ملّا لطیف کی کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب اس نے اپنے کسی رشتہ دار کے لیے کالج کی داخلہ فیس دینے کی غرض سے اپنی پرانی سائیکل بیچ دی تو سائیکلوں والے ملّا کے کان کھڑے ہو گئے۔ ملّا نے دس روپے مہینہ پر ایک نئی ولایتی سائیکل اس کے حوالے کر دی۔ ملّا یہ دس روپے سائیکل کی قسط سمجھ کر لیتا تھا لیکن اس کا دوست انہیں سائیکل کا کرایہ سمجھ کر دیتا تھا۔ جھگڑا تو سولہ مہنیے بعد شروع ہو اجب ملّا نے کہا کہ تمہارے پیسے پورے ہو گئے ہیں اور اب یہ سائیکل تمہاری ہے۔

 وہ بولا کہ میں تو دس روپیہ مہینہ کرایہ دیتا رہوں گا۔ فیصلہ یہ ہوا کہ سائیکل ملّا کی ہے لیکن وہ اسے بغیر کرایہ دیے چلاتا رہے گا، کئی برس بعد جب ملّا فوت ہو گیا تو اس نے ملّا کے بیٹے کو یہ سائیکل واپس کر دی۔ مولوی لطیف کا خاندان میرٹھ سے تھا اور 1857 ءمیں جنگ آزادی میں حصہ لینے کی پاداش میں سرکاری ملازمتوں سے محروم چلا آتا تھا۔ پشت در پشت سے وہ لوہے کا کام کرتے چلے آ رہے تھے۔ پاکستان بننے سے بہت پہلے اس نے نکلسن روڈ پر نہال چند بلڈنگ میں سائیکلوں کی دکان کھول لی۔

 یہ بائیسکل کے عروج کا زمانہ تھا۔ بڑے بڑے رئیس اور سرکاری افسر ڈایئنمو والی سائیکل پر ہینڈل سے آگے بید کی ٹوکری یا پیچھے فوجی تھیلا لٹکائے، ہاتھوں پر سفید دستانے چڑھائے، آنکھوں پر عینک لگائے، سر پر ہیٹ پہنے، بڑی شان سے گھر سے برآمد ہوتے، دفتر جاتے ہوئے راستے میں ملّا سے بریک ٹھیک کراتے اور سائیکل میں ہوا بھروانے کے دوران دعا سلام کرکے رخصت ہوتے۔ ملّا لمبے پٹکے والی سفید پگڑی باندھے، شلوار قمیص پر خاکی زین کی واسکٹ پہنے بکائن کے پیڑ تلے ایک نیچی سی تختی پر بیٹھا پہیے گھما گھما کر سیدھے کرتا، اس کا دنبہ بھی آس پاس کھلا پھرتا جسے وہ بکرا عید کے فوراً بعد خرید لیتا تھا۔

 اصل رونق شام کو شروع ہوتی جب دفتروں سے لوٹنے والے ملازمین ملّا کے پاس رکتے۔ کافی ہاؤس جیسی لوہے اور تار سے بنی دو کرسیاں باہر رکھ دی جاتیں۔ ملّا اپنی تختی پر بیٹھا ان پڑھے لکھے لوگوں کی باتیں سن سن کر خوش ہوتا اورکبھی کبھی تو ان سے بھی بڑی بات کہہ جاتا۔ ملّا کی دکان بہت بڑی تھی۔ کوئی پچاس بائیسکل کرائے پر چلتی تھیں۔ چار پانچ لیڈی بائیسکل بھی موجود تھیں۔ لیڈی بائیسکل میں گدی اور ہینڈل کے درمیان ڈنڈا نہیں ہوتا تھا اور ہینڈل گدی سے اونچا ہوتا تھا۔

 وہ ایسا اچھا زمانہ تھا کہ شہر میں کچھ لڑکیاں سائیکل پر سکول، کالج یا دفتر جاتی نظر آتی تھیں۔ ملّا بہت اچھا کاریگر تھا۔ سائیکل ریس کے کھلاڑی اس سے پہیے اور فریم سیدھے کرانے اور اپنے سائیکل اوور ہال کرانے آتے تھے۔ ارشد درانی، سکندر شاہین اور شاہ رخ بھی یہاں زمین پر بیٹھے نظر آتے تھے۔ کبھی کبھی کوئی جرمن ٹورسٹ اپنی سائیکل اوندھی کر کے اس کا ایکسل کستے ہوئے ملّا سے باتیں کرتا اور ملّا اس کی جرمن کا پنجابی نما اردو میں جواب دیتا۔

 اصل زبان تو خلوص کی ہوتی ہے۔ دکان کے اندر سائیکلیں بڑے سلیقے سے کھڑی کی جاتیں۔ ہر چیز اپنی مقررہ جگہ پر ہوتی۔ نئے ٹائر چھت سے لٹکائے جاتے تھے۔ ایک کونے میں چین کوّر اور دوسرے سپیئر پارٹس رکھے تھے۔ پلاس، پیچ کس اور رینچ (Wrench) اپنی اپنی جگہ پر نظر آتے۔ زنجیر والے تالے اور مٹی کے تیل کی بتیاں لٹکانے کے لیے دیوار پر میخیں گڑی تھیں۔ ملاّ کے شاگرد ہر روز صبح سویرے دکان میں جھاڑو پھیر کر باہر چھڑکاؤ کر دیتے۔

کپڑے سے سائیکلوں کی گرد صاف کرتے اور درخت کے پاس پمپ اور تیل کی کپی رکھ دیتے۔ لوگوں کے گھر سے نکلنے سے پہلے ملّا کی دکان تیار ہوتی۔ کوئی گاہک پیدل چلتا نظر آتا تو شاگرد بھاگ کر اس کی سائیکل پکڑ لاتے اور اسے زمین پر لٹا کر اس کا ایکسل گھماتے اور ٹائر کی ایک طرف سے ٹیوب باہر کھینچ لیتے۔ ایک چھوٹا شاگرد ٹیوب میں ہوا بھرتا اور تسلے میں رکھے پانی میں ڈبو ڈبو کر پنکچر تلاش کرتا۔ پانی کی سطح پر بلبلا نظر آتے ہی پکی پنسل سے نشان لگاتا، ٹیوب کپڑے سے خشک کر کے، ریتی یا ریگ مار سے رگڑتا اور پنکچر لگا دیتا۔

عبدالرحیم کھوکھر کی ملّا لطیف سے بات مکمل بھی نہیں ہونے پاتی تھی کہ ان کی سائیکل ان کے بائیں طرف لا کر کھڑی کر دی جاتی کیونکہ وہ بائیں طرف سے سائیکل پر سوار ہوتے تھے۔ کھوکھر صاحب جاتے ہوئے کہتے، میں نئے ٹائر ٹیوب لے آؤں گا۔ ملّا جواب دیتا، سردیوں میں تو پرانا ٹائر بھی کام دے دیتا ہے، گرمیاں آنے پر تبدیل کر لیجیے گا۔ ان کے رخصت ہونے کے بعد ملّا شوکے سے کہتا، ’کام کا وقت ہو تو بجلی بن جایا کرو۔ آج تم نے پنکچر لگانے میں پورے سات منٹ لگا دیے۔ ‘

شوکا یہ بات سنتے ہوئے ہوا میں اچھل اچھل کر ٹائر میں ہوا بھرتا۔ صبح ملّا کی سائیکلوں کی دکان کھلتی تو اس کے شاگرد مٹی سے بھرے تین چار گملے باہر نکالتے اور نرم ہاتھوں سے گوڈی کر کے ان پر پانی کا چھینٹا لگا دیتے۔ اس نے ان گملوں میں مچھلی کے شکاریوں کی سہولت کے لیے کیچوے پال رکھے تھے۔ پاس ہی بانس کی چھڑیوں کا گٹھا دیوار کے سہارے کھڑا تھا۔ شکاری بیس پچیس فٹ لمبی بنسیوں کو جھٹکے دے دے کر ان کی لچک دیکھتے اور پھر انہیں گھر لے جا کر تیل لگاتے اور دھوئیں سے بھری چولہے کی چمنی میں کھڑا کر دیتے۔

کچھ عرصے بعد ان چھڑیوں کو ملا سے کٹوا کر ان پر پیتل اور تانبے کے جوڑ لگوا لیتے۔ ملا انہیں سکے کے ویٹ ڈھالنا بھی سکھاتا۔ مور کے پروں کے فلوٹ کالے اور لال دھاگے کے نشانات کے ساتھ بنتے۔ فولڈنگ سٹول، پانی کے لیے تام چینی کی فوجی کُپیوں پر خاکی کپڑے کے غلاف، ملہی مچھلی پکڑنے کے لیے بڑے سائز کی کنڈیاں، رہو مچھلی کو دھیرے دھیرے کنارے تک لانے والی چھوٹی مگر مضبوط کنڈیاں اور بام مچھلی کے لیے ڈبیہ میں بند باریک کنڈیاں، یہ سب سامان ملا لطیف کے پاس موجود ہوتا تھا۔

 پاس ہی کنگ ہیٹ مینو فیکچرنگ کمپنی ڈھاکہ لاہور والے عبدالغفار خان شکاریوں کے سر کے ناپ کے مطابق ہیٹ بناتے تھے۔ ملا لطیف کی دکان مچھلی کے شکاریوں کا کلب تھی۔ شام کو یہاں جمع ہونے والے زندگی بھر میں پکڑی ہوئی مچھلیاں اس طرح گناتے جیسے انہیں ایک ہی روز میں پکڑا ہو۔ ہفتے کی شام یہ لوگ دیر تک بھیڈ نالے، ڈیک یا روہی کا پروگرام بناتے، کبھی کبھار ہیڈ مرالہ، سلیمانکی یا پھر بلوکی کا پروگرام بنایا جاتا۔ اتوار کو یہ سب سنگی ساتھی منہ اندھیرے سائیکلوں پر نکل جاتے۔

ملا پنکچر لگانے کا سامان اور پمپ بھی ساتھ رکھ لیتا۔ قیمہ، دال یا آلو کے پراٹھے سب کے سانجھے ہوتے تھے۔ اتوار کی شام اندھیرا ہونے کے بعد واپس آتے۔ سب کے رنگ دھوپ سے سیاہ اور سر میں مٹی کے ذرات۔ محلے کے بچے سائیکلوں کے ہینڈل سے لٹکی سنگھاڑی، پڑی یا کلبوس مچھلیاں دیکھ دیکھ کر خوش ہوتے۔ ملا پانچ وقت کا نمازی تھا۔ اس کی خضاب لگی داڑھی میں نیلاہٹ جھلکتی تھی۔ وہ اذان کی آواز کے ساتھ جاگتا تھا لیکن اس نے کبھی کسی یار دوست پر اپنا مذہب مسلط نہیں کیا۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •