’بودھوں کا بن لادن‘ کون ہے؟

سوامی ناتھن نٹراجن - بی بی سی ورلڈ سروس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ مساجد کو ’دشمنوں کے اڈے‘ اور مسلمانوں کو ’پاگل کتے‘ کہتے ہیں اور ان پر برمی خواتین کے اغواء اور ریپ کا الزام لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ لوگ بہت زیادہ بچے پیدا کرتے پیں۔

کئی برسوں تک میانمار میں حکام دنیا کے اس سب سے زیادہ متنازعہ راہب کو تحفظ فراہم کرتے رہے ہیں جس سے ان کو نفرت پھیلانے کا موقع ملا۔ لیکن اب آنگ سان سوچی پر حملے کے بعد حکام نے ان کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے اور ان کی بغاوت کے الزامات کے تحت گرفتاری کا امکان ہے۔

تو آشین وراڈو آخر ہیں کون؟

وراڈو سب سے پہلے سن 2001 میں منظر عام پر آئے جب انہوں نے مسلمانوں کے کاروباری بائیکاٹ کی اپیل کی۔

روہنگیا مسلمان
2017 میں بڑی تعداد میں روہنگیا مسلمان میانمار چھوڑنے پر مجبور ہوئے

سن 2003 میں انہیں 25 سال قید کی سزا سنائی گئی لیکن 2010 میں عام معافی کی وجہ سے وہ جیل سے باہر آ گئے۔ لیکن جیل کے اس تجربے نے بھی ملک کی مسلمان اقلیت کے خلاف ان کے غصے کو کم نہیں کیا۔

وراڈو پریس کو انٹرویو دیتے ہوئے بہت تحمل سے بات کرتے ہیں لیکن عوامی اجتماعات میں ان کا لب و لہجہ بالکل مختلف ہوتا ہے۔ ان کی نفرت انگیز تقاریر اسلام دشمن جذبات ابھارتی ہیں۔ انہوں نے مسلمان مردوں کی بودھ خواتین سے شادی کے خلاف زبردست مہم بھی چلائی تھی۔

انہوں نے ایک جگہ کہا کہ ’آپ کسی سانپ کو اس لیے نظر انداز نہیں کر سکتے کہ وہ چھوٹا ہے‘۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر مہم چلائی کہ مسلمانوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے بودھ ثقافت خطرے میں ہے۔

فیس بک نے سن 2018 میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف تقاریر کی وجہ سے ان کو بلیک لسٹ کر دیا۔ وراڈو نے اس کے بعد کہا تھا کہ وہ متبادل پلیٹ فارم تلاش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ یو ٹیوب استعمال کریں گے اور اگر اس کے ذریعے ان کا پیغام زیادہ لوگوں تک نہیں پہنچا تو وہ ٹویٹر کا سہارا لیں گے۔ انہوں نے روس کے سوشل میڈیا نیٹ ورک پر بھی اپنی وڈیو شیئر کیں۔ گزشتہ برس اپریل میں پڑوسی ملک تھائی لینڈ میں بھی، جو خود ایک بودھ اکثریت والا ملک ہے، ان کے تقریر کرنے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

وراڈو کی مقبولیت اور میانمار کے مسلمان کی مشکلات میں اضافہ، جو آبادی کا پانچ فیصد ہیں، ایک ساتھ دیکھنے میں آیا۔ جولائی 2013 میں عالمی جریدے ٹائم کے کور پر وراڈو کی تصویر ’بودھ دہشت کی تصویر‘ کے عنوان کے ساتھ شائع ہوئی۔ وراڈو نے سن 2013 ہی میں بی بی سی کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’میرے بارے میں غلط فہمی پائی جا رہی ہے اور نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ میرے خیال میں ایک گروپ ہے جو مجھے بدنام کرنے کے لیے میڈیا کو پیسے دے رہا ہے۔‘

سن 2015 میں ایک ڈاکومنٹری فلم میں انہیں ’بودھ بن لادن‘ کہا گیا اور پھر مغربی میڈیا میں ان کے لیے یہ اصطلاح استعمال کی جانے لگی۔ وراڈو اس موازنے کو مسترد کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں تشدد سے نفرت ہے۔

اکیاون سالہ وراڈو تنازعات کا خوب فائدہ اٹھاتے ہیں جن میں سے زیادہ تر ان کے اپنے ہی پیدا کیے ہوئے ہوتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی خصوصی ایلچی یانگہی لی
اقوام متحدہ کی خصوصی ایلچی یانگہی لی نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف تشدد کے بارے میں کہا کہ اس میں نشل کشی کی جھلک ہے۔

سن 2015 میں اقوام متحدہ نے میانمار میں مسلمان اقلیتوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی تفتیش کے لیے ایک ایلچی کو روانہ کیا۔ وراڈو نے اس ایلچی کے لیے ’کتیا‘ اور ’طوائف‘ کے الفاظ استعمال کیے۔

اقوام متحدہ کے ایلچی کی رپورٹ میں سفارش کی گئی کہ میانمار کی اعلیٰ فوجی قیادت کے خلاف نسل کشی کے الزامات کے تحت تفتیش ہونی چاہیے۔ میانمار کی حکومت نے اس رپورٹ کو مسترد کر دیا اور وراڈو کی طرف سے بھی جوابی حملے کیے گئے۔ انہوں نے گزشتہ برس اکتوبر میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’جس دن اقوام متحدہ یہاں آئی وراڈو بندوق کے ساتھ ان کا سامنا کرے گا۔‘

میانمار کا کوئی سرکاری مذہب نہیں ہے لیکن معاشرے پر بودھ مت کا بہت اثر ہے۔ 90 فیصد لوگ اسی مذھب کے پیروکار ہیں۔ صدیوں تک بودھ خانقاہوں کو سرکاری حمایت حاصل رہی جو 19ویں صدی میں برطانوی دور کے آغاز کے وقت ختم ہوئی۔

بودھ عبادت گاہیں
بودھ مذہب کا میانمار کے معاشرے پر گہرا اثر ہے

میانمار میں جگے جگے پھیلی ہوئی بودھ خانقاہیں بڑے پیمانے پر زرعی زمین کی مالک ہیں۔

ملک کی فوج 4 لاکھ افراد پر مشتمل ہے اور یہاں فوجی آمریت کی طویل تاریخ ہے۔ ملک میں بودھ راہبوں کی تعداد تقریباً 5 لاکھ ہے اور انہیں معاشرے میں بہت عزت اور احترام حاصل ہے۔

وراڈو ابتدائی طور پر 969 نامی تحریک کا حصہ تھے۔ اس تحریک کے حامیوں کے مطابق 9 کے ہندسے سے مراد بودھ کی خصوصی صفات ہیں، 6 کا ہندسہ بودھ کی تعلیمات اور دوسری بار 9 کا ہندسہ ’سنگھ’ کی خصوصیات کے لیے ہے۔

وراڈو بدھ راہبوں سے خطاب کرتے ہوئے
وراڈو کی شخصیت کی وجہ سے ’ما با تھا‘ تحریک بہت تیزی سے مقبول ہوئی

لیکن حقیقت میں 969 زیادہ تر مسلم مخالف ہونے کی وجہ سے مشہور تھا۔ اسے ریاست کی حمایت بھی حاصل تھی۔ اس وقت ملک کے صدر نے کھلے عام اس گروپ اور اس کے سب سے اہم رہنماء کی حمایت کی تھی اور وراڈو کو ’بودھ کا بیٹا‘ کہا تھا۔

اس کے بعد وراڈو ایک اور تنظیم ’ما با تھا‘(برما حب الوطن تنظیم) کے سربراہ بن گئے جس کی بنیاد 2014 میں رکھی گئی۔ یہ تیزی سے ملک بھر میں پھیلی، لیکن 2017 میں اس پر پابندی لگا دی گئی۔

اس کے بعد بھی وراڈو منڈالے میں میں اپنی خانقاہ سے کام کرتے رہے۔ انہوں نے خانقاہ میں مستقل بنیادوں پر ایسی تصاویر لگائی تھیں جو ان کے بقول مسلمانوں کی طرف سے کیے جانے والے تشدد کا ثبوت تھیں۔

سن 2013 میں بی بی سی کو ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ’مسلمان صرف اس وقت تک ٹھیک رہتے ہیں جب وہ کمزور ہوں۔ طاقت ملنے پر وہ بھیڑیوں کا روپ دھار لیتے ہیں جو بڑے بڑے گروہوں میں شکار کرتے ہیں۔‘

’وہ اپنے علاوہ کسی کو انسان نہیں سمجھتے، وہ مسیحیوں اور ہندؤوں پر حملے کرتے ہیں۔ بلکہ وہ سب کو نشانہ بناتے ہیں۔ اگر آپ کو یقین نہیں آتا تو آپ طالبان کو نیوکلیر ٹیکنالوجی دے کر دیکھیں، میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ آپ کا ملک جلد ہی ختم ہو جائے گا۔‘

وراڈو اکثر سفر میں رہتے ہیں۔ انہوں نے سری لنکا کی تنظیم ’بی بی ایس‘ سے قریبی روابط قائم کیے ہیں۔ یہ تنظیم بھی مسلمانوں کے خلاف پر تشدد مظاہروں کی وجہ سے جانی جاتی ہے۔

سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں سن 2014 میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’آج بودھ مت خطرے میں ہے‘ اور خطرہ محسوس ہونے کی صورت میں ہمیں ایک دوسرے کو سہارا دینا ہے۔

میانمار میں لیکن روایتی خانقاہیں ان کی شہرت سے خوش نہیں۔ حکومت کی حمایت یافتہ ’سنگھ کونسل‘ نے 2017 میں ایک سال کے لیے ان پر تقریر کرنے کی پابندی لگا دی تھی۔

لیکن ان کے لیے حقیقی مسائل کا آغاز اس وقت ہوا جب انہوں نے ملک کی سب سے مقبول شخصیت کو نشانہ بنایا۔

اپریل کے مہینے میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’وہ ایک فیشن کرنے والی کی طرح تیار ہوتی ہے، میک اپ کر کے اونچی ہیل والے جوتوں میں گھومتی پھرتی ہے، غیر ملکیوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔‘

میانمار میں پولیٹکل سائنس کے ایک ماہر نے کہا کہ وراڈو بہت ہی مقبول راہب ہیں اور ان کے حامی مسلمانوں پر ان کے حملوں سے خوش ہوتے ہیں، لیکن آنگ سان سوچی پر حملے سے ان کی شہرت کو نقصان پہنچا ہے۔

آکسفورڈ کی تعلیم یافتہ آنگ سان سوچی کا عہدہ ’سٹیٹ کونسلر‘ کا ہے اور وہ ملک کے موجودہ صدر کے بہت قریب ہیں۔

میانمار کے آئین کے مطابق وہ اپنے بچوں کے غیر ملکی شہری ہونے کی وجہ سے ملک کی صدر نہیں بن سکتیں۔ ملک کی سویلین حکومت اس قانون کو ختم کرنا چاہتی ہے اور وراڈو آئین میں اس تبدیلی کے مخالف ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 9626 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp