کرپشن کی غضب کہانیاں، عمران خان کا اپنی صوبائی حکومت کو پیغام، کیوں؟

خیبرپختونخوا میں حکومتی جماعت تحریک انصاف کے حلقوں سے باہر کب کا یہ تاثر جڑیں پکڑ چکا تھا کہ اسے اپنی جگہ سے ہلانے کے لئے اس کے سیاسی مخالفین کو اب کوئی بہت بڑا اور انوکھا کام کرنا پڑے گا اور حکومت و پارٹی کے اندر زمام اقتدار اپنے ہاتھوں میں رکھنے والے لوگ مکمل محفوظ ہیں لیکن گزشتہ دو دنوں کے دوران پیش آنے والی ایک پیش رفت نے باہر سے مضبوط نظر آنے والی اس جماعت کی

Read more

ایک تالہ اور چابی ہی مسئلے کا حل ہے!

دس سال پہلے پشاور میں بچوں کے سکول پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں نے جب پوری قوم کو دلگیر کیا تو اگلے چند روز کے اندر ہی اس وقت کی نواز حکومت نے اپنے بدترین مخالف عمران خان، ان کی حامی اسٹیبلشمنٹ کے نمائندوں اور ہر چھوٹی بڑی جماعت کے رہنماوں کو ایک چھت تلے جمع کر کے قومی اتفاق رائے قائم کرنے کی کوشش کی اور اسی دن نیشنل ایکشن پلان کی منظوری دی گئی۔ نیشنل ایکشن پلان

Read more

امریکی صدر کا پاکستان پر ”بڑا سفارتی حملہ“

تین سال پہلے اگست کی 15 تاریخ تھی جب افغانستان سے اچانک ہر وہ سرپرست لاپتہ ہو گیا جو اب تک اس کا وارث اور حقیقی غمخوار ہونے کا دعویدار تھا ان میں امریکہ اور اس کے چھپن اتحادی ممالک بھی تھے افغانستان میں برسراقتدار اشرف غنی انتظامیہ اور خود کئی سالوں کی محنت سے تیار کی گئی قومی فوج بھی تھی۔ پوری دنیا حیران تھی کہ یہ اچانک کیا ہو گیا؟ کوئی ایسے بھی کرتا ہے کیا؟ وہ افغان

Read more

تحریک طالبان پاکستان کو آئین پاکستان اور فاٹا انضمام سے آخر مسئلہ کیا ہے؟

مذاکراتی کمیٹی کے کوآرڈینیٹر بیرسٹر سیف کے مطابق ٹی ٹی پی قیادت نے کابل مذاکرات میں سب سے زیادہ فاٹا کی قبائلی حیثیت کو بحال کرنے کے مطالبے پر زور دیا، مگر طالبان پر واضح کر دیا کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ پارلیمان کی منظوری سے ہوا ہے اور اسے دو تہائی اکثریت کے بغیر واپس کرنا ممکن نہیں۔

Read more

پاکستان کو اب طالبان حکومت کو تسلیم کرنا چاہیے کیا؟

افغانستان میں طالبان کی حکومت کو آنے کے بعد وقت تیزی سے گزر بلکہ اب تو ہاتھ سے نکلتا ہوا محسوس ہو رہا ہے کیونکہ اونٹ کسی کروٹ بیٹھتا دکھائی نہیں دے رہا کچھ وقت پہلے تک تو ہم اس لمکان یا طوالت کو خود طالبان اور ان کے ساتھ ہمسایہ ممالک کی کوئی مشترکہ حکمت عملی سمجھ رہے تھے کہ وہ اسے کسی مناسب موڑ پر لے جاکر ایک حتمی نتیجے تک پہنچائیں گے جس کے بعد افغانستان کے

Read more

عمران خان: دورہ روس سے پہلے کی کہانی!

کہتے ہیں کہ یہ سب اس وقت شروع ہو چکا تھا جب 25 جولائی 2019 کی رات کو عمران خان امریکہ کا اپنا دورہ مکمل کر کے اسلام آباد ائرپورٹ پر اترے اور وہاں اپنے استقبال کے لئے آنے والوں سے خطاب کیا ایک ایسا خطاب جس میں ان کی باچھیں کھلی پڑ رہی تھیں ان کو اپنی ہنسی چھپانا مشکل ہو رہا تھا۔ اس وقت ملک میں یہ بحث چل رہی تھی کہ عمران خان نے امریکی صدر ڈانلڈ

Read more

امریکی کاروباریوں کی ایمانداری اور ہمارے کی دھوکہ دہی

سال 2007 کے ستمبر کا مہینہ تھا ایک کورس کے سلسلے میں امریکہ جانے کا اتفاق ہوا وہاں پر لیپ ٹاپ کی ضرورت پڑی تو الیکٹرانکس کی بڑی شاپ بیسٹ بائے میں داخل ہوا لیپ ٹاپ کی قیمت کی ادائیگی کے لئے کا ؤنٹر پر پہنچا تو ایک لڑکا ایک استعمال شدہ لیپ ٹاپ اور اس کی بکھری ہوئی ایکسیسریز لئے مجھ سے پہلے ڈیوٹی پر موجود شخص سے بات کر رہا تھا جس نے اس سے لیپ ٹاپ لے

Read more

محسن بیگ اور حکومت: ٹھنڈے پیروں اور گرم سروں کا معاشرہ

کئی سال پہلے یورپ میں کسی ڈاکٹر ہرمن کی ایک کتاب کے بارے میں پڑھا تھا کہ ایک انتہائی اچھی شہرت کے مالک اس ڈاکٹر کے مرنے کے بعد وصیت کے مطابق ان کا سامان کھولا گیا تو اس میں ایک کتاب ملی جس پر لکھا تھا کہ اسے نیلام کر کے حاصل ہونے والی رقم ایک یونیورسٹی میں تحقیق کے کام کے لئے دی جائے۔ اس نیلامی کا اعلان ہوتے ہی بڑے بڑے مالدار لوگ اس میں حصہ لینے

Read more

ٹموتھی ویکس سے جبرائیل عمر تک کا سفر: طالبان کی قید میں رہنے والے آسٹریلوی شہری دوبارہ افغانستان کیوں جانا چاہتے ہیں؟

ٹموتھی ویکس کو اگست 2016 میں طالبان نے اغوا کیا تھا اور اُن کی رہائی طالبان لیڈر انس حقانی کی رہائی کے بدلے میں 2019 میں ہوئی۔ طالبان کی قید کے دوران ہی ٹموتھی نے اسلام قبول کیا تاہم اب ایک مرتبہ پھر وہ افغانستان کیوں جانا چاہتے ہیں اس حوالے سے انھوں نے بی بی سی کو خصوصی انٹرویو دیا ہے۔

Read more

تحریک انصاف کے پاس اب کیا آپشن باقی بچے ہیں؟

ہر مخالف سیاستدان کو گیٹ نمبر چار کی پیداوار ہونے کا طعنہ دینے والے وزیرداخلہ شیخ رشید احمد کو اچانک محسوس ہونے لگا ہے کہ ملک میں علاج معالجہ بہت مہنگا ہو گیا ہے۔ اتنا مہنگا کہ ان جیسے لوگ بھی مشکل میں پڑ گئے ہیں۔ حالانکہ ہمیں لگتا تھا کہ شیخ صاحب کھانے پینے سے لے کر سب کچھ اپنے مقامی دوستوں کے خرچے پر ہی کرتے ہوں گے۔ شیخ رشید صاحب جو وزیراعظم عمران خان کے ساتھ قربتوں

Read more

افغانستان کے حالات اور پاکستانی نوجوانوں کی اس میں بڑھتی دلچسپی

افغانستان میں رواں سال 15 اگست کو امریکہ اور افغان حکومت کے نکلنے کے بعد صورتحال اور برسراقتدار گروہ میں تبدیلی آئی تو ہم بھی ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے وہاں پر تبدیلی کے اس عمل کو خود دیکھا۔ وہاں سے واپسی پر جس چیز نے پاکستان میں ہمارا سب سے زیادہ بے تابی کے ساتھ استقبال کیا وہ وہاں کے حالات کے بارے میں مقامی لوگوں میں پایا جانے والا اضطراب تھا۔ کئی دن تک مختلف جگہوں

Read more

نئے کے چکر میں پرانا: سب ہار جائیں گے!

باقی صوبوں کا تو معلوم نہیں کیا حال ہو گا لیکن جہاں تک بات خیبرپختونخوا کی ہے یہاں تو یہ رجحان بہت تیزی سے جگہ بنا رہا ہے کہ سرکاری افسروں اور ملازمین کی ایک بہت بڑی تعداد اپنے سرکاری جاب سے مطلوبہ درجے کی وفاداری کی بجائے ایک ایک عدد نجی کاروباروں سے بھی منسلک ہو گئی ہے۔ پرسوں پشاور میں چلنے والی بی آرٹی میں سفر کے دوران پچھلی سیٹ پر بیٹھی ایک سواری کی آواز کانوں میں

Read more

افغان طالبان کو لگے طاقت کے انجکشن اور پاکستان کی مشکلات

بچپن میں جو کارٹون ہمیں بہت پسند تھے ان میں ایک کا ایک کیریکٹر پاپائے دی سیلر تھا جس کے منہ میں ہر وقت سگار ہوتا تھا اور وہ ہر قسط میں اپنی منگیتر کو خود سے چار پانچ گنا بڑے رقیب سند باد دی سیلر سے بچاتا پھرتا تھا یہ رقیب یوں تو ساری قسط کے دوران پاپائے دی سیلر کو بری طرح مارتا پیٹتا تھا لیکن پھر ہر قسط کے آخر میں کمزور پاپائے کو اس کی من

Read more

اسمبلیوں کی بے توقیری، کس نے کیا پا کر کیا کچھ کھو دیا؟

نوے کی دہائی کے دوران ہمارے صحافت میں نئے نئے دن تھے پشاور میں ایک بڑے قومی اخبار کے لئے جرائم کی خبریں کور کرنا بھی ہماری ڈیوٹی ہوا کرتی تھی یہ وہ وقت تھا جب ہمیں پولیس کی جانب سے اپنی بہترین کارکردگی اور جرائم پیشہ لوگوں یا بے گناہ پکڑے جانے والوں کی طرف سے پولیس کے مبینہ مظالم کے بارے میں خطوط ملتے رہتے تھے اسی دوران پشاور کے سنٹرل جیل میں ایک دن بہت بڑا ہنگامہ ہوا انتظامیہ کہہ رہی تھی کہ بعض قیدیوں نے منشیات بیچنے کی اجازت نہ دینے پر جیل میں ایسی صورتحال بنائی جبکہ قیدیوں کی جانب سے یہ الزام لگے کہ ان کے لئے جو راشن آتا ہے اس میں غبن کر کے انتظامیہ ان کو بہت ناقص کھانا کھلاتی ہے اور ان کے علاج کے لئے بھی جیل کے سرکاری ہسپتال میں کوئی بندوبست نہیں ہے جبکہ قیدیوں کو مارا پیٹا بھی جاتا ہے۔

Read more

افغانستان کا نیا بحران، کنفیوژن میں نہ رہیں

پاکستان کے شہر لاہور میں ایک بس کھڑی ہے جس کی آدھی سواریاں کراچی اور آدھی اس کی الٹی سمت پشاور جانا چاہ رہی ہیں۔ بس ایک ہے اور دو الگ الگ سمتوں میں جانے کے معاملے پر سواریاں تقسیم ہیں۔ دونوں طرف کی سواریوں کا بس پر نہ صرف پورا حق ہے بلکہ ان کی مرضی کے بغیر کوئی فیصلہ بھی نہیں ہو سکتا اور بس کی کوئی انتظامیہ اور ڈرائیور بھی ایسا نہیں جو کوئی فیصلہ کر کے بس کو لے کر ایک طرف چل پڑے۔

Read more

افغانستان کے بدلتے حالات: ساری نظریں پاکستان اور طالبان پر

کبھی جب ”غم جاناں“ نہیں ہوا کرتا تھا تو سنا کرتے تھے کہ جوانی دیوانی، مستانی اور لا ابالی ہوا کرتی ہے لیکن جیسے غربت بچوں کو تہذیب سکھا دیتی ہے اسی طرح محرومیاں اور مشکلات بھی بچوں کو وقت سے پہلے بڑا کر دیتی ہیں۔ اب بھی دنیا کے بہت بڑے حصے میں بچے اور جوان اپنے حصے کی زندگی جی رہے ہیں لیکن اس پختون خطے میں نوجوانوں کو گھر کی فکر کھائے جا رہی ہے۔ نوجوان گھر

Read more

کالا پانی کی جیل میں تاریخ کا سب سے بڑا قتل کیسے ہوا؟

جیسے کالا پانی کے ان جزائر پر وائسرائے ہند لارڈ میو کے ساتھ موجود لوگوں کو یہ معلوم نہیں تھا کہ ان کے قریب موجود ایک کمزور جسم کا پٹھان اگلے لمحوں میں کیا قیامت ڈھانے والا ہے اسی طرح کشتی میں سوار ہونے کے منتظر متحدہ ہندوستان کے گورنر جنرل وائسرائے لارڈ میو کے بھی خواب و خیال میں نہیں تھا کہ یہ اس کی زندگی کے آخری لمحے ہیں اور جس جیل کے دورے سے وہ مزید نیک نامی کمانے آیا تھا وہیں جیل اس کا مقتل گاہ بھی بن سکتی ہے۔

انگریز سرکار کی متحدہ ہندوستان میں موجود تمام تر طاقت سے مزین لارڈ میو اپنے سینکڑوں مرد و خواتین دوستوں کے ہمراہ ان جزائر پر آئے تھے تو انہیں اندازہ نہیں تھا کہ انہیں قضا یہاں کھینچ لائی ہے اور وہ قضا بھی کسی بڑی فوج کے حملے کی صورت میں نہیں بلکہ قتل کے الزام میں سزایافتہ ایک اکیلے آفریدی کو کی خیل پٹھان کے ہاتھوں لکھی ہوئی ہوگی۔ لارڈ میو کے ہمراہ حکومتی مشینری کے اہم ترین لوگوں کے علاوہ ان کی اہلیہ بھی موجود تھیں۔ سارا دن محظوظ ہونے اور قہقہے بکھیرنے کے دوران کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا کہ واپسی پر ان کے ہمراہ لارڈ میو نہیں بلکہ ان کی لاش جائے گی۔

Read more

حاکموں کے ساتھ تباہ کن تصویریں بنانے والے

ہمیں یاد ہے چند دہائیاں پہلے جب حکمرانوں کو کچھ خاص قسم کے لوگوں کی حمایت کی ضرورت پڑی تو انہوں نے ان میں سے کسی کو اسلحے اور کسی کو منشیات کا کھلا دھندا کرنے کی اجازت دی یوں بہت ساروں نے کروڑوں اربوں کما لئے ان میں سے کچھ الیکشن میں حصہ لے کر پارلیمان میں پہنچے اور وہاں پہنچ کر عوام کی بجائے اپنے ”محسنین“ کے کام آنے لگے اور جب بھی ضرورت پڑی ان کے ووٹوں اور پارلیمان میں کردار نے حکمرانوں کی ڈولتی نیا کو ڈوبنے سے بچایا یوں دونوں طرف والوں کا کام چلتا رہا۔

وقت کے ساتھ ساتھ ایک طرف ان حکمرانوں کے بچے ملک کے حقیقی ورثا کی صورت میں پلتے رہے اور ہر آنے والی حکومت میں ان کو باضابطہ حصہ ملنے لگا تو ساتھ ہی ان ”نودولتیوں“ کی نسلوں نے بھی اپنے اپنے آبائی علاقوں میں پارلیمان کی نشستوں پر ڈیرے ڈال لئے وہیں بڑے شہروں میں پیسے کے بل پر معززین کی قطاروں میں مستقل جگہ بنالی اب بھی ان کی بڑی بڑی جائیدادیں اور پلازے شہر کے بیچ کھڑے ہیں اور ان میں اضافہ بھی ہو رہا ہے۔

Read more

اسامہ بن لادن ہلاکت کے دس سال، امریکہ اور پاکستان کتنے دور کتنے پاس؟

آج مئی کی دو تاریخ ہے۔
ابھی کل ہی تین بیانات ایک ساتھ نظر سے گزرے ہیں۔ پہلا بیان امریکی صدر جو بائیڈن کا ہے جس میں افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ جن مقاصد کے حصول کے لئے افغانستان آیا تھا وہ حاصل کیے جا چکے ہیں جن میں سب سے بڑا جواز القاعدہ کا کمزور ہونا اور اس کے سربراہ اسامہ بن لادن کا مارا جانا ہے۔

تاہم اسی بیان کے سنگ امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ اس کی ٹیم کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے خطے میں القاعدہ کے دو اہم رہنماؤں نے کہا ہے کہ یہ خام خیالی ہے کہ انہوں نے امریکہ کو معاف کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے امریکی حملے کے بعد اپنی افرادی قوت اور رہنماؤں کو شام، یمن اور دیگر ممالک میں منتقل کر دیا تھا اور اب بھی یہ سب مل کر امریکہ کو اس وقت تک معاف نہیں کریں گے جب تک وہ پوری مسلمان دنیا سے نکل نہ جائے۔

Read more

شکر ہے، سی پیک تو ابھی زندہ ہے!

پاکستانی سیاست بھی کیا خوب ہے کہ ہر کوئی چاہتا ہے کہ عوام کے مسائل اگر حل ہونے ہیں تو صرف ان ہی کے ذریعے ہوں اوراگر ان مسائل کے حل کا ذکر ہونا ہے تو انہی کے حوالے سے ہو تاکہ ان کا کریڈٹ بھی انہیں ہی ملے وہ چاہتے ہیں ہر بیماری ختم ہونی ہو تو اس کے علاج کے لئے لوگوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ یہ صرف انہی کے ذریعے ممکن ہوسکا ہے ہمارا المیہ

Read more

وزیروں کی تبدیلی اور حوالدار کے پکوڑے

اپنے پسندیدہ شاعر احمد فراز کے فرزند شبلی فراز کو جب بھی باضابطہ سیاست کے بعد ان کے لئے مشکل ترین کام یعنی وزارت اطلاعات چلانے (حکومتی اقدامات کا دفاع کرنے ) میں لتھڑتے دیکھا افسوس ہی ہوا کہ اس کام کے لئے کیا مس فٹ بندہ ہے؟ کہاں آ پھنسا ہے؟ اتنی محنت کرنے کے بعد بھی اب خبریں گرم ہیں کہ شاید ان کو بدلنے کا موسم ہو چلا ہے۔ اپنی وزارت اطلاعات کے اس سارے عرصے میں میڈیا کو جوابات دیتے ہوئے ان کے منہ کے جو زاویے بنتے دیکھے اتنے شاید ہی کبھی دیکھے تھے۔ کبھی کبھی تو بہت واضح لگتا تھا کہ انہیں خود بھی اپنے جواب پر یقین نہیں ہے اور ان کے الفاظ اور زبان ایک دوسرے کا ساتھ نہیں دیتے تھے لیکن چونکہ ان کا کام ہی حکومت کا دفاع کرنا تھا تو وہ ایسا کرتے رہے۔

Read more

پی ڈی ایم کے "بیڈ بوائز” ہی اصل وجہ ہیں کیا؟

ہمارے ہاں شہر سے ذرا پرے گاوں دیہات میں شادی ہوتی ہے تو اب بھی باراتیوں کے لئے بسوں اورکہیں کہیں ٹریکٹر ٹرالیوں کا بندوبست کیا جاتا ہے ان باراتوں میں روانہ ہونے سے پہلے یا بعد کچھ لڑکے گاڑی سے اترتے ہیں اورساتھ چلتی کسی دوسری گاڑی میں سوارہو جاتے ہیں ۔ وہ اکثر ایسا دو تین وجوہات سے کرتے ہیں یا تو ان کی اگلی گاڑی پچھلی والی سے زیادہ بہتر ہوتی ہے اوریا اس میں ان کے

Read more

سیاست کی بدلتی کروٹ، کون کس حد تک جانے کو تیار ہے؟

پہلا منظر: سنجرانی کو سینٹ کا چیئرمین بنانے کے لئے پیپلز پارٹی کے یوسف رضاگیلانی نے سات ووٹ اسے دیے۔
دوسرا منظر: پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی کو لیڈر آف دی اپوزیشن بنانے کے لئے سنجرانی نے اسے چھ ووٹ دیے۔

تیسرا منظر: صادق سنجرانی چیئرمین سینٹ اور یوسف رضاگیلانی لیڈر آف دی اپوزیشن۔
چوتھا منظر: اکثریت نہ ہونے کے باوجود صادق سنجرانی چیئرمین سینٹ
پانچواں منظر: اپوزیشن کی اکثریت سے محرومی کے باوجود یوسف رضا گیلانی قائد حزب اختلاف

چھٹا منظر: تحریک انصاف سینٹ میں سب سے بڑی جماعت ہونے کے باوجود چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے عہدوں سے محروم
ساتواں منظر: مسلم لیگ نون اپوزیشن کے سب سے زیادہ ووٹ رکھنے کے باوجود سینٹ میں اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے محروم

Read more

عمران حکومت بچ گئی کیا؟

کوئی کچھ بھی کہے یہ ایک حقیقت ہے کہ حکومت مہنگائی اور اپنی اندرونی کمزوریوں کے مقابلے میں اگر کسی وجہ سے زیادہ پریشان تھی تو وہ اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل اتحاد پی ڈی ایم تھا جو گذشتہ سال 20ستمبرکو عمران خان کو حکومت سے نکالنے کے نعرے پر بنا اورجب تک مولانا فضل الرحمن کی سربراہی میں قائم رہا اورپیپلزپارٹی سمیت سارے اتحادی اس میں سرگرم رہے حکومتی اراکین کے بیانات اورالزامات کی زبان کچھ اور تھی تاہم جیسے

Read more

پختونخوا کے سینیٹ انتخابات میں پیسے کا کردار

قریبا تین دہائیوں سے مسلسل مینڈیٹ بکنے کی خبروں میں رہنے والے خیبرپختونخوا میں سیاسی جماعتوں نے 3 مارچ کو ہونے والے سینیٹ انتخابات کے لئے اپنی منصوبہ بندی مکمل کرلی ہے جن کا مقصد ایک ہی ہے کہ نہ صرف ”اپنوں“ کا ووٹ کہیں اور جانے سے بچایا جائے بلکہ کسی طریقے سے مخالفین کا ووٹ بھی حاصل کیا جائے۔

لیکن صورتحال اتنی سادہ بھی نہیں جتنی دکھائی دے رہی ہے۔ اب کی باران میں بظاہر سب سے زیادہ پریشان دو تہائی اکثریت کی حامل حکومتی جماعت تحریک انصاف ہے جسے ایک سو پینتالیس کے ایوان میں چورانوے اپنے اور اتحادی ”باپ“ (بلوچستان عوامی پارٹی) کے چار اور اسمبلی میں موجود چار آزاد اراکین میں سے بعض کی حمایت بھی حاصل ہے۔ آسان اور عوامی زبان میں بات کی جائے تو حکومت کو اپنے ان 100 ووٹوں کے ساتھ خوشی خوشی سینہ ٹھونک کر میدان میں اترنا چاہیے تھا کہ چاہے ان کا امیدوار جیسا بھی ہو، ان کے ”مخلص، بے باک، نہ بکنے اور نہ جھکنے والے“ منتخب ایم پی ایز انہیں صرف پارٹی کے ساتھ تعلق کی وجہ سے کامیاب کر ہی دیں گے۔

Read more

احمد شاہ مسعود کے بھائی کو پاکستان بدلا ہوا کیوں لگا؟

افغانستان کے کٹر پاکستان مخالف شمالی اتحاد کے مرحوم کمانڈر احمد شاہ مسعود کے گھر کا کوئی فرد کسی دن اسلام آباد بھی آئے گا اور یہاں رہ کر افغانستان کے مستقبل کے نقشے میں اپنے لئے دستیاب رنگوں کا جائزہ بھی لے گا شاید کسی نے سوچا بھی نہیں ہوگا؟

آج سے بیس سال پہلے کسی کے گمان میں بھی نہیں ہوگا کہ یورپی پارلیمنٹ کے سامنے کھڑے ہو کر اس سے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کرنے والے احمد شاہ مسعود کا اپنا بھائی احمد ولی مسعود کسی دن اسی پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد آئے گا اور جن طالبان اور پاکستان کے خلاف اس کا مرحوم بھائی یورپی پارلیمنٹ پہنچا تھا آج وہ انہی طالبان کے ساتھ مل کر افغانستان میں امن کی کسی کوشش کا حصہ بننے پر بات چیت بھی کرے گا۔

یہ دورہ کیوں عجیب محسوس ہوا ہے؟

Read more

امریکہ نے حملہ کیا تو اس بار طالبان اکیلے نہیں ہوں گے

امریکی صدر جو بائیڈن نے 20 جنوری کو اپنی حلف برداری کے وقت افغانستان میں طالبان کے ساتھ امریکی معاہدے پر نظرثانی کے بارے میں جو الفاظ کہے تھے وہ ان کی فوج سے ہوتے ہوئے افغان حکومت کی زبانوں پر بھی آچکے ہیں جس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وہ جو سابق امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ کی جانب سے طالبان کے ساتھ معاہدے پر ناخوش تھے وہ سب اب ہم خیال اور ہم آواز ہو چکے ہیں۔ اس امن معاہدے کے افغان طالبان کے ساتھ کیے جانے کے مخالفین میں امریکی اسٹیبلشمنٹ اور موجودہ افغان حکومت نمایاں تر تھے یہی وجہ ہے کہ صدر ٹرمپ کے جاتے ہی ان کی زبانیں بھی کھل گئی ہیں اور وہ کھلے عام طالبان کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں کہ گزشتہ سال 29 فروری کو امن معاہدے کا حصہ بننے والے طالبان نے جن باتوں کا وعدہ کیا تھا ان میں سے بہت پر انہوں نے عمل ہی نہیں کیا اور یہ کہ وہ القاعدہ کے ساتھ اپنے رابطے بھی ختم نہیں کرسکے ہیں۔

طالبان سے یہ شکوہ کرنے والے امریکی اور موجودہ افغان حکام شاید زمینی حقائق اور طالبان کی بدلی حیثیت کا ویسے ادراک نہیں رکھتے جیسا کہ رکھنا چاہیے تھا۔

Read more

کہیں جمہوریت کی بساط لپٹنے والی تو نہیں؟

جوانی سے بڑھاپے میں داخل ہوتی ہماری نسلوں کو کم ازکم وہ دو دور تو اچھی طرح یاد ہیں جب اندرونی سیاسی عدم استحکام اور بیرونی بنتے حالات نے ہمارے ہاں جمہوریت کی بچھی بساط کو لپیٹ کر ملک کو آمریت کے حوالے کر دیا۔ ان میں ایک وہ دور تھا جب 70 کی دہائی میں ملک کے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف چلنے والی تحریک کو جواز بنا کر اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل ضیا الحق نے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور دوسرا اس وقت جب اکتوبر 1999 میں سابق صدر پرویز مشرف نے میاں نواز شریف کو اقتدار سے نکال کر جیل میں ڈال دیا اور اگلے نو سال کے لئے حکمران بن بیٹھے۔

Read more

عمران خان نے کمراٹ کو ایک کامیاب سیاحتی علاقہ کیسے بنایا؟

عمران خان کے طرز سیاست، حکومت میں آنے کے طریقے اور اپوزیشن کے خلاف مسلسل سخت موقف رکھنے جیسے بہت سے معاملات پر بات کی جا سکتی ہے اور ہو بھی رہی ہے۔ اور حکومت میں دو سال مکمل کرنے کے بعد اب ان کے ناقدین میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے یہاں تک کہ اپنے بھی پرائے ہوتے جا رہے ہیں لیکن ایک چیز ایسی ہے جس پر پاکستان کے زیادہ لوگ اب بھی اتفاق کرتے ہیں کہ عمران خان نے سوشل میڈیا کی طاقت کو جس طرح اپنے مخالفین کے خلاف کامیابی سے استعمال کیا اسی طرح انہوں نے سیاحت کے معاملے پر لوگوں کی رائے کو انتہائی حد تک متاثر کیا جن میں اگر کوئی ایک مثال دیکھنا چاہے تو وہ ہے خیبرپختونخوا کے ضلع اپر دیر کے انتہائی دوردراز جنگلات پر مشتمل علاقے کمراٹ کی طرف لوگوں کی توجہ دلانا ہے۔

پش اور اور اسلام آباد دونوں سے یکساں قریبا تین سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع کمراٹ کوہ ہندوکش کے دامن میں خوبصورت ترین علاقہ ہے جہاں پر جنگل، آبشاریں، دریا، بادل اور خوبصورت پہاڑ سب یکجا ملتے ہیں، حسن ایسا کہ جب تک انسان دیکھے تو جیسے موجود ہے اور جیسے ہی نظروں سے اوجھل ہوا جیسے خواب دیکھ رہے تھے۔

Read more

غصے اورانا کے لینڈ مائنز سے بھری زمین

روحانی سلسلوں میں سے ایک سلسلہ عظیمیہ ہے اس سلسلے کے بڑے پیشوا کا نام قلندربابااولیاء رحمتہ اللہ علیہ ہے ایک بار ان کا ایک پیغام نظروں سے گذرا وہ فرماتے ہیں کہ "مرشداپنے تصرف سے مرید کو دھوکرصاف کرکے اس کے اندرروشنیاں منتقل کرتا ہے اورمرید اگر ایک منٹ کا غصہ کرے تو تین سال کی روشنیاں ضائع ہوجاتی ہیں اورمرشد کے لئے سب سے مشکل کام یہ ہے کہ وہ بار بار مرید کے اندرکی کثافت کو دھوکرروشنیاں

Read more

آئی ایم ایف معاہدہ ڈراؤنا ہے یا "آپ”کی شہرت؟

پاکستان کی تاریخ کا سب سے "ڈراؤنا معاہدہ” پاکستان اورآئی ایم ایف کے مابین ہوچکا۔ ڈراونااس لئے نہیں کہ اس کی بنیاد بڑی سخت شرائط پرہے بلکہ ڈراؤنا اس لئے کہ معاہدے کے ہونے سے قبل ہی اس کے بارے میں اپوزیشن کے خدشات اورموجودہ حکومت کے دوراپوزیشن کے ایسے معاہدوں کے بارے میں وہ بیانات منظرعام پرآئے جن کوہضم کرناکسی کے بس میں نہیں۔ تحریک انصاف کے عمران خان کے ماضی میں اس قسم کے معاہدوں کے بارے میں

Read more

بے لگام پاورسنٹرز کے آگے بے بس حکمران۔۔۔۔

ملک میں جس تیزی سے وزارتیں اوراداروں کے سربراہان تبدیل کئے جارہے ہیں اس سے تو یہ تاثرمل رہا ہے کہ جیسے حکومتیں اوران کے "خیرخواہ وپشت پناہ” ملکی مسائل کا کوئی سنجیدہ حل نکالنا چاہ رہے ہیں۔ ان فیصلوں کے باوجود لوگوں میں اضطراب ہے کہ بڑھتا ہی جارہا ہے خصوصا خیبرپختونخوا کے لوگ جو نہ صرف اس حکومت بلکہ اس سے پہلے کے پانچ سال بھی تحریک انصاف کی حکومت کو دیکھ چکے ہیں زیادہ بے چین ہیں۔

Read more

پشاور شہر یا حکمران سرائے؟

ارد گرد تیزی سے بدلتے حالات کے ایک ہزارقصے ہیں جن کے بارے میں گذشتہ کئی دن سے اپنا یہ پہلا کالم لکھنے کی خواہش رہی لیکن ان تمام موضوعات پر جب بھی لکھنے کے لئے قلم کو کاغذ پررکھا یا انگلیاں اپنے لیپ ٹاپ کے کی بورڈ پر فٹ کیں تو شہر پشاور سامنے آ کھڑا ہوا اور کہا کہ میرا حق ادا کئے بغیر کیسے کسی اور کی طرف جا سکتے ہو؟ میں نے اسے کہا کہ جلد

Read more

تحریک انصاف اور نامزد وزیراعلی محمود خان کو درپیش چیلنجز

تحریک انصاف کو حالیہ انتخابات میں وہ کامیابی ملی ہے جس کی اسے کبھی بھی توقع نہیں رہی تھی۔ غیرمتوقع طورپر ملنے والا نیا مینڈیٹ اس قدر زیادہ ہے کہ تحریک انصاف والوں کو خوشی کے مارے نیند نہیں آ رہی۔ اس سارے عمل میں وہ لوگ ناراض ہیں جنہیں حکومتوں میں عہدے نہیں مل رہے۔ تحریک انصاف کی پچھلی پانچ سال کی بطوراپوزیشن جدوجہد اوراب اس کے اندر کی ناراضیوں کے نتیجے میں لوگوں کی راستے الگ کرنے کی

Read more