کیا آپ نے کبھی سوچا کہ زندگی میں نارمل کیا ہے؟


جب میری ایک مریضہ نے مجھ سے پوچھا ‘ ڈاکٹر سہیل ! آپ ایک ماہرِ نفسیات ہیں۔ آپ کے خیال میں کیا میں ابنارمل ہوں؟’ تو میں مسکرایا اور میں نے کہا ‘یہ تو اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کی نگاہ میں نارمل کیا ہے کیونکہ یہ سادہ سا سوال در حقیقت اتنا سادہ بھی نہیں ہے بلکہ کافی گنجلک ہے؟’

اس مختصر سے مکالمے کے بعد میں نے بہت سے لوگوں سے یہ سوال پوچھا کہ وہ کس طرح کی طرزِ زندگی کو نارمل سمجھتے ہیں تو مختلف لوگوں نے مختلف جواب دیے۔ میں ان لوگوں کو چار گروہوں میں تقسیم کر سکتا ہوں۔

پہلے گروہ کے لوگوں کے مطابق جو بھی کام کسی ملک یا قوم کے اکثر لوگ کرتے ہوں وہ نارمل ہے۔ ایسے لوگوں کی نگاہ میں اگر کسی قوم کے اکثر لوگ شراب پیتے ہیں یا شادی کے چند سال بعد طلاق لے لیتے ہیں تو شراب پینا اور طلاق لینا نارمل ہوگا۔ میں اس قسم کے نارمل کو statistical normal (شماریاتی نارمل) سمجھتا ہوں۔

دوسرے گروہ کے لوگوں کے مطابق وہ سب کام نارمل ہیں جن کی مذہب اور روایت اجازت دیتے ہیں۔ میں اسے religious normal  کہتا ہوں ۔ اگر وہ لوگ مسلمان ہیں تو ان کی نگاہ میں شراب نہ پینا نارمل اور اگر وہ کیتھولک ہیں تو طلاق نہ لینا نارمل کیونکہ ایسے لوگ شراب پینے اور طلاق لینے کو ابنارمل سمجھتے ہیں۔ اسی طرح مسلمان گائے کا گوشت کھانے کو نارمل لیکن ہندو ابنارمل سمجھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے ابنارمل کا تعلق گناہ سے ہے۔ اس لیے وہ سب کام جسے مذہب گناہ سمجھتا ہے ابنارمل ہیں۔ چونکہ دنیا میں مختلف قوموں کے مختلف مذاہب ہیں اس لیے ایک قوم کا نارمل دوسری قوم کے لیے ابنارمل ہو سکتا ہے۔

تیسرے گروہ کے لوگوں کی نگاہ میں وہ سب کام نارمل ہیں جن کی ملک کا قانون اجازت دیتا ہے اور وہ سب کام ابنارل ہیں جن کی قانون اجازت نہیں دیتا۔ میں اسے legal normal سمجھتا ہوں۔ ایسے لوگوں کے خیال میں سرخ بتی پر گاڑی نہ روکنا یا انکم ٹیکس ادا نہ کرنا ابنارمل ہے۔ ایسے لوگ ابنارمل کا رشتہ مذہب سے نہیں لاقانونیت سے جوڑتے ہیں۔ وہ ابنارمل لوگوں کو گنہگار نہیں مجرم سمجھتے ہیں۔

چوتھے گروہ کے لوگوں کی نگاہ میں نارمل کی کسوٹی مذہب یا قانون نہیں صحت کے اصول ہیں۔ ایسے لوگوں کی نگاہ میں چاہے وہ گائے کا گوشت ہو یا سور کا گوشت ۔۔۔ اگر اس میں کوئی جراثیم نہیں ہیں تو اس کا کھانا نارمل اور اگر اس میں جراثیم ہیں اور وہ ہمیں بیمار کر دیں گے تو ان کا کھانا ابنارمل اور مضرِ صحت ہے۔

افراد کی طرح مختلف قوموں کے نارمل اور ابنارمل کے بھی مختلف معیار ہیں۔

بعض قومیں مذہب پر ایمان رکھتی ہیں اور مذہبی قوانین بناتی ہیں ان کی نگاہ میں چونکہ ابنارمل اور گناہ کا تصور خدا کے احکام اور آسمانی کتابوں سے ہے اس لیے اٹل ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔

بعض قومیں سیکولر قانون کی پیروی کرتی ہیں ۔ ایسی قومیں سماجی اور معاشی حالات کے بدلنے کا ساتھ ساتھ قانون بدلتی رہتی ہیں۔ اس لیے نارمل کا تصور بھی بدلتا رہتا ہے۔ انگلستان میں ایک زمانے میں اقدامِ خود کشی کرنے والا مجرم سمجھا جاتا تھا لیکن پھر اقدامِ خود کشی کرنے والوں سے ہمدردی ہوئی اور قانون بدل گیا۔ اب اقدامِ خود کشی کرنے والے انسان کو ہسپتال لے جایا جاتا ہے حوالات میں نہیں اور اس کا علاج کیا جاتا ہے، جیل نہیں بھیجا جاتا۔ بعض ممالک میں آج بھی اقدامِ خود کشی جرم ہے۔

بعض قومیں مذہب اور قانون سے زیادہ صحت کے اصولوں کی پابندی کرتی ہیں۔ ایسی قومیں جسمانی اور ذہنی صحت کے حوالے سے طب ‘سائنس اور نفسیات کی تحقیق کو بہت اہمیت دیتی ہیں۔

میں چونکہ ایک ڈاکٹر اور ماہرِ نفسیات ہوں اس لیے آپ سے نفسیات کے حوالے سے اپنی رائے شیر کرنا چاہتا ہوں۔

میری نگاہ میں خوشحال اور پر سکون زندگی گزارنا نارمل ہے اور اینزائٹی اور ڈیپریشن کا شکار ہونا ابنارمل۔ جب لوگ نفسیاتی مسائل اور ذہنی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں تو ہماری کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے نفسیاتی مسائل کا علاج کروائیں تا کہ ایک صحتمند اور نارمل زندگی گزار سکیں۔

میری نگاہ میں ذہنی صحت کے اصول عیسائیوں۔۔۔ مسلمانوں۔۔۔ یہودیوں اور ہندوئوں سب کے لیے ایک جیسے ہیں اور ڈیپریشن کا شکار ہونا چاہے وہ مرد ہوں یا عورتیں کالے ہوں یا گورے مشرق کے باسی ہوں یا مغرب کے۔۔۔ سب کے لیے ابنارمل ہے۔

ساری دنیا کے ڈاکٹر’ نرسیں اور ماہریں نفسیات نہیں چاہتے کہ کوئی شخص ڈیپریشن کا شکار ہو کر خود کشی کر لے۔ وہ اس کا علاج کر کے اسے صحتمند کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ کیسے انسانوں کے دکھوں کو سکھوں میں بدلا جائے تا کہ وہ نارمل’ صحتمند اور پرسکون زندگی گزار سکیں۔

انسانوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کے راز جاننے اور سمجھنے میں سائنس اور نفسیات کی تحقیق نےہماری مدد کی ہے۔ اس کی ایک مثال سگمنڈ فرائڈ کی نفسیاتی تحقیق ہے۔ فرائڈ نے اپنی تحقیق سے انسانی صحت اور نفسیاتی مسائل کی ایک کسوٹی اور ایک معیار مقرر کیا۔ اس نے انسانی شعور اور لاشعور کی تحقیق سے انسان کی حفاظتی تدابیر اور hierarchy of defence mechanisms  مرتب کی۔ اس تحقیق سے ہمیں ذہنی بیماریوں اور نفسیاتی مسائل کی شدت کا اندازہ ہوا اور انسان کے ذہنی مسائل کی تشخیص اور علاج میں مدد ملی۔

نفسیاتی طور پر سب سے زیادہ بیمار وہ لوگ ہیں جوpsychotic disorders کا شکار ہیں۔ اس کی مثال شائزوفرینیا اور بائی پولر ڈس اورڈر ہے۔

اس سے کم بیمار وہ لوگ ہیں جو personality disorders کا شکار ہیں۔ اس کی مثالیں سکزوئڈ اور اوبسیسیو کمپلسیو پرسنیلٹی ڈس آرڈر ہیں۔

اس سے بھی کم بیمار وہ لوگ ہیں جو anxiety disorders کا شکار ہیں۔ جس کی ایک مثال پینک ڈس ارڈر ہے۔

اس سے اوپر لوگ ذہنی طور پر صحتمند اور نارمل ہیں۔ نارمل لوگوں میں بھی کچھ زیادہ صحتمند ہیں۔ ایسے لوگوں نے اپنی شخصیت میں کچھ خاص خصوصیات پیدا کی ہیں۔

فرائڈ نے ہمیں بتایا کہ اعلیٰ درجے کے mature defence mechanism کی ایک مثال humor ہے۔ جو لوگ اپنی شخصیت میں مزاح پیدا کرتے ہیں وہ زندگی میں زیادہ خوش رہتے ہیں۔ وہ اپنی پریشانیوں اور مسائل کے بارے نہ زیادہ فکر مند رہتے ہیں نہ کڑھتے رہتے ہیں۔ وہ مسائل کا مزاح سے دفاع کرتے ہیں۔

فرائڈ نے میچور ذہنی دفاع کی دوسری مثال sublimation بتائی۔ اگر کسی شخص میں غصہ اور جارہیت زیادہ ہے تو لوگوں سے لڑنے جھگڑنے۔ ۔ ۔ گالی گلوچ اور ہاتھا ہائی کرنے یا قتل و غارت کرنے سے بہتر ہے کہ وہ انسان یا پہلوان بن جائے یا باکسر۔ اس طرح اس کی جارحیت کے اظہار کا بھی موقع ملے گا اور معاشرے میں جنگ و جدل میں بھی کمی آئے گا۔ بلکہ اس کی پہلوانی یا باکسنگ کا مقابلہ دیکھ کر کچھ لوگ محظوظ بھی ہوں گے۔ اسی طرح اگر کسی شخص کو گاڑی تیز چلانے کا شوق ہے تو اسے ٹریفک کے قوانین توڑ کر حادثے کرنے کی بجائے ایک ایمبولنس ڈرائیور بن جانا چاہیے۔ اس طرح اس کی گاڑی تیز چلانے کی خواہش بھی پوری ہو جائے گی اور وہ خدمتِ خلق بھی کر لے گا۔

انسان کی شخصیت کا ایک صحتمند پہلو wisdom بھی ہے۔ جو لوگ دانا ہوتے ہیں وہ خود بھی صحتمند زندگی گزارتے ہیں اور دوسروں کی بھی صحتمند زندگی گزارنے میں مدد کرتے ہیں۔ ہمیں ایسے لوگوں کو سماجی ’ معاشی اور سیاسی اداروں کا رہنما بنانا چاہیے تا کہ وہ ہم سب کی ایک صحتمند معاشرہ قائم کرنے میں مدد کرسکیں اور انسان ارتقا کی اگلی منزل کی طرف سفر کر سکیں اور کرہِ ارض پر پرامن معاشرے قائم کر سکیں۔

جو قومیں صحتمند ہوتی ہیں وہ جذباتیت سے بالاتر ہو کر دانا لوگوں کو اپنا رہنما چنتی ہیں۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ انفرادی اور اجتماعی طور پر صحتمند‘ نارمل اور پرسکون زندگی گزار سکیں تو ہمیں چاہیے کہ ہم طب ‘سائنس اور نفسیات کا مطالعہ کریں ’جسمانی اور ذہنی صحت کے اصول جانیں اور پھر ان اصولوں پر عمل کر کے صحتمند اور خوشحال زندگی گزاریں۔

ایک ماہرِ نفسیات ہونے کی حیثیت سے میں ایک صحتمند۔۔۔۔ خوشحال۔۔۔ اور پرسکون زندگی کو نارمل زندگی سمجھتا ہوں۔

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ کس طرح کی زندگی کو نارمل زندگی سمجھتے ہیں؟

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail