طوائفوں کی بچیاں خوبصورت کیوں ہوتی ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب سے مجھے کہانیاں افسانے لکھنے کی لت لگی۔ ہمیشہ ہی میں کسی نہ کسی سچی کہانی کی تلاش میں رہتا۔ میر ا دل کرتا میرے پاس بیٹھنے والا ہر شخص مجھے اپنی زندگی کی کوئی کوئی نہ کوئی ایسی سچی کہانی سنائے جو میرے لیے دلچسپ ہو اور میں اسے اپنے لفاظ کا جامہ پہنا کر اپنی یادوں کی ڈائری میں محفوظ کر لوں۔ عید کی چھٹیاں تھیں پورا پولیس کالج خالی تھا۔ میں اور میرا روم میٹ انسپکٹر بندو خان عید پہ ڈیٹین تھے۔ جب میں جناب احسان دانش کی کتاب ”جہاں دانش“ پڑھ پڑھ کر تھک گیا تو میں نے بندو خان سے کہا۔

سر ہے تو عید کا دن، لیکن کتنا بور ہے۔ شاید وہ بھی چپ چاپ لیٹے لیٹے تھک چکے تھے۔ انھوں نے میری ہاں میں ہاں ملائی اور کہا بابا۔ ”تیرا کمرے میں ہونا یا نہ ہونا ایک برابر ہے۔ “ پتہ نہیں اس کتاب میں ایسا کیا ہے؟ جو تم نکالنے بیٹھ گئے ہو۔ مطلب وہ بھی میرے ساتھ باتیں کرنا چاہتے تھے۔ میں نے ہنستے ہوئے کتاب کو ایک طرف رکھا۔ اپنے سرکاری صندوق سے آڑوؤں کا شاپر نکال کر بندو خان صاحب کے سامنے رکھ دیا اور کہا۔

سر، کتابوں کے سہارے ہی تو زندہ ہوں۔ ورنہ یہ تنہائی، گھر سے دوری اور عید جیسے تہوار پہ چھٹی نہ ملنا میری جان ہی لے جاتا۔ خیر چھوڑیں آپ آڑو کھائیں اور آج کوئی ناقابل فراموش کہانی سنائیں۔ اپنی زندگی کا کوئی ایسا واقعہ، جسے آپ کبھی بھی بھول نہ پائے ہوں۔ تو سرد آہ بھر کر کہنے لگے، بابا جی۔ پولیس افسر کی تو پوری زندگی ہی ناقابل فراموش واقعات سے بھری ہوتی ہے۔ کیا کیا سناؤں؟ تو میں نے کہا۔ کچھ تو سنائیں سر۔ تو انھوں نے شاپر سے ایک آڑو اٹھایا، اپنے تکیے سے رگڑ کر صاف کرتے ہوئے وہ کہنے لگے۔

بندوخان۔ ”بابا جی انیس سو بانوے کی بات ہے جب بطور ٹی، اے، ایس، آئی میری تعیناتی تھانہ ٹبی سٹی لاہور میں ہوئی۔ وہاں ڈیوٹی کے اوقات کار بڑے عجیب تھے۔ رات دس بجے ڈیوٹی شروع ہوتی اور صبح اذان فجر تک ہم گلیوں میں پیدل گشت کیا کرتے۔ میرے ساتھ جیرا اور فضل دین سپاہی ہوا کرتے تھے۔ ان کے ہاتھ میں لمبی لمبی بانس کی سوٹیاں اور میرے ہاتھ میں سیاہ چھڑی ہوا کرتی تھی۔ وہ بھی کیا وقت تھا نہ بندوق نہ پستول اور نہ ہی بم دھماکے۔

رات بھر ہم گشت کیا کرتے اور پورا دن پھر ہم سو کر گزارتے۔ طبلے، سارنگی، ڈھولکیوں اور گھنگروؤں کی آوازیں کیا سماں باندھ دیا کرتی تھیں۔ ایسا لگتا تھا شہر کا شہر اس محلے کی گلیوں میں امنڈ آیا ہے۔ ہر رات ہم کسی نہ کسی تماش بین کی یا کسی دلال کی ٹھکائی کیا کرتے تھے۔ آمدن بھی خوب ہوتی۔ جیرا اور فضل دین ایک عرصہ سے اس تھانہ میں تعینات تھے۔ وہ اس بازار کی ہر اونچ نیچ اور یہاں نوکری کے طور طریقوں سے بخوبی واقف تھے۔

میں نیا نیا تھانیدار تھا۔ انھوں نے مجھے کہا۔ ”سر جی اس تھانے میں اگر عزت سے نوکری کرتی ہے تو طوائفوں سے اور دلالوں سے دور ہی رہنا۔ ہم نے بڑے بڑے کبھی خان تھانیداروں کو یہاں سے بے عزت ہوکر نکلتے دیکھا ہے۔ “ اور ایک بات اور سر جی۔ آپ نے نوٹ کیا ہوگا، کنجر کتنے بدشکل بدصورت ہوتے ہیں مگر ان کی بچیاں خوبصورت ترین، اب اس کا مطلب تو آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے؟ یہ طوائفیں صرف اور صرف خوبصورت مردوں سے بچے پیدا کرتی ہیں۔ جیرے کا اشارہ میری خوبصورتی کی طرف تھا۔ میں جیرے اور فضل دین کی اس بات کو بخوبی سمجھ رہا تھا کیوں کہ اللہ نے مجھے بھی بہت خوبصورت نوجوان بنایا تھا۔ لیکن یہ سب جیرا اور فضل دین مجھے کیوں بتا رہے تھے۔ اس بات کی سمجھ بہت دیر بعد مجھے آئی۔

شام سات بجے کا وقت تھا۔ میں اپنے کمرے میں بیٹھا سرکاری صندوق میں رکھے رشوت کی کمائی کے پیسے گن رہا تھا جب منشی الہی بخش نے مجھے آکر کہا۔
منشی۔ ”سر جی آپ کا فون ہے“
میں۔ حیرت سے میرا فون؟
منشی۔ جی کوئی خاتون ہیں، کہہ رہی ہیں بندو خان سے بات کروائیں۔

میں (سرگوشی کے انداز میں ) ۔ میرے گھر میں تو فون لگا ہی نہیں، پھر میرے گھر کی کوئی خاتون بھلا مجھے فون کیوں کرنے لگی؟ فون تک جاتے جاتے میں نے خود سے کئی سوال کیے۔ میں نے رسیور اٹھایا اور کہا جی ہیلو۔ تو سامنے سے ایک خاتون گویا ہوئیں۔

خاتون۔ بندو خان کتنی بری بات ہے، آپ کو ہمارے تھانے میں لگے ڈیڑھ ماہ ہوگیا اور آپ میرے دفتر ہی تشریف نہ لائے۔ ( طوائفیں اپنے کوٹھے کو دفتر کہا کرتی تھیں ) ۔
میں۔ جی دفتر آپ کا کون سا دفتر ہے؟ اور میں وہاں کیوں آؤں؟
خاتون۔ ( ہنستے ہوئے۔ ) اچھا میں اپنا بندہ بھیجتی ہوں آپ کو لے جائے گا۔ باقی باتیں دفتر میں بیٹھ کر کریں گے

میں۔ جی مگر۔ ابھی میں نے بات پوری ہی نہ کی تھی کہ کال کٹ گئی۔ میں حیران تھا۔ میری حیرانی اس وقت اور بھی بڑھ گئی جب ایک پان تھوکتا ہوا کالا سیاہ لمبا تڑنگا شخص میرے کمرے کے دروازے میں آکھڑا ہوا۔

وہ شخص۔ سر جی مجھے کرن باجی نے بھیجا ہے۔ وہ آپ کو دفتر بلا رہی ہیں۔
میں۔ کون کرن باجی؟ اور مجھے کیوں بلا رہی ہیں؟
وہ شخص۔ سر جی وہ آپ کی کچھ خدمت کرنا چاہتی ہیں۔

میں نے افسرانہ رعب کے ساتھ ڈانٹتے ہوئے اس شخص کو کہا۔ دفع ہو جاؤ۔ مجھے کسی دفتر شفتر نہیں آنا۔ دوبارہ ادھر شکل دکھائی تو حوالات میں بند کردوں گا۔
وہ شخص۔ ( ہاتھ جوڑ کر ) سر جی میں تو نوکر ہوں۔ مجھے معاف کر دیں دوبارہ نہیں آؤں گا۔

دن گزرتے رہے۔ میں کرن اور اس کے فون کو بھول چکا تھا۔ ایک دن منشی نے مجھے ایک درخواست پکڑائی اور کہا ”بندو خان یہ درخواست لو او ر اس خاتون سے ملو اس کے کوٹھے کے سامنے کوئی تنور والا ہے جو اسے تنگ کرتا ہے اشارے کرتا ہے اور آنکھیں مارتا ہے۔ ایس ایچ او صاحب نے درخواست تمھارے نام مارک کی ہے۔ “

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •