اسلامی قوانین اور جدید دور کے چیلنجز


”کیا اسلامی قوانین جدید دور میں قابل عمل ہیں کہ نہیں؟“ ۔ یہ سوال کچھ نیا نہیں اور مختلف مسلم مفکرین اور اکابرین اس سوال پر صدیوں سے مباحثے کرتے آئے ہیں۔ کچھ دن قبل برطانیہ میں مقیم ڈاکٹر عائشہ بخاری نے مجھ سے رابطہ کر کے یہ شکوہ کیا کہ میڈیا صرف چٹپٹے اور سنسنی خیز موضوعات کی رپورٹنگ کرتا ہے اور علمی موضوعات سے کنارہ کش رہتا ہے۔ محترمہ فیملی فرینڈ ہونے کے علاوہ مرحوم شاعر محسن احسان کی صاحبزادی ہیں اور ہم نے قریبا ساتھ ہی پی ایچ ڈی کے سفر کا آغاز کیا تھا۔

ڈاکٹر صاحبہ کی خواہش تھی کہ جرمنی میں منعقد ہونے والی ایک بین الاقوامی ریسرچ کانفرنس پر کچھ تحریر کیا جائے۔ چونکہ کانفرنس کا موضوع تھا ”اسلامی قوانین کو درپیش چیلنجز اور نئے راستوں کی تلاش“ اس لیے اس کو عوامی دلچسپی کا موضوع سمجھ کر ڈاکٹر صاحبہ سے حاصل کردہ تفصیلات کا خلاصہ قارئین تک پہنچانے کے وعدے کو ایفا کر رہا ہوں

اس بین الاقوامی کانفرنس کا اہتمام جرمنی میں واقع میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ نے برطانیہ کی دو جامعات یونیورسٹی آف وارک اور یونیورسٹی آف کاؤنٹری کے تعاون سے کیا تھا۔ کانفرنس کا ایک مقصد تو اسلامک لا سے وابستہ مختلف سکالروں اور، محققین کو اکٹھا کرنا تھا وہیں اس کانفرنس کے ذریعے پروفیسر شاہین سردار علی کی اسلامی قانون کی اسکالرشپ میں بے مثال خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا جانا بھی شامل تھا۔ شاہین سردار علی صاحبہ ماضی میں پشاور یونیورسٹی کے لا کالج میں پروفیسر رہی ہیں اور اب ایک طویل عرصے سے یونیورسٹی آف وارک کے لا سکول میں اسلامک لا کی پروفیسر ہیں۔

وہ ناروے کی اوسلو یونیورسٹی میں بھی لا کی پروفیسر رہ چکی ہیں۔ ان کے جدت پسندانہ خیالات کی عکاسی اس بات سے ہوتی ہے کہ انہوں نے اپنی پہلی کتاب کا موضوع اس دعوے کو بنایا ہے کہ خدا کے نزدیک عورت مرد برابر ہیں لیکن صرف مردوں کے نزدیک ایسا نہیں ہے۔ پرویز مشرف دور میں انہیں نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن کی پہلی چیئرپرسن اور کے پی کی نگران کابینہ میں وزیر کے عہدے پر بھی متعین کیا گیا تھا۔ شاہین سردار صاحبہ اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ برائے غیر قانونی حراست کی وائس چیئر پرسن رہ چکی ہیں اور اس وقت وہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے تحت قائم اسلامی جمہوریہ ایران پر فیکٹ فائنڈنگ مشن کی رکن کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں پروفیسر شاہین سردار ”ماڈرن چیلنجز ٹو اسلامک لا“ کتاب کی مصنفہ بھی ہیں جسے اسلامی قوانین کی اسکالرشپ میں بہت پسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

کانفرنس میں متعدد شاگرد ریسرچروں اور شریک سکالروں نے پروفیسر صاحبہ کی علمی خدمات کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اپنے تجربات اور مشاہدات کا ذکر کیا۔ اس کے علاوہ چونکہ کانفرنس کا بنیادی مقصد اسلامی قوانین پر جدیدیت کے چیلنجز کا جائزہ لینا تھا اس لیے اس کے حصول کے لئے تین کلیدی موضوعات کو منتخب کیا گیا تھا۔ ایک، اسلامی آئینی اصول، دوئم، مسلم دنیا میں خاندانی قوانین میں اصلاحات، اور سوئم، تعلیمی اداروں میں اسلامی قوانین کا نصاب۔

کانفرنس میں امریکہ، یورپ، اور برطانیہ سے اسلامی قانون کے اسکالرز، ماہرین تعلیم، ججز، اور غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندوں کو مدعو کیا گیا تھا تاکہ کلاس روم، کورٹ روم اور سڑکوں پر اسلامی قانون کو درپیش چیلنجز پر بات چیت کی جا سکے۔ ایک تحریر میں اتنی بڑی کانفرنس کا خلاصہ ممکن نہیں اس لیے میں یہاں کا فرنس میں پروفیسر صاحبہ کی اعزازی تقریر تک محدود رہوں گا۔

کانفرنس کا آغاز ڈاکٹر نجمہ یساری اور ڈاکٹر عائشہ شاہد کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ پہلے پینل کی صدارت پروفیسر عبدال پلیوالا نے کی جس میں پروفیسر شاہین سردار علی کی بطور استاد، ساتھی اور اسلامی قانون کی اسکالر کے طور پر خدمات پر مختلف مبصرین نے تفصیلی اظہار خیال کیا۔ اس موقع پر شاہین سردار نے اپنی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ”میں قانون کے ایک کثیر الجہتی میدان میں ایک وسیع کینوس پر کام کرتی ہوں جس میں روایتی طریقے، مذہبی اصول، رسمی اور غیر رسمی ملکی قانونی نظام اور بین الاقوامی قانون کے دائرے آپس میں الجھتے رہتے ہیں اور ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔“ اپنے تجربات اور مشاہدات کا نچوڑ انہوں نے پانچ قیمتی اسباق کی صورت میں پیش، گویا بقول ساحر لدھیانوی

دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں
جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا ریا ہوں میں

© Max Planck Institute for Comparative and International Private Law
© Max Planck Institute for Comparative and International Private Law

پروفیسر صاحبہ نے اپنی تقریر میں فرمایا کہ

۔ 1 جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو سب سے اہم سبق جو مجھے ریاستوں، حکومتوں، معاشروں اور کمیونٹیز کے تجربات سے ملا ہے، وہ ہے ”عاجزی“ ۔ یعنی شمولیت کے اصول کو فروغ دینا اور دوسروں کے متعلق عقل کل بننے سے باز رہنا۔

2۔ مجھے یہ ماننے میں تامل نہیں کہ اسلامی قانونی روایات، انسانی حقوق، حکمرانی اور بین الاقوامی قانون کے کسی بھی پہلو پر کوئی بھی موقف حتمی یا فیصلہ کن نہیں ہے کیونکہ میرے چار دہائیوں پر محیط تجربے نے مجھے قوانین اور پالیسیوں کی مشکلات اور پیچیدگیوں کو قبول کرنے کی ترغیب دی ہے۔

3۔ مجھے ’نظریاتی‘ قانون یعنی اوپر سے آئے شرعی قوانین اور زمین پر جنم لینے والے ’زندہ‘ قانون کے درمیان ہمیشہ سے موجود تناؤ کا بخوبی احساس ہے۔ کیونکہ میں زمین پر کان لگا کر گلی محلوں میں اٹھنے والی آوازوں کو توجہ سے سنتی ہوں کیونکہ یہیں پر تو مذہب اور انسانی حقوق کو عملی انداز میں رونما ہوتے دیکھا جاسکتا ہے۔

4۔ برابری اور عدم امتیاز کو فروغ دینے کے لیے بنائی گئی پالیسیاں ضروری نہیں کہ اپنی تاثیر میں ایسی ہی ہوں جیسے پالیسی ساز اعلان کرتے ہیں

5۔ زمینی حقائق یہ ہیں کہ دنیا میں جو لوگ طاقت اور اختیار کی پوزیشن میں ہیں ان کے عملی اور اسٹریٹجک سیاسی اور بعض اوقات ذاتی مفادات ان کے فیصلوں اور پالیسی سازی کی بنیاد بنتے ہیں۔ چاہے یہ اسلامی قانونی روایات ہوں یا بین الاقوامی انسانی حقوق بشمول خواتین اور بچوں کے حقوق، قوانین بنیادی طور پر اس بنیاد پر منظور ہوتے ہیں کہ کون کس کردار میں کام کر رہا ہے اور آیا فیصلہ سازوں کی ’اسمبلی لائن‘ میں ہم خیال افراد ہیں یا نہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب ریاستیں انسانی حقوق کے معاہدوں کی توثیق کرنے کا فیصلہ کرتی ہیں تو اکثر اوقات ضروری نہیں کہ انسانی حقوق سے محبت ہی اس فیصلے میں کارفرما ہو۔

جیسا شروع میں ذکر ہو چکا ہے کہ کانفرنس میں کچھ اور سوالات مثلاً فیملی لا اور اسلامی قوانین کے ارتقائی عمل پر بھی پر مغز تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ان دیگر موضوعات پر کبھی الگ سے کچھ لکھ لوں گا۔ قارئین سے التماس ہے کہ پروفیسر شاہین سردار کے پانچ نکات پر اپنے افکار سے آگاہ کریں کیونکہ علمی بحث کبھی منجمد نہیں ہونی چاہیے۔ اگر کچھ معقول سوالات یا مختلف نکتہ ہائے نظر مجھ تک پہنچ پائیں تو انہیں پروفیسر صاحبہ کی خدمت میں بنفس نفیس پیش کردوں گا تاکہ ان کے جوابی موقف سے آگاہی ہو سکے۔ ختم شد۔

© Max Planck Institute for Comparative and International Private Law
© Max Planck Institute for Comparative and International Private Law

Facebook Comments HS

ڈاکٹر حیدر شاہ

مصنف برطانیہ کی ہارٹفورڈ شائر یونیورسٹی میں درس و تدریس سے وابستہ ہیں اور ریشنلسٹ سوسائٹی آف پاکستان کے بانی ہیں۔ ان سے hashah9@yahoo.com پر رابطہ کیا جاسکتا ہے

haider-shah has 22 posts and counting.See all posts by haider-shah