کائرہ صاحب ہمیں معاف کردیجیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چودھریوں کے گجرات سے ذرا ٓگے لالہ موسی ہے۔ جی ٹی روڈ کے ان راستوں سے کئی بار گزرنے کا اتفاق ہوا۔ مگر اس بار لالہ موسی کے قریب پہنچ کر مجھے اپنے سینے پر دباؤ سا محسوس ہونے لگا تھا۔ مین سڑک پر دور سے اس وسیع گھر پر لہراتا ہوا بھٹو کی پارٹی کا جھنڈا کوئی بھی دیکھ سکتا ہے۔ جی وہی لالہ موسی جب پنجاب کے بلدیاتی انتخابات میں پیپلز پارٹی کا صفایا ہوچکا تھا تو بھی لالہ موسی کے عوام نے جیالوں کو اپنی خدمت کے لیے چنا تھا۔ سڑک کے ایک طرف قمرالزمان کائرہ کی رہائش گاہ جبکہ دوسری جانب ڈیرہ ہے۔ ویسے تو یہاں ہمیشہ چہل پہل رہتی ہے مگر اس مرتبہ فضاء میں کچھ عجیب سا غم تھا۔

کائرہ صاحب کہیں پر بھی ہوں ہفتے کے آخری دن حلقے کے عوام کے لیے ہمیشہ سے مخصوص رہے ہیں۔ اس گھر پر جوان بیٹے کی ناگہانی موت پر افسوس کرنے والوں کا ہجوم صبح کی روشنی کے ساتھ ہی شروع ہوجاتا ہے اور پھر رات گئے یہ ہجوم کم ہونے لگتا ہے۔ ناجانے کیوں کہا جاتا ہے سیاست دان اچھے نہیں ہوتے، ایسا ہے تو سینکڑوں چاہنے والے کہاں سے صبح سویرے اس گھر کا رخ کرتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر ایسے بھی ہیں جنہیں قمرالزمان کائرہ نہیں جانتے مگر سیاست میں شرافت، وضع داری اور سب سے بڑھ کر دیانت داری کو لوگ مان سمان دیتے ہیں۔

سیاستدان بھی وہ جو سیاست کو عبادت کا درجہ دیتا ہو اس عوامی خدمت گارکے غم کو اپنا غم سمجھنے والے اس کی محبت میں کھنچے چلے آتے تھے۔ میری کائرہ صاحب کے ساتھ پیشہ ورانہ امور کے سلسلے میں بے شمار ملاقاتیں رہیں، پریس کانفرنس میں کئی دفعہ تلخ سوال پوچھے ردعمل میں ہمیشہ جواب مسکراہٹ کے ساتھ ملا۔ مجھے آج کائرہ صاحب کا سامنا کرتے ہوئے اتنی مشکل پیش کیوں آرہی تھی یہ سمجھنا آسان تھا۔ عوام کے دکھ سکھ کایہ ساتھی آج خوددکھ اور پریشانی میں تھا۔

قمر الزمان کائرہ سے گلے ملتے ہوئے میں وہ سب الفاظ بھول چکا تھا جو میں نے اس وقت کے لیے سوچ رکھے تھے۔ وہی چند الفاظ جو ہمیشہ میرے لیے پریشانی لاتے ہیں۔ میں لاکھ کوشش کے باوجود یہ نہ کہہ پایا ”مجھے بہت افسوس ہوا ہے“ کیسے کہتا اور کس سے کہتا۔ میں خاموش رہا کچھ سمجھ نہیں آتا تھا کیا کہا جائے اور کیوں کہا جائے؟ دعا کے بعد اپنے اعصاب کو امتحان میں ڈالنے والے قمرالزمان کائرہ نے کہا ”اللہ نے دیا تھا اللہ نے لے لیا اس کی عطا تھی“ ۔

کائرہ صاحب نے یہ بات کر کے اپنے اعصاب کو ہی نہیں اپنے پاس بیٹھنے والوں کو بھی امتحان میں ڈال دیا تھا۔ یقینا کئی آنکھوں میں پانی اترآیا ہوگا۔ میں یہ منظر دیکھ نہ سکا دیکھتا بھی کیسے میں تو خود اپنی آنکھوں کی نمی چھپانے میں مگن تھا۔ وہ بتانے لگے میڈیا سے بات کے دوران سب کھڑے تھے انہیں یہ خبر دی گئی۔ اس وقت کسی کو سمجھ میں نہیں آیا کہ کس کے بیٹے کے بارے میں بتایا گیا ہے، دوبارہ پوچھنے پر بتایا گیا آپ کے بیٹے کے ساتھ حادثہ پیش آیا ہے۔

وہ کہتے ہیں ”مجھے لگا بڑا بیٹا جو لاہور ایک ٹیسٹ کے سلسلے میں گیا ہوا ہے شاید اس کا ایکسیڈینٹ ہوا ہے میں نے اسے کئی بار فون ملایا مگر نہیں ملا۔ اس کے بعد بھائیوں کو ملایا ان کے فون بھی مصروف ملے اسی اثنا ء میں بڑے بیٹے نے فون اٹھایا بیٹے کی آواز سن کر مجھے اطمینان ہوا مگر اس نے روتے روتے بتایا اسامہ (چھوٹے بیٹے ) کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے۔ میں سمجھ گیا نئیر بخاری نے مجھے گلے سے لگایا کہا کچھ نہیں ہوتا ٹھیک ہوجائے گا، میں بخاری صاحب کو کیا بتاتا اب کچھ کیسے ٹھیک ہوسکتا ہے؟ ایک صحافی نے آگے بڑھ کر بخاری صاحب کے سامنے بتایا کہ وہ اس دنیا میں نہیں رہا“ ۔

کائرہ صاحب یہ بات سنارہے تھے اور سامعین کے ضبط کے بندھن ٹوٹ رہے تھے۔ سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا رہا کئی ایک کے خیالات دل کو تکلیف دینے کے لیے کافی تھے۔ اس حادثے پر افسوس کرنے والوں سے مرحوم بیٹے کا باپ کہتا ہے ”آپ کے آنے کی وجہ سے میرا حوصلہ بڑھا“ جب یہ لمحہ مجھ پر بیت رہا تھا میرا دل چاہا پلٹ کر کہوں کائرہ صاحب حوصلہ تو آپ ہمارا بڑھا رہے ہیں۔

اس غمزدہ پنڈال سے نکلتے ہوئے مجھے سوشل میڈیا پر پھیلے ہوئے خود ساختہ خدائی پیغام رساں یاد آئے جنہیں جوان بیٹے کی میت قبر میں اتارتے باپ پر بھی ترس نہ آیا تھا۔ دیکھنے والوں نے دیکھا اس حوصلہ مند باپ نے بیٹے کی میت سے پہلے بیٹے کے دوست کی میت کو کاندھا دیا۔ میں سوچ رہا تھا اسامہ کائرہ کی موت ہوئی ہے یا سوشل میڈیا پر بدبو پھیلانے والوں کی اخلاقیات کی موت ہوئی ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •