تمھارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خط بنام صدر مملکت منجانب جسٹس قاضی فائز عیسی، یا اس سے پہلے خط (ریفرنس) بنام جسٹس قاضی فائز عیسی منجانب صدر مملکت۔ یہ معاملہ کھڑکی توڑ ہفتے کے بعد اب ایک تحریک کی صورت اختیار کرنے جا رہا ہے۔ خط کا مخاطب کوئی اور ہے اور پیغام کسی اور کے نام ہے۔ اشارہ کہیں اور ہے اور مفہوم کسی اور کو سمجھایا جا رہا ہے۔ دونوں ہی ایک دوسرے سے باز پرس کر سکتے ہیں کہ ”تمھارے خط میں نیا ایک سلام کس کا تھا، نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا؟“

احتساب ہو اور سب کا ہو۔ اوپر سے نیچے تک ہو۔ صرف غریب کا کیوں امیر کا بھی ہو۔ صرف سیاستدانوں کا کیوں جرنیل کا بھی ہو۔ یہ سنتے سنتے کان پک گئے تھے کہ آرمی چیف نے جنرل اور بریگیڈئیر کی سخت سزاؤں پر دستخط کر کے یہ اشارہ دیا کہ اب احتساب ہو گا تو سب کا ہو گا۔ گو کہ اس فیصلے کی ٹائمنگ خاصی معنی خیز ہے۔ ابھی تو ہم چئیرمین نیب کے سر سے پاوں تک احتساب سے ہی نہ نکل پائے تھے۔ کہ جسٹس عیسی کے خلاف ریفرنس بھی دائر ہو گیا۔

پاکستان میں خاص طور پر دو ادارے ایسے ہیں جن کو مقدس گائے سمجھا جاتا ہے۔ ایک عدلیہ اور دوسری فوج۔ فوج کے حالیہ اقدام نے یہ تاثر زائل کرنے میں مدد کی ہے کہ فوج ایک مقدس گائے ہے اور اس کے خلاف کارروائی نہیں ہو سکتی۔ کرپشن اور زمینوں کی الات منٹ سے متعلق الزامات کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔ ویسے معاف کیجئے گا یہ بھی ایک کلیشے ہی ہے کہ فوج پر تنقید نہیں ہو سکتی۔ وہ زمانے لد گئے۔ گذشتہ چند برسوں میں سوشل میڈیا سے لے کر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا تک جس ادارے پر دھڑلے سے تنقید کی گئی وہ اسٹیبلشمنٹ ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف ریفرنس فائل ہو چکا ہے۔ اور قاضی صاحب صدر مملکت کو دو چٹھیاں ارسال کر چکے ہیں کہ آرٹیکل 209 کے تحت ریفرنس فائل کیا ہے تو مجھے بتایا جائے۔ انھوں نے اپنے دوسرے خط میں وزیراعظم کے بیوی بچوں کے اثاثوں پر سوال اٹھائے ہیں اور اس معاملے سے جسٹس صاحب ان کی وکلا برادری اور اپوزیشن کو یہ تاثر ملا ہے کہ اس کا مقصد جسٹس فائز عیسی کی کردار کشی ہے اور حکومت کا یہ اقدام بد نیتی پر مبنی ہے۔ جسٹس صاحب نے خط میں یہ واضح عندیہ دیا ہے کہ یہ کارروائی وزیراعظم کے ایماء پر کی گئی ہے۔

قاضی صاحب کے حق میں بڑی جماعتیں مورچے سنبھال چکی ہیں۔ نواز شریف جیل میں ہیں اور مسلم لیگ کو اس سے نکلنے کا کوئی سرا ہاتھ نہیں آ رہا۔ قیاس ہے کہ عید کے بعد زرداری صاحب کے بھی جیل چلے جانے کے قوی امکانات ہیں۔ ایسے میں قاضی عیسی کے خلاف یہ ریفرنس اپوزیشن کے لئے کسی روشندان سے کم نہیں جس میں سے چھنتی روشنی بلاول بھٹو اور مریم نواز کو روشن مستقبل کی امید دلا رہی ہے۔ کیونکہ ابھی تک صرف وکلا ہی تھے جو حکومت کے خلاف صف آرا نہیں تھے۔ لیکن جسٹس عیسی کے خلاف یہ کیس شاید وکلا برادری کو موجودہ حکومت کے خلاف جسٹس افتخار چودھری جیسی تحریک چلانے پر آمادہ کر دے۔ گو کہ بہت حد تک ممکن ہے کہ معاملہ کہیں بہت پہلے ہی ختم ہو جائے۔ تحریک شروع ہو بھی گئی تو وکلا میں تقسیم نا گزیر ہے۔

جسٹس عیسی کا ماضی اور حال انتہائی شاندار ہے ان کا تعلق ایک نہایت با عزت تاریخی گھرانے سے ہے۔ دھرنا کیس اور کوئٹہ سانحہ کیس کے فیصلے بھی ان سے منسوب ہیں۔ ان کی کریڈیبلٹی پر اب تک کوئی حرف نہیں۔ اگر ایڈیشنل اٹارنی جنرل زاہد فخر الدین جی ابراہیم نے استعفی اس وجہ سے دیا ہے کہ جسٹس عیسی کی ساکھ انتہائی شاندار ہے تو درست لیکن یہ کہہ کر کہ ”سپریم کورٹ کے ججز کی ساکھ ناقابل مواخذہ ہے“ انھوں نے عدلیہ کو مقدس گائے بنا دیا ہے۔

ان سے بہتر ماضی کو کون جانتا ہے۔ ماضی کو کھنگالیں تو کونوں کھدروں میں جائے بنا ہی ایسے نمایاں چہرے ملیں گے جن کے متعصب فیصلوں نے عدلیہ کے وقار کو بلند نہیں کیا بلکہ ٹھیس پہنچائی۔ جسٹس قیوم سمیت ایسے قاضیوں کی کمی نہ رہی جو کسی دباؤ یا مفاد کے تحت اپنے عہدے سے انصاف نہ کر پائے۔ جسٹس قیوم کی بے نظیر بھٹو کو سات سال سزا دینے والی آڈیو ریکارڈنگ کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے۔ ایسے کمزور لمحوں نے پاکستان کی عدلیہ کی جانبداری پر سوال اٹھائے۔ کئی ادوار میں حکمران وقت کے قاضی القضات سے راہ و رسم اور لین دین نے عدلیہ پر اچھے اثرات مرتب نہ کیے ۔ ان ہی حالات نے اس محاورے کو جنم دیا کہ ججز تو سیاستدانوں کی جیب میں ہوتے ہیں۔

جسٹس افتخار چودھری کی تحریک نے جن وکلا کو متحد کیا وہی وکلا تحریک ختم ہونے کے بعد جسٹس افتخار سے مایوس نظر آئے۔ جسٹس افتخار اور ارسلان افتخار کے کردار پر تنقید کی گئی۔ مونٹی کارلو کے چرچے ہوئے۔ جسٹس ثاقب نثار کے کردار پر بہت بحث مباحثہ ہوا۔ دو انتہائیں ہیں ایک طرف جسٹس نثار کے حامی ان کے کاموں کو سراہنے والے تو دوسری جانب ایسے ناقدین جو ان کوتاریخ کا سب سے متنازعہ جج قرار دیتے ہیں۔ ماضی کے کئی قاضی وقت اور حکمران وقت کے بیچ خاصے گہرے مراسم بھی رہے۔

جسٹس فائز عیسی پر ایسا کوئی الزام نہیں کہ انھوں نے کبھی کسی دباؤ یا مفاد میں کوئی فیصلہ کیا ہو۔ گو حکمران جماعت کو حدیبیہ فیصلے پر سخت اعتراض ہے لیکن یہی وہ حکمران ہیں جو قاضی عیسی کے گن گاتے نہیں تھکتے تھے۔ جو ان کی تعریفوں میں زمین آسمان کے قلابے ملاتے رہے۔ لیکن وہ تو چئیرمین نیب کی تعریفوں کے پل بھی باندھے گئے تھے۔ پھر کیا ہوا۔ سیاست بڑا ظالم کھیل ہے دوست کو دشمن اور دشمن کو دوست بنانے میں دیر نہیں کرتا۔

جسٹس فائز عیسی کا کردار اتنے ہائی پیڈسٹل پر ہے کہ ان کو کسی سیاسی جماعت کی حمایت کی ضرورت نہیں۔ مقدس گائے کا اسٹیٹس سمبل اب کسی کے پاس نہیں۔ اب عدلیہ کو مقدس گائے نہ بنائیں۔ چند خواتین و حضرات نے جسٹس صاحب کو ایک برگزیدہ ہستی کا روپ دے ڈالا ہے۔ جناب والا اگر تین دفعہ کے وزیراعظم کٹہرے میں آ سکتے ہیں تو ایک انتہائی قابل فاضل بے داغ ماضی کا حامل قاضی بھی اپنے اوپر بد نیتی یا شفافیت سے لگائے گئے الزامات کے جوابات دے کر اپنے آپ کو حق اور مخالف کو باطل قرار دے سکتا ہے۔ اگر یہ الزامات غلط ثابت ہوئے تو حکمران جماعت کو یہ کیس بومے رینگ کی طرح پلٹ کر زخمی کرے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •