غیر مسلمان پاکستانیوں کے نام کھلا خط

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے غیر مسلم شہریو! کبھی آپ نے سوچا ہے کہ آپ کی شناخت پر سینیٹ، قومی وصوبائی اسمبلیوں میں اس وقت 37 لوگ بیٹھے ہوئے ہیں ان میں ہندو اور مسیحی سب سے زیادہ ہیں۔  سکھ و دیگر برادریوں سے بھی چند ہیں لیکن اس کے باوجود مذہبی شناخت کی بدولت جب بھی کسی مذہبی گروہ کو کسی امتیازی رویے، امتیازی قوانین، سماجی نا انصافی، معاشرتی، ظلم زیادتی یا جبری تبدیلی مذہب طرح کی کسی ظلم زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو متعلقہ برادری کی شناخت پر ایوانوں میں بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے شازو نادر ہی کوئی آواز سنائی دیتی ہے۔

اس رویے کی بدولت غیر مسلمان پاکستانی جو کہ 2017 ء کی افراد شماری کے مطابق 3303615 مسیحی 3324392 ہندو جاتی 519436 شیڈول کاسٹ 457104 احمدیوں 145442 سکھ، پارسی و دیگر غیر مسلمان پاکستانی جو مجموعی طور پر 7749988 بنتے ہیں اوران 7749988 کے ووٹوں کی تعداد 29 مارچ 2018 ء کے الیکشن کمیشن کے اعلامیے کے مطابق ہندو ووٹرز 1777289 مسیحی ووٹر 1638748 اور دیگر غیر مسلمان شہریوں کے ووٹوں کی تعداد 210330 جو کہ مجموعی طور پر 3626365 ووٹ بنتے ہیں۔  یہ سارے ووٹر اتنے نمائندے ہونے کے باوجود اپنے آپ کو لاوارث اور سیاسی یتیم سمجھتے ہیں۔

اس کی ایک وجہ تو ہمارا سماجی نا انصافی پر مبنی معاشرہ ہے جو کہ کمزور کے لئے بالکل غیر محفوظ ہے چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب رنگ فرقے اور مسلک سے ہو۔ لیکن غیر مسلم پاکستانیوں کی بے چینی کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ان کے حلقے کے ایم این اے، ایم پی اے ایسی صورت میں جب ایسی کسی صورت حال کا سامنا عددی اعتبار سے کسی چھوٹے گروہ کو ہو تو عموماً ایسی صورت میں حلقے کا نمائندہ زیادہ ووٹوں والی برادری کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے اور متعلقہ برادری کا نمائندہ کیونکہ اپنی برادری کے ووٹوں سے منتخب ہو کر نہیں آتا لہٰذا وہ ایسی صورت میں اپنی پارٹی مفادات کے ساتھ ہوتا ہے ناکہ متعلقہ برادری کے ساتھ اور اس میں اس بیچارے کا کوئی قصور بھی نہیں ہوتا کیونکہ وہ ہمیں جواب دہ نہیں ہے۔  لہٰذا اس کی ہمدردی اسی کے ساتھ ہو گی جس نے اسے چاہے ہماری شناخت پر ہی لیکن جنبش قلم سے سینیٹر، ایم این اے یا ایم پی اے بنا دیا ہوتا ہے۔

اس کے لئے یقیناً وطن عزیز کی سیاسی اشرافیہ بھی ذمہ دار ہے اور ہم عام لوگ بھی اور ہمارے سماجی، مذہبی، سیاسی رہنما بھی۔ جو آج تک کوئی ایسا انتخابی نظام وضع ہی نہیں کروا سکے۔  جس سے اس ملک کے تقریباً اٹھتر لاکھ دھرتی کے بچوں جو کہ اس ملک میں آزادی ہند، قیام پاکستان، تعمیر پاکستان اور دفاع پاکستان میں بھی دھرتی کے دوسرے بچوں کے ساتھ پیش پیش رہے ہیں۔  وہ چاہے روپلو، کولہی ہو جوگندر ناتھ منڈل ہوں، دراب پٹیل ہوں، جسٹس بھگوان داس ہوں، سوبھو گیان چندانی ہوں یا دیگر ایسے ہزاروں پاکستان کے قیام تعمیر و تشکیل کے معمار ہوں۔  سردار ہری سنگھ ہو جنہوں نے قائد کی آواز پر اپنے خاندان کے 129 افراد کی قربانی دے کر امرتسر سے لاہور ہجرت کی ہو۔ یا راجہ تری دیو ہو جس سے اپنی راج دہانی (ریاست) چھوڑ کر سقوط ڈھاکہ کے بعد قائد کے وطن سے اپنی آخری سانسوں تک وفاداری نبھائی۔

اس میں وہ بے شمار پارسی جو جدید کراچی کے معمار ہیں ان کی خدمات بھی کسی سے کم نہیں۔  اس طرح اس ملک کے مسیحی بچے بھی دوسرے پاکستانی مسلم و غیر مسلم پاکستانیوں کی طرح اس دھرتی کے بچے ہیں۔  آزادی ہند کے سپاہی بھی ہیں قوم و معاشرے کے معمار بھی ہیں اور محافظ، غازی اور شہید بھی ہیں غرض یہ اٹھتر لاکھ کے قریب غیر مسلمان دھرتی کے بچے آج بھی دن رات اپنی اپنی بساط کے مطابق اس ملک قوم و معاشرے کی تشکیل میں مصروف عمل ہیں۔

 لیکن ان سب حقائق کے باوجود بھی یہ پاکستانی شہری اپنے بنیادی سیاسی حقوق سے کیوں محروم رہے۔  اس کے لئے ہم غیر مسلم پاکستانیوں کے لئے وضعکیے  گئے اب تک انتخابی نظاموں کا جائزہ لیتے ہیں اور دیکھتے ہیں ستر سال میں ان دھرتی واسیوں کے لئے کون کون سے انتخابی نظام تھوپے گئے۔  اس کے لئے یہاں اپنی کتاب ”دھرتی جائے کیوں پرائے؟ “ سے اقتباس پیش کرتا ہوں۔

ہماری اس سیاسی پسماندگی کی ریاست بھی ذمہ دار ہے۔  ریاست اس لئے کیونکہ 70 سالوں میں ایسا انتخابی نظام نہیں دے سکی جس سے ہماری سیاسی تربیت ہوتی۔ ریاست کی اس ذمہ داری کو پورا نہ کرنے کا اندازہ لگانے کے لئے آپ کو ریاست کے اپنے غیر مسلمان شہریوں پر پچھلے 70 سالوں میں تھوپے گئے انتخابی نظام کا مطالعہ کریں۔  1947 ء سے لے کر 1970 ء تک نامزدگیاں ہی ہوتی رہیں، اس کے بعد 1970 ءسے 1976 ء تک جو تقریباً 5، 6 سالہ دور میں سے صرف ایک ہندو رانا چندر سنگھ اور دوسرے بدھسٹ راجہ تری دیورائے، جن کے ووٹر بنگلادیش رہ گئے تھے اور لیڈر پاکستان کی اسمبلی میں ان کی نمائندگی کررہاتھا۔

 اس کے علاوہ مسیحی، سکھ، پارسی اور دیگر غیر مسلم پاکستانیوں کی نمائندگی نیہں تھی۔ تیسرا دور تقریباً 8 یا 9 سال پر محیط ہے اس میں جمہوریت پسندوں اور آمروں نے غیر مسلمان پاکستانیوں کو ایک نظر سے ہی دیکھا اور اس دور میں کٹھ پتلی نمائندے نامزد ہوتے رہے جو نمائندے تو اپنی اپنی مذہبی کمیونٹی کے ہوتے ہیں لیکن دراصل وہ رکھوالے اپنے نامزد کرنے والوں کے مفادات کے ہوتے۔  چوتھا دور جو کہ تقریباً چودہ سال پر محیط ہے اس میں پاکستان کی 38 سالہ سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ غیر مسلمان پاکستانیوں کو اپنے نمائندے خود منتخب کرنے کا حق دیا گیا۔

1985 ء میں پاکستان کے وجود میں آنے کے تقریباً 38 سال بعد پہلی دفعہ غیر مسلمان پاکستانیوں کی نمائندگی بذریعہ انتخابات دینے کی منظوری دی گئی اور اس کے طریقہ انتخاب کو بغیر کسی منصوبہ بندی کے اقلیتوں پر تھوپ دیا گیا۔ اس طرح جداگانہ طریقہ انتخاب میں اقلیتی ممبران کو قومی اسمبلی کے لیے پورا پاکستان حلقہ بنا دیا گیا اور صوبائی نشست کے لیے پورا صوبہ حلقہ بنا دیا گیا۔ جو کہ نمائندگی دینے کے نام پر اقلیتوں کے ساتھ ایک سنگین مذاق تھا کہ وہ اچھوتوں کی طرح صرف اپنے لوگوں سے پورے پاکستان سے ووٹ مانگیں۔

پاکستان کے غیر مسلمان خاص کر مسیحی چند ایک کو چھوڑ کر مالی طور پر ویسے ہی بڑے کمزور ہیں۔  اس انتخابی نظام میں قومی اسمبلی کے لئے حلقہ پورا پاکستان اور صوبائی انتخاب کے لئے حلقہ پورا صوبہ ٹھہرا۔ مسیحیوں کے لئے یہ کڑا امتحان تھا کیونکہ مسیحی تو آباد بھی پورے پاکستان کے ہر صوبے کے ہر شہر اور گاؤں میں ہیں۔  لیکن ان بیچاروں نے 1985 ء، 1988 ء، 1990 ء، 1993 ء اور 1997 ء میں جداگانہ طریقہ انتخاب میں حصہ لیا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
اعظم معراج کی دیگر تحریریں
اعظم معراج کی دیگر تحریریں