بارش کی ایک رات اور بے خواب ممتا کے سترہ برس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 ”مجھے پہچان لیا ڈاکٹر! “ اس نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایک عجیب اطمینان کے ساتھ کہا۔

میں اسے سو سال کے بعد بھی پہچان لیتا، ابھی تو صرف سترہ سال ہی گزرے تھے۔ میں کیسے بھول سکتا تھا اُسے۔ اس طرح کے واقعات ہر ایک کی زندگی میں نہیں ہوتے ہیں اور جب ہوتے ہیں تو انسان انہیں بھول نہیں سکتا ہے۔ وہ آپ کی زندگی کے ساتھ ساتھ چلتے رہتے ہیں۔ پھر اس کا چہرہ بھی ایسا نہیں تھا کہ بھول جاتا۔ سرخ و سفید کتابی چہرہ، بھرے بھرے ہونٹوں کے بائیں جانب ایک چھوٹا سا سیاہ تل۔ بڑی بڑی چمکتی ہوئی آنکھوں کے نیچے ابھری ہوئی ناک، اتنی خوب صورت ناک میں نے نہیں دیکھی تھی۔ ایسا لگتا کہ اگر ناک اور تل اس کے چہرے سے نکال لیا جائے تو چہرے میں کچھ بھی نہیں رہے گا۔ جب پہلی دفعہ اسے میں نے دیکھا تھا تو وہ حمل سے تھی۔ روز میری مک فوہارٹی نام تھا اس کا۔ میں نے اس کے کارڈ پہ نظر ڈالی۔ روز مری فٹز جیرالڈ لکھا ہوا تھا۔

میں نے فوری طور پر جھوٹ بول دیا کہ نہیں میں نے نہیں پہچانا ہے۔ ساتھ ہی بے شمار خیالات کی بارش میرے ذہن پہ ہوئی، یادوں کا ایک طوفان جس نے مجھے بہت پیچھے پہنچادیا۔ بجلی کا ایک جھٹکا، بادل کی ایک گرج جو مجھے سترہ سال پیچھے کی طرف لے گئی۔

اس رات سخت بارش ہورہی تھی۔ میں وارڈ میں سارا کام ختم کر کے لیبر وارڈ سے خوش ہوتا ہوا نکلا کہ چلو لیبر روم میں سناٹا ہے۔ رات آرام سے گزرجائے گی۔

ڈاکٹر ریزیڈنس میں آکر میں نے کھانا کھایا۔ نو بجے کی خبریں سنیں پھر بی بی سی ٹو پہ کولمبو کے شروع ہونے کا انتظار کرنے لگا۔ کولمبو میرا پسندیدہ پروگرام تھا۔ کولمبو ہمیشہ بغیر کسی ماردھاڑ کے قاتل کو آخر میں پکڑ لیتا۔ تیز و طرار قاتل جو بڑی ذہانت اور محنت سے قتل کا پروگرام بناتے، اسی کی پلاننگ کرتے مگر کولمبو دھیرے دھیرے نہایت ذہانت کے ساتھ کوئی نہ کوئی ایسی غلطی نکال لیتا جہاں قاتل کوخود ہی اپنے آپ کو قانون کے حوالے کرنا پڑتا تھا۔ میں اکثر سوچتا کہ نجانے کتنے لوگ کتنی محنت کرکے ان کہانیوں کو لکھتے ہوں گے اور ہم لوگ دو گھنٹے میں یہ پروگرام دیکھ لیتے ہیں، مگر یہ دو گھنٹے مکمل سسپنس کے ساتھ گزرتے، دیکھنے والا حیران رہ جاتا ہے۔

اس رات بھی شراب خانے میں ہونے والے قتل کے بعد کولمبو نے تانے بانے باندھنا شروع کیے، کہانی آہستہ آہستہ پرتجسس ہوکر تین آدمیوں میں سے قاتل کی نشاندہی کر رہی تھی کہ یکایک ایک خاتون کا سراغ ملتا ہے جو ویسے تو شروع سے کہانی میں موجود ہوتی ہے مگر اس پہ شبہ کی گنجائش نہیں ہوتی۔ کولمبو اس خاتون کو اپنے ثبوت بتانے ہی والا تھا کہ فون کی گھنٹی بجی اور مڈوائف کی آواز آئی کہ فوراً لیبر روم پہنچو۔

روز میری مک فوہارٹی لیبر روم میں لیبر کے آخری مرحلے میں تھی۔

 ”مجھے پہلے کیوں نہیں بلایا؟ “ میں نے مڈوائف سے شکایت کی۔

 ”یہ ابھی ابھی پہنچا ہے اور ہم نے تم کو فوراً بلایا ہے، ابھی تو اس کے کپڑے بھی نہیں بدلے گئے ہیں۔ “ مڈ وائف نے مجھ سے زور سے کہا تھا۔ میں نے معائنہ کیا تو ایسا لگا کہ بچے کی آمد ہونے ہی والی ہے۔ مڈوائف نے ڈلیوری کی ٹرالی تیار کی ہوئی تھی۔

میں نے ہر چیز کو چیک کیا۔ قینچی، دھاگا، سرنج لوکل اینستھیسیا، کارڈ کلیمب، بہت سارے سواب (Swab)، ریگلی فورسب، ویکیوم کپ او سکشن ٹیوب تاکہ بچے کی سانس کی نالی کو فوراً ہی صاف کیا جا سکے۔ سب کچھ موجود تھا۔

 ”بچوں کے ڈاکٹر کو بلایا ہے، ڈاکٹر سوزن کارن ڈیوٹی پہ ہے، فوراً بلاؤ۔ “ میں نے نرس سے کہا تھا۔

 ”میں آ گئی ہوں۔ “ سوزن کی آواز آئی۔

میں نے میری کے چہرے کو پہلی دفعہ بھرپور نگاہ ڈال کر دیکھا۔ خوف سے سفید چہرے پر بڑی بڑی آنکھیں، بھرے بھرے ہونٹوں کے ساتھ کالا سا تل اور آنکھوں کے نیچے ابھری ہوئی ناک۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا، ”روز میری! پریشان نہ ہونا ابھی سب کچھ صحیح ہوجائے گا۔ بالکل نارمل۔ تم اور تمہارا بچہ دونوں بالکل صحیح رہیں گے۔ بالکل گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہو گی۔ جب میں کہوں گا تو زور لگانا۔ ابھی نہیں۔ اگر تم نے میرا کہا مانا تو سب کچھ بالکل ٹھیک ٹھیک ہو جائے گا ذرا سی بھی پریشانی نہیں ہوگی۔ نو مہینے کی مسلسل تکلیف، پریشانی اور دوروں کے خاتمے کا وقت آن پہنچا ہے۔ “

اس نے مجھے پرتشکر نظروں سے دیکھا۔ ”ٹھیک ہے ڈاکٹر! “ اس کی آواز آئی تھی، مجھے احساس ہوگیا کہ وہ مجھ پر اعتماد کر رہی ہے۔ ”بچے کے دل کی دھڑکن ایک سو چالیس ہے“ نرس نے کہا، ”ماں کا بلڈ پریشر 130 / 80 ہے اور پیشاب بھی نارمل ہے اور ہیموگلوبن تیرہ گرام ہے۔ “

 ”ٹھیک ہے۔ سسٹر اس کا چارٹ آگیا ہے؟ کس کی مریضہ ہے؟ “ می نے سوال کیا۔

مڈوائف نے کوئی جواب دینے کی بجائے مجھے آنکھوں سے باہر چلنے کا اشارہ کیا۔ میں باہر آیا تو اس نے بتایا، ”روزمیری غیرشادی شدہ ہے۔ اس حمل کی رجسٹریشن بھی نہی ہے نہ ہی کسی کو اس حمل کے بارے میں پتا ہے۔ پورے نو مہینے اس نے حمل کو چھپا کر رکھا ہے اوراب جب درد شروع ہوا ہے تو خود ہی ٹیکسی لے کر آ گئی ہے اکیلی۔ کوئی بھی اس کے ساتھ نہیں ہے۔ “

میں نے پوچھا کہ ہونے والے بچے کے باپ کے بارے میں کچھ بتایا ہے اس نے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •