غصے اورانا کے لینڈ مائنز سے بھری زمین

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

روحانی سلسلوں میں سے ایک سلسلہ عظیمیہ ہے اس سلسلے کے بڑے پیشوا کا نام قلندربابااولیاء رحمتہ اللہ علیہ ہے ایک بار ان کا ایک پیغام نظروں سے گذرا وہ فرماتے ہیں کہ “مرشداپنے تصرف سے مرید کو دھوکرصاف کرکے اس کے اندرروشنیاں منتقل کرتا ہے اورمرید اگر ایک منٹ کا غصہ کرے تو تین سال کی روشنیاں ضائع ہوجاتی ہیں اورمرشد کے لئے سب سے مشکل کام یہ ہے کہ وہ بار بار مرید کے اندرکی کثافت کو دھوکرروشنیاں منتقل کرتا رہتا ہے اورمرید ایک منٹ کے غصے سے ان روشنیوں کو ضائع کردیتا ہے۔

مرید روشنیوں کو ضائع کرنے سے نہیں تھکتااورمرشد روشنیاں ذخیرہ کرنے سے نہیں تھکتا۔ اگراللہ تعالی کی مدد شامل حال ہوتی ہے تو کام آسان ہوجاتا ہے ورنہ اسی صفائی ستھرائی میں مرشد پردہ کرلیتا ہے یا مرید مرجاتا ہے۔ ایک منٹ کا غصہ تین سال کی روشنیاں ضائع کردیتا ہے۔”

قرآن مجید کی سورۃ آل عمران میں آیت نمبر ۴۳۱ ہے کہ جولوگ غصہ نہیں کرتے اللہ تعالی ان سے محبت کرتا ہے۔

بہت سے لوگ اس بات سے اختلاف کرتے ہونگے کہ کوئی اورشخص کسی اورکی کثافت کو کیسے صاف کرسکتا ہے یہ ایک الگ باضابطہ سائنس ہے جس کو سمجھنے کے لئے اس نظام اوراس کے طریقہ کارکا جائزہ لینا ہوتا ہے لیکن اس حد تک تو ہم سب ہی اس بات پرمتفق ہیں کہ اسلام بحیثیت نظام زندگی یہ حکم دے چکا ہے کہ غصہ حرام ہے اس لئے اس حرام سے اگر کوئی چیز جنم لے گی تو وہ اورکچھ ہو نہ ہوکم از کم حلال تو نہیں ہوسکتی۔

اس برکتوں بھرے مہینے کے آخری عشرے میں مسجد میں اعتکاف بیٹھے شخص نے اپنے ساتھ معتکف شخص کو مسجد کے اندرگولیاں مارکرقتل کردیا اورہمیں پیغام دیا کہ جب تک انا اورغصے کا بم ڈیفیوز نہیں کیا جائے گا ہم کچھ بھی کرلیں ہم پریشان ہی رہیں گے۔ برکتوں بھرے اس مہینے میں جن دوبڑے واقعات نے ہمیں ذہنی طورپرانتہائی پریشان اورقریبا مفلوج کیا وہ بھی شروع ہوا تھا چند لوگوں کے غصے سے اورہوتے ہوتے ان دوواقعات نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، زندگی کی بتیاں گُل ہوگئیں اورہم جو ان تنازعات کا براہ راست حصہ بھی نہیں تھے ان سے شدید متاثرہوئے۔

پہلا واقعہ پشاور کے ایک ہسپتال میں پیش آیا جب ایک ڈاکٹرنے الزام لگایا کہ صوبائی وزیرصحت نے ان کو اپنے گن مینوں کے ذریعے زدوکوب کیاجس کے ثبوت کے طورپرمذکورہ ڈاکٹرصاحب ہسپتال میں زخمی حالت میں بیڈ پرلیٹ بھی گئے، ان کے ساتھیوں نے اس غصے کو ہزاروں میں ضرب دے کر اس کاساراغبارکچھ اس طرح نکالا کہ اس سے جو لوگ سب سے زیادہ متاثرہوئے وہ عام غریب لوگ تھے۔

صوبائی حکومت نے قریبا ایک ہفتے بعد ان ڈاکٹروں کے ساتھ مذاکرات کا عمل شروع کیا اورہمیں بطورعوام بتایا گیا کہ اب ان معاملات کا مستقل حل نکالنے کے لئے دویا تین کمیٹیاں بنادی گئی ہیں جس کے بارے میں ہم پوری طرح خوش گمان ہیں کہ ان کا کوئی نتیجہ نہیں نکلنے والا، کیا اس سے پہلے کسی کمیٹی کو سونپا ہوا کام کسی نتیجے پر ختم ہوا ہے کیاجو اب ہوگا؟

خیبرپختونخوا کے لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ ادارہ جاتی اصلاحات کے نام کو سب سے زیادہ شاید تحریک انصاف نے استعمال کیا لیکن وہ کرکچھ نہ سکی۔ان اصلاحات کے نفاذ کے لوز کھیل کے دوران چند افرادکا حقیقی یا نمائشی غصہ و اشتعال عام لوگوں کو شدید متاثرکرنے کے بعد مذاکرات کے بعد برضا وخوشی اختتام کو پہنچ جاتا ہے۔

ڈاکٹروں کے بعدجس واقعے نے من حیث القوم ہمیں سب سے زیادہ متاثر اورصورتحال کے بارے میں پریشان کیا وہ ۶۲ مئی کو شمالی وزیرستان کے خڑ کمر چیک پوسٹ پرپیش آنے والا وہ افسوسناک واقعہ تھا جس میں ڈپٹی کمشنر شمالی وزیرستان کی رپورٹ کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں مظاہرین میں سے مجموعی طورپرتیرہ افراد جاں بحق اورقریبا پچیس زخمی جبکہ فوج کی جانب سے ایک جاں بحق اورسات زخمی ہوئے۔ اس واقعے کی شدت نے پوری قوم کو یہ سوچنے پر مجبورکردیا کہ حالات کتنے نازک ہیں کہ کوئی معمولی سی چنگاری اورغصہ بھی کتنے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

لیکن اس سے بھی زیادہ افسوس کا مقام وہ تھا جب لوگ اصل حقائق اوراس مشکل سے نکلنے کے لئے حکومت کی جانب دیکھ رہے تھے اوراس کے عمائدین یہ نہیں طے کرپارہے تھے کہ اس صورتحال میں ان کا کیا کردار بنتا ہے یوں وہ تاخیر سے نہیں بلکہ بہت تاخیر سے میدان میں آئے اوروہ معاملہ جوجلد آجانے پربآسانی سنبھالا جاسکتا تھا حکومت کی تاخیر کی بدولت دورونزدیک تک پھیل گیا۔اس معاملے کی سنجیدگی نے ہمیں یہ بھی سوچنے پرمجبور کیا کہ ضم شدہ قبائیلی اضلاع میں بندوبستی علاقوں کا ڈھانچہ یعنی پولیس اورعدالت کو تعینات کرنے میں جتنی تاخیر ہوگی اس قسم کے چھوٹے واقعات بڑے ہوتے رہیں گے۔

یہ کسے نہیں معلوم کہ اگرہماری قومی سیاسی و عسکری قیادت حالات کا ادراک کرتے ہوئے اگراب بھی ایک میز کے گرد نہ بیٹھی توغصے اوراشتعال سے بھرے ایسے چھوٹے چھوٹے بم بڑی تباہیاں لاتے رہیں گے۔ہم آرمی پبلک سکول پرحملے کے بعد جب ایک میز کے گرد بیٹھ کراتفاق رائے بنانے میں کامیاب ہوگئے تھے توآخر اب ایسا کیوں نہیں کیا جاسکتا؟

جب ہم سب یہ بات کہتے نہیں تھکتے کہ بیرونی ہاتھ ہمارے حالات سے فائدہ اٹھانے کے لئے تیار بیٹھا ہے توہم کیوں نہیں اپنے گرداتفاق واتحاد کی فولادی دیواریں چڑھادیتے۔ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنا ہوگا کہ یہ کس کی انا اورغصہ اتنا مضبوط ہے جو ہمیں اپنا گھر بچانے کو اکٹھا نہیں ہونے دے رہا۔

بشکریہ روزنامہ مشرق

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •