تو ہیرو ہیں، کتنا شاندار لباس زیب تن کرتے ہیں۔ کچھ رہنمائی فرمائیں۔ اپنے ساتھ کسی روز خریدار پر لے جائیں۔

وہ رضامند ہوگیا اور اگلی ہی شام ہم روانہ ہوئے۔ میرا اندازہ تھا کراچی کے کسی مہنگے مال یا پھر زم ذمہ اسٹریٹ پر لے جائے گا۔ میری حیرت کی مگر انتہا نہ رہی جب ہم مشہور زمانہ لائٹ ہاوس مارکیٹ پہنچ گئے۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا برینڈڈ کپڑے یہیں پائے جاتے ہیں اور اکثر نوجوان اب یہیں سے خریداری کررہے ہیں۔ لائٹ ہاوس بازار پرانے جوتوں اور کپڑوں کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے۔ تاہم اب یہاں نئے جوتے بھی دستیاب ہیں۔

میرا محسن چونکہ تجربہ کار تھا سیدھا مجھے اس دکان پر لے گیا، جہاں معروف برینڈز کی شرٹس بکھری پڑی تھیں۔ کہا لو تم بھی چن لو۔ اور مزے کرو۔ پہنو اب کی عید پر بڑے برینڈز!

ویسے تو یہ سب دیکھ کر میں الفاظ کھوچکا تھا۔ بس سوالات ہی تھے۔ کیا چند ماہ پہلے تک اپنی خریداری پر فخر کرنے والے، اب لنڈے کے کپڑے پہن رہے ہیں؟ یہی سوال تھا جو میں پوچھ سکا۔ جانی! یہ لنڈا نہیں ہے۔ بس ذرا سی استعمال شدہ شرٹس ہیں۔ ان کا میعار اور قیمت بہت بہتر ہے۔ بس کسی کو بتانا مت۔ کس کو نہ بتاوں؟ سب تو یہاں سے خریداری کررہے ہیں؟ ہاں یار کر تو سب رہے ہیں مگر مان کوئی نہیں رہا۔ اس لیے تم بھی خاموش رہنا۔

بازار سے روانہ ہونے لگے تو میرے محسن نے ایک ٹپ مجھے اور دی۔ جانی یاد رکھنا شرٹ یا پینٹ تو اس طرح خرید کر پہن لینا مگر جوتا ہمیشہ نیا ہی لینا۔ وہ کہاں سے لینا ہے بتادوں گا۔ کیونکہ جوتے پر سامنے والے کی ہہلی نظر پڑتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •