ضدی بچّہ اور بے بس ماں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ بچّہ بڑا ضدی تھا۔ ماں کا پلّو چھوڑ ہی نہیں رہا تھا اور ماں کیا تھی ہڈیوں کا ڈھانچہ لگ ایسی رہی تھی جیسے پوری زندگی پرائے جرم کی سزا کاٹی ہو۔ بھری جوانی میں بڑھاپے کی آمد یقیناً گئے وقتوں کے ہزار طوفانوں اور حادثوں کا پتا دیتی ہے۔ بچّہ ماں کو رو رو کر کھینچ رہا تھا لیکن اس رسّہ کشی میں ماں کا پلڑا بھاری تھا۔ گردوپیش سے اگر ماں بے خبر رہتی تو شاید دنیا کا یہ انوکھا مقابلہ معصوم بچّہ جیت جاتا لیکن ماں کو پتا تھا آس پاس دائیں بائیں جو بیٹھے ہیں تماش بین بن کر کہیں مذاق کے تیر نہ برسائے کیونکہ ان لمحات میں مذاق جان ہی لے لیتی ہے۔ یہ ایک بازار ہے جہاں عید کی خریداری کے لئے ”اشرف المخلوقات“ کا ایک جم غفیر ہے جس میں بچّہ بے خبر تھا اور سگمنڈ فرائیڈ کی تھیوری اپنا کام دکھا رہی تھی۔

بچّہ چپ ہی نہیں ہورہا تھا اور جب ”شناخت“ نے ”انا“ کی حد پار کرنے کی کوشش کی تو تھپٹر کی رفتار اور زور نے سگمنڈ فرائیڈ کے ”شناخت“ کی دھیجیاں اڑا دی۔ یہ تھپڑ اتنا زوردار تھا کہ اگر کسی بڑے کو پڑتا تو اس کی چیخیں نکل جاتیں۔ وہاں موجود اشرف المخوقات نے روٹین کا واقعہ سمجھ کر نظریں جھکالی لیکن ایک تھا وہاں جس سے برداشت نہ ہوسکا سیدھا آیا اور بچے کی ماں سے اس قہر کی وجہ پوچھ ہی لی۔

ماں جو بہرحال ماں تھی برداشت کیسے کرتی آنسو ضبط نہ کرسکی اور چل پڑا جوانی کی جھریوں پر آنکھوں کا سیلاب۔
یہ ضد کر رہا ہے کھلونوں اور کپڑوں کی لیکن ہمارے گھٹنے پاجامے میں سے جھانک رہے ہیں کیسے برداشت کرلیں۔

انسان نما بھیڑ سے جو آیا تھا اس نے بچّے کی فرمائش پوری کی اور ماں بت بنے کھڑی رہی اور نہ جانے کتنی سرد آہوں سے اپنی حالت کو کوستی رہی لیکن جو چمک اس کی آنکھوں میں اس وقت خوشی بن کر عود آئی قابل دید تھی۔ کیا تھا اس کے پاس بس دعائیں تھیں جو وہ رو رو کر دے رہی تھیں جسے سن کر مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے عرش معلیٰ کو ہلا رہی ہوں۔

میں جو وہاں موجود تھا بھاری بھر کم جسم سنبھالنے میں ناکام تھا۔ ہزار سوال میرے بھی تھے لیکن جواب کس سے مانگتا۔ سوچا کاش عید ہی نہ آئے۔
یہ روز کے تماشے نہ جانے کب ختم ہوں گے جس میں استحصال ننگی ناچ کا سہارا لے کر محرمیوں پر ٹھوٹ کر برس رہا ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام کی یہ ظالم چکّی نہ جانے اور کتنے انسانی جسموں کا خون یوں چوستی رہے گی۔
مائیں کب تک اپنے جگر گوشوں کو یوں تھپڑوں سے چھپ کرانے کی کوششیں کرتی رہیں گی۔

ہم مانیں یا نہ مانیں لیکن ہم جس نظام کی گود میں زندگی گزار رہے ہیں یہ کفر کا نظام ہے جس میں چند طبقات کو جی بھر کر معاشرے کے سارے وسائل ہڑپ کرنے کا اصولی اور قانونی حق حاصل ہے اور جن کے گھٹنے پاجامے میں سے جھانک رہے ہیں وہ دن بہ دن محرومیوں کے اتھاہ کھڈ میں گرتے جارہے ہیں۔ یہ نظام اور اس کے چلانے والے ناظم دونوں ذمہ دار ہیں اس استحصالی ہتھکنڈوں کے۔

ہم کتنے برسوں سے نظام اور ناظم کا رونا رو رہے ہیں لیکن خود اپنی رعیت کا کبھی نہیں سوچتے۔ ہم ملک کو ٹھیک کرنے سے تو رہے لیکن آس پاس موجود لاکھوں لوگوں میں سے چند کو تو خوش کرسکتے ہیں۔

عید کی آمد ہے ہمارے بازار ہر قسم کی رونقوں سے بھرپور ہیں۔ جن کے پاس وسائل ہیں وہ امپورٹڈ گاڑیوں میں بچوں سمیت بازاروں کا رخ کرتے ہیں اور پورے خاندان کی ہر قسم کی فرمائشیں پوری کرتے ہیں لیکن ان چمکدار گاڑیوں کے آس پاس ایسے ہزار بچے موجود ہوتے ہیں جن کو اس بات کی سمجھ نہیں ہوتی کہ ہم غریب ہیں اور یہی بچگانہ خصلت ان کے ذہنوں کو سوالات سے بھر دیتی ہے۔ کتنی عجیب بات ہے ہم بھلائی کے ان کاموں میں بھی سیاست شامل کردیتے ہیں۔

کیا ہمارے سامنے ایک پوری محروم نسل تیار نہیں ہورہی۔

ہم کسی کو کیا دے سکتے ہیں۔ کوئی انفرادی طور پر نظام کو صحیح رستے پر شاید نہ ڈال دیں لیکن نظام تو بنتا ہی انفرادی رویّوں سے ہے۔ ہم کیا دے سکتے ہیں کچھ خاص نہیں لیکن ان محروموں کو اگر اپنی جمع پونجیوں میں تھوڑا سا بھی حصہ دے دیں تو لازم ہے کہ ہماری عید بھی حقیقی عید بن جائے۔

ہم روز دیکھتے ہیں غریب کی عید صرف اس وقت حقیقی عید بن جاتی ہے جس وقت اس کے جگر گوشوں کی خوشیاں پوری ہوں۔

ہم اس عید کو بہت آسانی کے ساتھ ان لوگوں کے لئے آسان بناسکتے ہیں۔ ہر گاؤں میں نوجوان سوشل میڈیا کا استعمال کثرت سے کرتے ہیں۔ یہ نوجوان اگر ایک گروپ بنالیں اور اس میں باقاعدہ ایک پلاننگ شامل کرلیں کہ گاؤں کے جتنے بھی صاحب ثروت لوگ ہیں ان سے ان کی استطاعت کے مطابق پیسے لیں گے اور جتنے پیسے جمع ہوں گے اس کو پورے گاؤں کے غریبوں میں بانٹیں گے تو مشکل نہیں کہ تھوڑا ہی سہی لیکن غریب کی عید بھی حقیقی عید بن جائے۔ یہ ایک انتہائی آسان کام ہے۔ ہمارے پاکستان کے عوام میں یہ ایک بڑی اچھی عادت ہے کہ اللہ کے نام پر دل کھول کر دیتے ہیں۔ یہ آسان کام کرنے کے بعد آپ یقین کریں جو حقیقی خوشی ملے گی اس کی وجہ سے اس عید کا مزہ ہی دوبالا ہوجائے گا۔

اس کے علاوہ ہمارے پاس اضافی کپڑے، اضافی جوتے اور ضرورت کے دیگر اشیاء اگر موجود ہوں تو کیوں نہ ہم وہ لے کر کسی غریب کا دروازہ کھٹکھٹائیں۔ اللہ چھپر پھاڑ کر دیتا ہے جب اللہ کے نام اور رضا کی خاطر اس کے بندوں پر خرچ کیا جاتا ہے۔

اپنے بچوں کو دیکھ کر کچھ لمحات کے لئے ایک انوکھا تصور ذہن میں لائیے جس میں آپ اور اپ کے بچے محروم ہو تو پھر غریبوں کے لئے کچھ کرنا کبھی بھی مشکل نہیں رہے گا۔

کسی غریب اور لاچار کو اپنی خوشیوں میں شریک ٹھہرانا بڑے لوگوں کا شیوہ ہے اور بڑے لوگ وہ ہوتے ہیں جو اللہ کے ہاں معزز ہوتے ہیں۔ ہم ہمت کریں تو کوئی کام مشکل نہیں۔ جس طرح رمضان میں کسی غلط کام کے لئے شیطان کو مورود الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا اسی طرح ہم ہر کام میں حکومت کو بھی ذمہ دار نہیں ٹھہراسکتے۔ بعض کام ہمارے کرنے کے ہوتے ہیں اور جس کو ہم آسانی سے کرسکتے ہیں لیکن کر نہیں رہے اور یہی وجہ ہے کہ دن کا چھین اور رات کی نیند اڑ گئی ہے۔
ہم یہ آسان کام کرکے بہت سارے معصوم بچوں کو تھپڑوں سے بچا سکتے ہیں۔ آؤ کہ مل کر کسی غریب کے سکون کا ذریعہ بن جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •