نکلسن روڈ کے بھیا جی

 پاکستان نیا نیا بنا تھا ۔ لاہور میں بے شمار مکان اور دکانیں خالی تھیں لیکن مہاجر قافلوں کے ساتھ آنے والے ایک میاں بیوی نے نکلسن روڈ پر ایک شیشم کے پیڑ کے نیچے ڈیرہ لگا لیا۔ انہوں نے یہاں پان سگریٹ کا خوانچہ رکھ لیا۔ قریب ہی پیتل کے بڑے سے برتن میں پانی پر پان کے ہرے ہرے پتے تیرتے ۔ سگریٹ سلگانے کے لیے دیا جلتا رہتا تھا۔ دن بھر میں تھوڑی بہت بکری ہو جاتی

Read more

ملّا لطیف کی کہانی

جب اس نے اپنے کسی رشتہ دار کے لیے کالج کی داخلہ فیس دینے کی غرض سے اپنی پرانی سائیکل بیچ دی تو سائیکلوں والے ملّا کے کان کھڑے ہو گئے۔ ملّا نے دس روپے مہینہ پر ایک نئی ولایتی سائیکل اس کے حوالے کر دی۔ ملّا یہ دس روپے سائیکل کی قسط سمجھ کر لیتا تھا لیکن اس کا دوست انہیں سائیکل کا کرایہ سمجھ کر دیتا تھا۔ جھگڑا تو سولہ مہنیے بعد شروع ہو اجب ملّا نے کہا

Read more

بانسری والا اور مائی وزیرن

لاہور جیسے شہر میں 45 برس پرانی بات کچھ ایسی پرانی بھی نہیں ہوتی۔ گہرے سانولے رنگ اور تیکھے نین نقش والا بابا مجھ سے اپنے ابا کے نام خط لکھوانے کے بعد اپنا پتا لکھوا رہا تھا۔ جھگیاں، مسجد دائی انگہ، لاہور اسٹیشن ۔ لفظ اسٹیشن کے اتنے بہت سے شوشے دیکھ کر اس نے پوچھا، یہ کیا ہے؟ میں نے بتایا کہ ’یہ اسٹیشن لکھا ہے‘۔ اس نے کہا ’ٹھیک ہے‘ اور پھر اسٹیشن کے الف پر انگلی

Read more